قسط چوالیس
ابھی تک لڑائی کا انداز یہ تھا
کہ
ایک ایک شخص ایک ایک کے مقابل میں نکلتا تھا
مگر شامی لشکر سے جو نکلا وہ بچ کر نہ گیا
اس لئے
عمرو بن حجاج نے اپنے لشکر کو پکارا
اور ۔۔کہا
“ لوگو!
جن لوگوں سے تم لڑرہے ہو
یہ سب اپنی جان پر کھیلے ہوئے ہیں
اس لئے
آیندہ کوئی شخص تنہا ان کے مقابلہ میں نہ جائے گا
ان کی تعداد تو اتنی کم ہے
کہ
اگر تم لوگ
ان کو صرف پتھروں سے مارو
تو بھی ان کا کام تمام ہوجائے گا
کوفے والو!
طاعت اورجماعت کی پوری پابندی کرو
اس شخص (حسین ع) کے قتل میں
کسی شک وشبہ اور تذبذب کو دل میں راہ نہ دو
کہ
حسین دین سے بھاگا ہوا ہے
اور اس نے یزید بن معاویہ کی مخالفت کی ہے
عمربن سعد کو بھی عمرو بن حجاج کی یہ رائے پسند آئی
چنانچہ اس نے فرداً فردا ًمبارزت سے روک دیا
اور
عام جنگ کا آغاز ہوگیا
عمر بن حجاج میمنہ کی طرف سے حضرت حسین ع پر حملہ آور ہوا
تھوڑی دیر تک آپس میں کشمکش جاری رہی
اس معرکہ میں
مشہور جان نثار مسلم بن عوسجہ اسدی شہید ہوگئے
مسلم بن عوسجہ اسدی کو
صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے
انہوں نے 24 ہجری میں
فتح آذربائیجان میں حذیفہ یمان کے ہمراہ
جو کارنامے انجام دئے وہ تاریخ میں موجود ہیں
آپ کا شمار
شریف، عابد، اہل مروت اور سخی افراد میں سے ہوتا تھا
نو محرم کی شام میں
امام علیہ السلام کا وہ خطبہ
جس میں
امام علیہ السلام نے
جب انصار اور احباب سے واپس جانے کو کہا تھا
تو اعزاء کی طرف سے
حضرت عباس علمدار علیہ السلام
اور انصار کی طرف سے
جناب مسلم بن عوسجہ نے کہا تھا
” یہ ہو ہی نہیں سکتا
ہم اگر
دنیا میں بار بار آیئں
بار بار مارے جائیں اور بار بار جلا دئے جائیں
تب بھی
آپ کی معرفت اور ساتھ نہیں چھوڑیں گے “
مسلم بن عوسجہ اسدی کی شہادت
امام حسین علیہ اسلام کی خدمت میں شہادت عظیم ہے
شب عاشور
جب خندق کے گرد آگ جلانے پر
لشکر کفار سے لڑائی ہوئی تھی
تو آپ ہی نے منہ توڑ جواب دیا تھا
جب مسلم بن عوسجہ
مسلم بن عبداللہ اور عبداللہ بن خشکارہ بلخی کے ہاتھوں شہید ہوئے
تو
شبت ابن ربعی اگر چہ دشمن تھا
اپنے ساتھیوں سے بولا
” افسوس تم ایسے شخص کے مرنے پر خوشی کر رہے ہو
جس کے
اسلام پر احسانات ہیں
جس نے جنگ آزربائیجان میں مشرکوں کی کمر توڑ دی تھی “
مسلم بن عوسجہ اسدی کی شہادت کے بعد
آپ کے فرزند خلف بن مسلم بن عوسجہ
میدان میں آئے اور 30 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے
غبار چھٹا تو لاشے پر نظر پڑی
حضرت حسین ع اور حبیب ابن مظاہر قریب تشریف لے گئے
کچھ کچھ جان باقی تھی فرمایا
“ مسلم تم پر خدا رحم کرے “
حضرت حسین ع کے بعد حبیب ابن مظاہر نے انہیں جنت کی بشارت دی
اور کہا
اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا
کہ
میں عنقریب تمہارے پاس پہنچوں گا
تو
تم سے
وصیت کرنے کی درخواست کرتا اور اسے پوری کرتا
مسلم بن عوسجہ میں بقدر رمق جان باقی تھی
حضرت حسین ع کی طرف اشارہ کرکے کہا
کہ
صرف ان کے بارے میں وصیت کرتا ہوں
کہ
جب تک تمہارے بدن میں جان باقی ہے
ان کا دفاع کرنا
اور
اپنے قتل ہونے تک
ان کی مدد اور حمایت سے ہاتھ نہ کھینچنا
حبیب ابن مظاہر نے جواب میں کہا
میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا
وصیت کے بعد
مسلم بن عوسجہ نے اپنے محبوب آقا کے سامنے جان دیدی
مسلم کی موت پر
شامی فوج میں بڑی خوشی منائی گئی
کوفہ فوج کے دائیں بازو نے
عمرو بن حجاج زبیدی کی کمانڈ میں حملہ کیا
لیکن
لشکر حسین کی مزاحمت کا سامنا نہ کر سکے اور پیچھے ہٹ گئے
عمرو بن حجاج زبیدی نے اپنی فوج کو حکم دیا
کہ
وہ مبارزہ جنگ کی بجائے دور سے ہی تیر اندازی کریں
کوفہ کی فوج کے بائیں بازو نے
شمر بن زالجوشن کی سربراہی میں حملہ کیا
اور بے نتیجہ محاصرہ کیا
اور
گھڑسواروں کے کمانڈر نے
ابن سعد کو
ان کی مدد کے لئے مزید پیادہ اور تیر انداز بھیجنے کو کہا
شبث ابن ربعی ، جو پہلے مولا علی ع کا حامی تھا
اب کوفہ کی فوج میں شامل تھا
اور
ابن زیاد کے پیادہ فوج کی سربراہی میں تھا
جب اسے حملہ کرنے کا حکم دیا گیا
تو
اس نے کھلے دل سے کہا
جاری ہے













