حُسین شناسی کا سفر۔32۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
830

قسط بتیس

اگر یہ جنگ
اقتدار کی جنگ ہوتی
امام حسین علیہ السلام میدان کربلا میں
اپنے بچے اور خواتین کیوں لے کر آتے
یہ جنگ اقتدار کے لئے نہیں بلکہ خالص مذہب کے لئے تھی
دین اسلام کو بچانے اور اس میں تحریفات کو روکنے کے لئے تھی
دوسری طرف
یزیدی حکومت ان نفوس قدسیہ پر
قیامت برپا کرنے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھی
چنانچہ 3 محرم الحرام بروز جمعہ
عمر بن سعد چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ
مقابلہ کے لئے کوفہ سے کربلا پہنچا
عمر بن سعد نے
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیجا
کہ
آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
’’ اہل کوفہ نے مجھے لکھا تھا کہ ان کے پاس آؤں
اب اگر وہ مجھ سے بیزار ہیں
تو
میں واپس مکہ چلا جاتا ہوں‘‘
جب ابن سعد کو یہ جواب ملا
تو
اس نے ابن زیاد کو یہ بات لکھ بھیجی
کہ
امام حسین علیہ السلام
اہل کوفہ کی ان سے بیزاری پر واپس مکہ جانا چاہتے ہیں
لیکن
ابن زیاد نے جواب دیا
کہ
امام حسین علیہ السلام سے کہو وہیں رکیں
ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دو
اور حسین ع سے کہو
کہ
وہ خود اور ان کے ساتھی یزید بن معاویہ کی بیعت کر لیں
جب وہ بیعت کر لیں گے
تو
ہم سوچیں گے کہ اب کیا کرنا چاہئے؟
محرم کی تیسری تاریخ کی شام کو
حبیب ابن مظاہر قبیلہ ابنی اسد میں گئے
ا ور ان میں سے جانبازامداد حسینی کے لیے تیار کئے
وہ انھیں لارہے تھے
کہ
کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی
اس نے 400 سوکالشکر بھیج کر اس کمک کو روکوا دیا
چوتھی محرم الحرام بروز ہفتہ
ابن زیاد نے
مسجد جامع میں ایک خطبہ دیا
جس میں
اس نے
امام حسین علیہ السلام کے خلاف
لوگوں کو بھڑکایا
اور کہا
کہ
“حکم یزید سے تمھارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں
تم اس کے دشمن حسین (ع) سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ “
اس کے کہنے پر
بے شمار لوگ آمادہ کر بلا ہو گئے
اور
سب سے پہلے
شمر بن ذي الجوشن نے روانگی کی درخواست کی
چنانچہ شمر کو چارہزار
ابن رکاب کو دوہزار
ابن نمیر کو چار ہزار
ابن رھینہ کوتین ہزار
ابن خرشہ کو دو ہزار سواردے کر روانہ کر بلا کردیا گیا
پانچویں محرم الحرم بروز اتوار
شیث ابن ربعی کو چار ہزار
عروہ ابن قیس کو چار ہزار
سنان ابن انس کو دس ہزار
محمد ابن اشعث کو ایک ہزار
عبداللہ ابن حصین کو ایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کربلا کر دیا گیا
چھٹی محرم الحرام بروز پیر
خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار
کعب ابن الحروکوتین ہزار
حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا
ان کے علاوہ
چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد
ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا
کہ
“اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں
ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں
تجھے چاہئے
کہ
بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے ”
اسی تاریخ کو
خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا
جس میں
عمر ابن سعد کے لیے لکھا
کہ
یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے
اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے
ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی
عمر سعدکے نام ایک خط لکھا
کہ
” مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے
تو چھپ کر امام حسین سے باتیں کرتا ہے
دیکھ
میرا خط پاتے ہی
امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے
اور انھیں جلد سے جلد موت کے گھاٹ اتار نے کی کوشش کر”
ساتویں محرم الحرام بروز منگل
عمر ابن حجاج کو
پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا
کہ
امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے
پھر مزید احتیاط کے لیے
چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو
ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا
اور پانی کی بندش کر دی گئی
پانی بند ہو جانے کے بعد
عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی
جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا
پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی
تاریخ لکھتی ہے
اس طعنہ زنی کا جواب
حضرت عباس علیہ السلام نے نے دیا
وہ اپنے خیمہ سے 19قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ
ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا
اور یہ بتادیا
کہ
ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے
لیکن ہم
اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں
آٹھویں محرم الحرام بروز بدھ
شب کو خیمہ آلِ محمد سے پانی بالکل غائب ہو گیا
اس پیاس کی شدت نے
بچوں کو بے چین کر دیا ہے
امام حسین (ع) نے حالات کو دیکھ کر
حضرت عباس علیہ السلام کو پانی لانے کا حکم دیا
آپ 30 سواروں اور 20 پیادوں کی سرکردگی میں
چند سواروں کو لے کر نہر فرات کی طرف تشریف لے گئے
رات کے وقت فرات کی طرف روانہ ہوئے
نافع بن ہلال جملی پرچم لے کر اس دستے کے آگے آگے جارہے تھے
یہ افراد عباس علیہ السلام کی قیادت میں شریعۂ فرات تک پہنچ گئے
عمرو بن حجاج زبیدی جو فرات کی حفاظت پر مامور تھا
اصحاب حسین علیہ السلام کے ساتھ لڑ پڑا
اصحاب حسین علیہ السلام کے ایک گروہ نے مشکوں میں پانی بھر دیا
اور علمدار حسین علیہ السلام اور نافع بن ہلال سمیت
باقی افراد نے دشمن سے لڑ کر ان کی حفاظت کی
اور بڑی مشکلوں سے پانی لائے
وَلِذَالِکَ سُمِیَ العَبَّاسُ السقَاء
اسی سقائی کی وجہ سے عباس(ع) کو سقاء کہا جاتا ہے
رات گزرنے کے بعد
جب نو محرم الحرام بروز جمعرات کی صبح ہوئی تو

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY