یہ کالم لکھنے کا محرک یہ انکشاف بنا کہ جنوبی کوریا میں جہاں
غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق لکھ بھگ بارہ ہزار پاکستانی مقیم
ہیں، ان میں سے اکثر ریفیوج ویزے پر یعنی انھوں نے وہاں سیاسی
پناہ لے رکھی ہے۔ گویا جنوبی کوریا جیسے ملک میں بھی ہمارے
لوگ سیاسی پناہ لینے پو مجبور ہو جاتے ہیں. صرف جنوبی کوریا
ہی نہیں
دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں پاکستانیوں نے سیاسی پناہ نہ لے
رکھی ہو۔ مگر روائتی طور پرترک وطن کرنے والے مغربی ملکوں
کا رخ کرتے ہیں. کیونکہ مغربی ملکوں کے قوانین ایسے ہیں جن
میں باہر سے آنے والوں کو سہولتیں مل جاتی ہیں اور انھیں اجنبیت
محسوس نہیں ہوتی.
بیرون ملک مقیم ہونے اور اپنے پروفیشن کی وجہ سے میں بخوبی
جانتی ہوں کہ سیاسی پناہ حاصل کرنے کے محرکات اکثر معاشی
ہوتے ہیں. بنی نوح انسان میں
بہتر روزگار، بہتر تعلیم اور اچھی زندگی گزارنے کی خواہش کچھ
غلط نہیں، اسی لئے انسانی تاریخ مختلف النسل خاندانوں کی نقل
مکانی سے بھری پڑی ہے. اس تناظر میں دیکھئے تو دنیا بھر میں
آپ کو کوئی بھی ایسا ملک نہیں ملے گا جہاں صرف ایک قوم، ایک
نسل، یا کسی ایک مذہب یا عقیدے کے لوگ آباد ہوں.
لیکن اپنی زمین اور اپنے وطن سے نقل مکانی یا ہجرت مجبورا نہیں
ہونی چاہئے. مگرصورت احوال کچھ یوں ہے کہ کئی عشروں سے
پاکستان میں اقلیتوں کے حالات زار کی وجہ سے اکثر خاندان مجبورا
اور جان بچانے کے لئے وطن چھوڑ رہے ہیں. اس کا سلسلہ اسی
کے عشرے سے شروع ہوا جب ایک ڈکٹیٹر نے انتہا پسند مذہبی
عناصر کو ریاستی سرپرستی فراہم کی جس کی وجہ سے ملک میں
اقلیتوں کا جینا دوبھر ہوگیا. مثال سندھ میں ہرچند دن بعد ایک خبر
ہوتی ہے کہ ہندو لڑکی نے گھر سے فرار ہو کراسلام قبول کر لیا.
لیکن معاملے کی تفتیش پر انکشاف ہوتا ہے ایک آدھ کو چھوڑ کر
مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے. ہزاروں خاندان اپنے گھر بار، زمین،
دوست رشتے دار چھوڑ کر انڈیا جانے پر مجبور ہوگئے۔ احمدیوں
کے گھر اورمساجد کو اگ لگا دی جاتی ہے. ان کا جو بھی عقیدہ ہے
انھیں اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ
ملکی آئین نہیں مانیں گے تو اسی طرح ہراساں کیا جائے گا. جس
میں ان کی جان ومال بھی محفوظ نہیں.
عسیائیوں کی عبادت گاہوں کو جلا کر بھسم کیا جاتا رہا. مندرمسمار
کیے گئے، گویا
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
ایک زمانہ تھا شعیوں کا قتل ایک معمول بن چکا تھا، کوئٹہ میں کیا
ہوتا رہا، مذہب کے نام پر ہزارہ برادری کی نسلیں اجاڑ دیں، ایک
ماں کے تین بیٹے ایک خود کش حملے اور تین دوسرے حملے میں
قتل کردیے گئے،
کیا اسلام میں اس نسل کشی کی اجازت ہے ؟
اس لئے لاکھوں شعیہ اور احمدی اپنے جان بچانے کی پناہ لینے کے
لئے دنیا کے کسی بھی خطے میں نکل گئے.
بلاشبہ جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو گزشتہ چند برسوں میں
حکومت نے اقدامات اٹھائے جن کی وجہ سے قتل و غارت گری کا
سلسلہ کچھ تھما ہے، مگر اقلیتوں کے حالات اب بھی سازگار نہیں
ہوسکے ہیں، کیونکہ سماج میں انتہا پسندی اور عدم برداشت سرایت
کر چکی ہے. اس کا اظہار سوشل میڈیا پر بخوبی نظر آتا ہے،
حال ہی میں سوشل میڈیا پر کچھ ملاؤں کی وڈیو چل رہی ہے کہ
شعیہ جو اذان میں علی ان ولی اللہ کہتے ہیں یہ دہشت گردی ہے.
ہم ان کے خلاف عدالت میں جائیں گے. شعیہ مذہب چودہ سو برس
سے اسی عقیدے پر عمل کرتا آرہا ہے، اب دہشت گرد ہو گیا؟
ماہ پارہ صفدر











