عجیب سی کیفیت ہے کبھی امید کبھی ناامیدی ۔کبھی اطمینان کبھی بے چینی ایک خبر کی تکلیف سے نکلتے ہیں کہ دوسری اس سے بھی زیادہ بھیانک سنائی دیتی ہے ۔ایسے لوگ جنہیں ہم کبھی بھی گرتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے اس طرح گر رہے ہیں جیسے سوکھے پتے ،ہمارا اشارہ ہے سابق اسپیکر اسمبلی کی طرف انہوں نے جس طرح اپنے ملک کے محافظوں کو ایوان میں کھڑے ہو کر نیچا دکھانے کی کوشش کی بلکہ دکھایا بھی وہ کسی صورت کسی بھی پاکستانی محب وطن کے لئیے قابلِ قبول نہیں ہے انڈیا کے میڈیا نے جس طرح ان بیانات پر شادیانے بجائے اور جو کچھ ہماری اُس فوج کے لئے کہا جو ہر دم اپنے وطن کی حفاظت ہماری حفاظت کے لئے جان کی بازی لگاتے ہیں وہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے ۔لوگ اس غصے سے ابھی نکلے نہیں کہ ان کے ساتھی یعنی نون کے بڑے یہ کہہ کر ہماری رہی سہی ہمدردی جو اُن لوگوں کے ساتھ تھی جو نون کے اچھے لوگ ہیں ختم کئے دے رہے ہیں ۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نہ نواز نے کچھ غلط کہا نہ مریم صفدر کچھ غلط کہہ رہی ہیں اور نہ ہی یہ بیانات غلط ہیں ۔
ہمیں دکھ صرف اتنا ہے کہ ہم انہیں مخالف سمجھتے تو تھے لیکن اس حد تک گِر جائیں گے یہ ہمیں امید نہیں تھی ۔لیکن نہ جانے کیوں جب وکی لیکس ٢ہوا اور نواز کی تقرہیر کے بعد مریم نے ایک جلسے میں کہا کہ “اس وقت سے ڈرو جب نواز بولے گا ۔‘ ‘اُس دن نہ جانے کیوں ہمیں لگا تھا کہ اگر یہ کسی آخری حد تک گئے تو بس ایک یہ ہی حربہ ان کے پاس ہوگا کہ ہم سب راز کھول دیں گے ۔اب کوئی پوچھے بھائی تمہارے حلف کا کیا بنا جو تم نے اُٹھایا تھا کہ ملک کی سالمیت یا اسکے بارے میں کی گئی کوئی بھی بات تمہارے سینے میں ملک کا راز رہے گی ۔
پھر ہم نے سوچا کہ ہم بھی کن لوگوں سے امید لگا بیٹھے تھے وہ جو صرف اور صرف اپنے اقتدار اور خاندان کے آگے کسی کو نہیں گردانتے ۔پھر ہمیں یہ بھی دکھ ہوا کہ ہم نے کیسے کیسے کینہ پرور اور بغضی لوگوں کو اپنے اوپر اتنا عرصہ مسلط رکھا ۔مریم صفدر اب بھی ضمانت کے مزے لے رہی ہیں ہمیں اپنے قانون پر افسوس ہے کہ وہ کس طرح ان لوگوں کو ضمانت دے کر بے فکر ہو جاتا ہے ۔مریم کے جوانوں کے پروگرام میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ،جو نعرے لگے اور جو آوازیں اُٹھیں وہ انتپہائی خوفناک محسوس ہوئیں لیکن جب ادارے خاموش ہو جائیں تو سمجھ میں نہیں آتا کدہر دیکھیں کوئی عام خاتون بات کرتی تو وہیں سے پکڑ کر لے جاتے ۔اور یہ جو کہتے ہیں کہ عورت کی وجہ سے نرمی ہے تو کہاں انصاف میں عورت مرد کی تقسیم ہے سزا سب کے لئے ایک جیسی ہے نرمی صرف چند مقامات پر ہے جس کا علم لازم ہونا چاہئے۔
ہمین لگتا ہے ہم نے اعتبار کھو دئے اعتماد کھو دئے ، لوگ اس نہج پر پہنچ گئے جہاں نہ سچ کی تمیز ہے نہ جھوٹ کی ،ایک زمانہ تھا جب خبریں پڑھ کر یا ریڈیو پر سُن کر کوئی بھی یہ نہیں سوچتا تھا کہ یہ جھوٹ ہوگی ۔ پھر ٹی وی آیا اور ایک نیا رنگ خبروں اور پروگراموں کے زریعے پھیلنے لگا اچھے پروگرام ہوتے تھے خبریں پڑھنے کا طریقہ انتہائی با وقار تھا اور خبریں بھی شاید اس طرح نہ دی جاتی ہوں جس طرح اب بازار سا لگا ہے ۔جسے جو مال پسند آئے خرید لے دیکھ لے سُن لے ۔یہاں تک بھی کچھ غلط یا نقصان دہ نہیں لیکن جب سے اجھوٹ اور غلط خبروں کی بو چھار ہوئی ہے جب سے ان تمام میڈیا ھائوسز اور اینکرز نے بھی اپنا اعتماد کھو سا دیا ہے ۔ہر وقت کہتے ہیں لوگ بھوکے مر رہے ہیں ۔ہمیں حیرت ہے کہ مہنگائی ساری دنیا میں ہو رہی ہے لیکن ہمارے میڈیا میں کچھ لوگ صرف اور صرف مہنگائی ٹماٹر اور چینی کی گردان کرتے نظر آتے ہیں پروگرام کسی بھی موضوع پر ہے کوئی نہ کوئی مہنگائی نکال کر بیٹھ جاتا ہے لگتا ہے کہ دنیا کی حالت سے دور دور کا کوئی واستہ نہیں ۔
ہمارے ملک کی اپوزیشن شخصیات کے سحر میں اتنی مبتلا ہے کہ سمجھ سے باہر ہے کہ وہ اس ملک کے حق میں ہیں یا صرف اور صرف اپنی پارٹی کے بڑوں کو بچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔پہلا جلسہ ہوا اس میں ایک مجرم کا خطاب ہوا جس میں ملک یا عوام کی نہیں صرف اور صرف اپنے بغض اور مخالفت کا رونا رویا گیا اور اس حد تک گئے کہ وہ باتیں بھی کر ڈالیں جو ایک بڑے عہدے پر رہنے والے کو کسی بھی صورت زیب نہیں دیتی تھیں کیونکہ وہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم ملک سے وفادار رہیں گے وقت کیسا بھی ہو ۔
دوسرا جلسہ ہوا وہاں کے منتظمین نے ایک نا اہل لیڈر کی تقریر نہیں ہونے دی ۔لیکن دوسرا ڈرامہ رچایا گیا ۔اور ایسا ڈرامہ جس کا نہ سر تھا نہ پیر لیکن میڈیا پھر کمر بستہ ہوگیا ۔ہم صرف یہ حیران ہیں کہ ملک کی بات ہو تو انسان بہت بار سوچتا ہے کہ کیا اس کے حق میں ہے اور کیا اس کے لئے برا ہے لیکن ہماری حزبِ مُخالف کے لوگ کسی بھی ادارے کسی بھی منصب پر ہوں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں لگتی کہ ملک کہاں ہے ،وہ صرف اپنا مال بچانے کے لئے ہر قدم اُٹھانے کو تیار ہیں ،
جو کچھ ہو رہا ہے ہونا تھا اور جو کچھ کیا جارہا ہے وہ ابھی زیر غور ہے ۔ لگتا ایسا ہے کہ ہم نے اپنی تمام تر صلاحیت کو صرف اور صرف تنقید اور مخالفت کی چادر میں لپیٹ لیا ہپے ۔اور اب اس سے آگے نہ کچھ دیکھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی سوچنے کی تو فیق ،جس طرح نون کے لیڈر اور اور ان کا خاندان ملک سے بھاگا، ہم نے جب ہی کہا تھا کہ اب واپسی نا ممکن سی ہے لیکن دکھ ہوا تھا اس بات کا کہ عمران خان ان کی چالوں میں پھنس گئے تھے ،حالانکہ اس وقت رپورٹس اور ان کے ڈاکٹروں کو چیک کرنا چاہپئے تھا لیکن وہ لوگ جو ان کے مدد گار بنے اب بھی سامنے نہ لائے جا سکے ۔، ہمیں لگتا ہے بندھن بہت مضبوط بھی ہے اور بے ضمیر بھی ۔
جو کچھ ان کے ادوار میں ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا تھا نہ ہے چاہے زرداری کا زمانہ ہو یا نواز کا ان کے دس سال کسی سے مخفی نہیں تھے مگر ہم نے ہمیشہ جھوٹ کو پروان چڑھایا ،غلط بیانی کی تائید کی اور مخالفت کو بڑھاوا دیا ۔اس تکلیف دہ حقیقت نے ہم سے ہمارے کردار ہماری سوچ اور ہمارا مطمعئہ نظر بھی چھین لیا اور ایک ایسی ڈگر پر چل نکلے جہاں سچ اور جھوٹ گُڈ مُڈ ہو گئے ،اداروں میں طاقت نہیں نظر اآئی کہ وہ ہمیں اس گورکھ دھندے سے نکالتے ۔بلکہ ان کی خاموشی اور برداشت کبھی کبھی ہم سے ہماری برداشت بھی چھین لیتی ہے ۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر اب بھی ہم سب نے متحد ہو کر ان برائیوں کے خلاف کام نہ کیا تو کبھی بھی ملک کو اس گند سے صاف نہیں کر سکیں گے ۔ہمیں اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ کوئی تو ملک میں ان برائیوں کے خلاف اٹحا جو ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ گئیں ۔حکومت کے کوم پر تنقید کریں غبطیاں سامنے لائیں لیکن مفادات کی جنگ کو ہو انہ دیں ۔جو جو لوگ ان حرکتوًں میں شامل ہیں انہیں سزائیں ضرور ملنی چاہئیں اور جس طرح ہمارے سب سے مضبوط اور با وقار ادارے کو یہ لوگ کمزور کرنا چاہ ترہے ہیں اس پر سخت سے سخت اقدام کرنے چاہئیں تاکہ پھر کسی کو بلا وجہ الزام تراشی کی جرئت نہ ہو ۔
سنا ہے کہ پی پی پی فوج کے معاملے میں نون سے متفق نہیں اگر ایسا ہے تو اچھی بات ہے ۔لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھانے دینا چاہئے ورنہ ایک دفعہ پھر ہم احتساب کو دور کر دیں گے جس نے غلط کیا سزا دو ۔فضل بھی کچھ دھیمے ہو گئے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ کچھ اچھا ضرور ہوگا اور ہم وہ سب کچھ ہوتے دیکھیں گے جس کی ہمیں اس حکومت سے امید ہے غلطیاں کرے گی لیکن ملک کا نقصان ان کی طرح نہیں کرگی تجوریاں نہ بھرے گی نہ بھرنے دے گی انشاء اللہ
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا ,عالم آرا
455
0












