امام حسین علیہ السلام سید الشہدا،جوانان جنت کے سردار، جگر گوشہ بتول وحیدر کرار اور نور العین خاتم النیین ،جنہیں نانا نے نام اور گھٹی دی۔اپنی زبان اورلعاب دہن دیا۔جن کے رونے پر فرمایا۔کہ ان کے رونے سے میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔پھر فرمایا کہ یا اللہ جو حسین سے محبت رکھے۔۔توبھی انہیں عزیز رکھ۔
دوش محمد پر سواری کرنے والے جنہیں دیکھ کر ایک صحابی نے کہا کیا اچھی سواری ہے۔آپ نے فرمایا یہ بھی تو دیکھو سوار کیسا ہے۔فاطمہ اور علی کے لخت جگر حسین جنہوں نے نانا کی آغوش رحمت میں پرورش پائی۔جبرئیل امین کو وحی لاتے دیکھا۔جو انہیں من وعن یاد ہوجاتی اور جاکر مادر گرامی کو سناتے۔توحسین سیرت وکردار میں نانا کا عکس جمیل کیسے نہ ہوتے۔عبادت، ریاضت، سخاوت، شجاعت، جرآت،عفو ودرگزر، صبر واستقامت غرض جامع صفات وکمالات تھے۔جس طرح آپ کی رسالت جامع اور آنے والے تمام زمانوں کے لیے اسی طرح واقعہ کربلا بھی تا قیامت
حق کا سچ کا پیام بر رہے گا۔
دوش محمد کے سوار کے لئے یہ کیسے ممکن تھا۔کہ وہ اس یزید کی بیعت کرلے۔جس نے اسلام کاچہرہ مسخ کرکے رکھ دیا تھا۔ادھر یزید کوضد کہ امام حسین بیعت کریں۔امام حسین کیسے بیعت کر سکتے تھے۔کہ اللہ کے ان عشاق کے قبیلے سے تھے۔جو بے خطر آتش نمرود میں کود جاتے ہیں۔کہ عقل محو تماشاے لب بام رہ جاتی ہے۔مولانا مودودی کا ایک قول نقل کرنا چاہونگی۔کہ سوال یہ نہیں کہ امام حسین نے بیعت کیوں نہیں کی۔سوال یہ ہے کہ جب حسین نے بیعت نہیں کی۔تو باقی سب نے کیوں کر لی۔
ظلم وجبر کے خلاف استقامت سے کھڑے رہے۔مگر آپ کامقصد بغاوت یاجنگ کرنا نہ تھی۔آپ بار بار مذاکرات کی دعوت دیتے رہے۔افواج یزیدی کو یاد دلاتے رہے۔کہ وہ کون ہیں۔کس کے نواسے ہیں۔مگر عہدوں کے پجاری اور مال وزر کی ہوس میں کسی کو کچھ سنای نہ دیا۔سواے حر کے جو یزید کو جھوڑ کر حسینی خیمے میں آے۔کہ بر تر از سود وزیاں ہے زندگی۔
غریب وسادہ ورنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
ابراہیم علیہ السلام اپنا خواب اسماعیل علیہ السلام کو سناتے ہیں تو وہ فورا”جواب دیتے ہیں۔آپ کر گزریں۔آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔پیکر تسلیم ورضا، صابر وہ ایک سجدہ جو سر کٹانے کے لیے اسماعیل نے کیا۔اس کی انتہا کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام کے سجدے پر ہوئی۔کہ جب وہ نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں گئے۔تو دشمن جو ان کی بہادری اور شجاعت سے خوفزدہ تھے۔اور انہوں نے مزید فوج منگوا لی تھی۔اس وقت انہوں نے پے درپے وار کرکے سر تن سے جدا کر دیا۔
سچ ہے کہ نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے ساے میں۔یہاں جرآت، بہادری وشجاعت کے ساتھ صبر کی بھی انتہا ہے۔چھ ماہ کے علی اصغر، قاسم و علی اکبر جیسے مہر وماہ، عباس علمدار کیسے کیسے پیاروں کے لاشے اٹھاے۔اور پھر بھی کس طرح تلوار کے جوہر دکھائے۔واقعہ کربلا اپنے اندر ہزارہا سبق رکھتا ہے۔حق وباطل میں حد فاصل۔یزیدیت اور حسینت دو استعارے۔اپنے خون سے تا قیامت سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر۔فتح وشکست کے نئےمعنی
یزید جیت کر بھی ہار گیا۔گالی بن کر رہ گیا حسین امر ہوگیا۔تا قیامت حسین کاذکر رہے گا۔کہ جس نے نانا کے دین کو بچایا۔شہید ہوکر زندگی وموت کا ایک نیا فلسفہ دیا۔کہ جہاں جہاں ظلم اوریزیدیت ہوگی۔دنیا بھر کے مظلوموں کے لئے حسینیت ہی مشعل راہ ہوگی۔
میں عشرہ محرم کو عشرہ عشق کہتی ہوں۔کہ امام حسین اور انکے جاں نثار ساتھیوں نے صبر، تسلیم ورضا اور عشق کی ایک نئ تاریخ رقم کی۔جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہ ہے نہ ہوگی۔
آشنا بحر صداقت کا حسین ابن علی
مدرسہ درس شہادت کا حسین ابن علی
نصرت نسیم













