ابھی موت اور زندگی ہمکلام رہتے تھے ۔ فائزہ عباس

0
1111

وہ جو حقیقت سے پھوٹ کر نکلے تھے چشمے وہ کیسے ابشاریں بن کر بہنے لگے تھے کہ اسے خود بھی خبر نہ تھی، درد کی ہر چوٹ گویا نیا چشمہ پھوڑتی تھی اور رفتہ رفتہ گہرائیوں کے دامن سے میٹھے چشمے بہتے چلے جاتے تھے وہ چشمے اہنی حقیقت سے اگاہ تھے اور انکی ضمانت بھی سچ کے ہاتھوں میں تھی اپنی اگہی، یقین اور حقیقت کے اس سفر میں درد کی جیسے سلیں بڑے پتھریلے پیاڑوں کی مانند کھڑی تھیں وہ پانیوں کے ریلوں سے شدت سے ٹکراتی تھیں، شدید طغیانی کے باعثِ وہ پانی اہنے کناروں سے اکھڑ کر دور دور تک بکھر جاتا تھا گویا جیسے کوئی ننھا بچہ اپنی ماں کو اواز دینے، ڈھونڈنے کو نکلتا ہو اور تھک ہار کہ اپنے مسکن لوٹ اتا ہو، ان چشموں کے ہیروں سے خون بہتا تھا اور اسکے پہاڑوں میں سے درد اپنے گیت سناتے تھے اب وہ اندر سے گھرنے لگے تھے قریب تھا کہ وہ بھی ریت ہو کر زمین بوس ہو جائیں اب قریب تھا کہ بس وہاں پانی بستا تھا جو بپھرے ہوئے لہجے میں کبھی برہم سا ہونے لگتا تو کبھی موت کی نیند سونے لگتا اسکے بہتے چشموں نے اسکو گیت سنائے جینے کے اور وہ سنتے سنتے وہ ہمیشگی کی نیند سوگئے اب چشمے اور ابشاریں بڑی شان سے بہتی تھیں، سارے گیت کہانیاں کہتی تھیں اور پھر زمین کو کھودنے لگتی تھیں وہ کھدائی ابھی جاری تھیابھی گہرائیوں کو اور پڑاو بھی طے کرنا تھے ابھی موت کو موت سے ملنے جانا تھا ابھی موت اور زندگی ہمکلام رہتے تھے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY