طارق بٹ ۔ لسی ، مدھانی اور چودھری نثار

0
1057

تحفظات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے شنید ہے کہ ایک ہفتہ میں چار ملاقاتیں ہو چکیں تین بار تو بڑے میاں سے ناراض چودھری نثار علی خان چھوٹے میاں سے ملنے خود لاہور تشریف لے گئے اور چوتھی بار شہباز لاہور سے پرواز بھر کر اسلام آباد تشریف لائے اور پنجاب ہاوس میں پہلے سے اپنے منتظر چودھری نثار علی خان سے تقریبا دو گھنٹے ملاقات کی مگر جو خبر باہر نکلی اس سے اندازہ ہوا کہ پرنالہ وہیں کا وہیں ہے ۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ اختلافات ہیں کیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے زیادہ کھوج لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ موصوف اپنی بار بار کی پریس کانفرنسوں میں برملا اظہار فرما چکے کہ مجھے تقریبا ایک سال سے مشاورت کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے ۔ اب اس پہلے اعتراض کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم پڑتا کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں مشاورت کے دو بڑے فورم ہوا کرتے ہیں ایک پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور دوسرا جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ۔ ان دونوں اجلاسوں کو چودھری نثار علی خان جو اہمیت دیتے رہے وہ بھی انہوں نے کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی سرعام ارشاد فرما تے رہے کہ میں ان اجلاسوں میں کم ہی شریک ہوتا ہوں اب اگر آپ مشاورتی اجلاس میں شرکت ہی نہیں کریں گے تو آپ سے مشاورت کیسے کی جائے گی ہاں آپ نواز شریف کے جولائی 2017 سے پہلے منعقد ہونے والی کچن کیبنٹ کے اجلاسوں میں مدعو نہ کرنے کی بات کرتے ہیں تو پھر کچھ بات سمجھ میں آتی ہے مگر اس میں بھی کیا سارا قصور نواز شریف کا ہے کبھی تو آپ کو بھی اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا چاہئے کہ آپ نے اپنے دوست اور قائد کو کتنا دکھی کیا ہے ۔

جہلم والے راجہ افضل نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی نواز شریف کے ساتھ بہت قریبی دوستی تھی نواز شریف جہاں بھی جاتے راجہ افضل گاڑی میں ان کے ساتھ ہوتے پھر ایسا ہوا کہ ایک دن راجہ افضل نے چودھری نثار علی خان کو نواز شریف کے ساتھ متعارف کروا دیا ٹھیک ایک مہینے بعد راجہ افضل نواز شریف کی گاڑی سے باہر تھے اور چودھری نثار علی خان نے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ہوئی تھی یہ ڈرائیونگ سیٹ آپ نے ایسی سنبھالی کہ پورے ملک کی انتظامیہ کو نواز شریف کے ساتھ آپ کی قربت کا پتا چل گیا ۔ باقی ملک کا تو میں کہہ نہیں سکتا مگر راولپنڈی کے کسی بھی انتظامی محکمے کے سربراہ کا چودھری نثار علی خان کی موجودگی میں آزادانہ سانس لینا بھی محال دکھائی دیتا تھا یوں 1985 سے 2017 آپ نے خوب مدھانی ہلائی اور مکھن نکالا حلقہ این اے 52 ہو یا 53 دونوں میں آپ نے گلیات ،سڑکات اور نالیات پہ اربوں روپے لگا دئیے حتی کہ اپنے ایم پی ایز کے بھی تمام ترقیاتی فنڈز آپ ہی نے اپنی مرضی سے استعمال کئے اس دوران میں اگر آپ کی توجہ کسی شعبہ کی طرف نہیں گئی تو وہ ہے تعلیم اور صحت گو کہ اب وقت رخصت آپ کو یاد آیا تو واہ فیکٹری میں ایک اسپتال اور روات جی ٹی روڈ پر ایک اسپتال کے کام کا آغاز فرما دیا مگر اپنے تقریبا 15 سالہ دور میں آپ کے حلقے کے نصیب میں ایک بھی یونیورسٹی نہ آ سکی ۔

1985 سے نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق کے دعوے دار چودھری نثار علی خان نے جولائی 2017 کے فیصلے کے بعد اپنے دوست اور قائد سے اس وقت راہیں جدا کر لیں جب نواز شریف کے قافلے نے پنجاب ہاوس اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور کا سفر آغاز کیا۔ نہ تو چودھری صاحب قافلے کو الوداع کرنے پنجاب ہاوس تشریف لائے اور نہ ہی فیض آباد پہنچنے پر اپنے گھر کی بالکونی سے قافلے اور اپنے دوست اور قائد کی حوصلہ افزائی کے لئے ہاتھ ہلانے کی زحمت گوارا کی الٹا ایک تیز دھار خنجر یوں اپنے قائد کی پیٹھ میں گھونپ دیا کہ قائد کی بیٹی (جو رشتے میں آپ کی بھی بیٹیوں جیسی ہے) جو اس وقت اپنی کینسر سے نبرد آزما ماں کی الیکشن مہم تنہا چلا رہی تھی اس کی قیادت پر سوال اٹھا دیا نہ وقت دیکھا نہ حالات کو مد نظر رکھا بس اپنا نقطہ نظر ٹھونک کے بیان کر دیا بعد میں دلیلیں دیتے رہے کہ مجھ سے صحافی نے سوال پوچھا تھا جس کا میں نے جواب دیا کیا غلط کیا ۔ غلط یہ کیا جناب کہ آپ نے ایک خواہ مخواہ کی بحث کا آغاز کر دیا اور پھر اس بحث نے ایسا طول پکڑا کہ آپ کی ہر پریس کانفرنس میں صحافی چیزے لے لے کر یہی سوال پوچھنے لگے اور بالآخر آپ خود اتنے زچ ہو گئے کہ آپ نے کہہ دیا آئیندہ مجھ سے مریم نواز کے حوالے سے سوال نہیں پوچھا جائے گا محترم زیرک سیاستدان اگر یہی جواب آپ پہلی بار پوچھے گئے سوال کے جواب میں ارشاد فرما دیتے تو اتنا رولا کیوں پڑتا ویسے بھی نہ تو تاحال مریم نواز کی قیادت کا کوئی سوال اٹھا ہے اور نہ اسے موضوع بحث بنانا چاہیے تھا ۔

1985 سے نواز شریف کی فراہم کردہ لسی میں مدھانی چلا کر مکھن نوش فرمانے والے چودھری صاحب نہ جانے کیوں اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت پاپولر لیڈر ہیں اور ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے اگر واقعی ایسی بات ہے تو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں چودھری اعتزاز احسن کے پٹواریوں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو جناب نے آج تک نہ تو کسی فورم پر چیلنج کیا اور نہ ہی ان کی وضاحت سامنے لائے آخر کیوں؟ لسی ، مدھانی اور مکھن کا جو طریقہ کار چودھری نثار علی خان نے راجہ افضل سے سیکھا تھا وہی طریقہ آج کل چودھری صاحب کے معتمدین اپنائے ہوئے ہیں ۔خود چودھری صاحب بھی مفادات کی لسی کے مکھن سے استفادہ کے بعد اب تحفظات کی لسی میں مدھانی چلائے جا رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب اس لسی میں سے بال برابر بھی مکھن نکلنے کا کوئی امکان نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY