پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی یوں تو کبھی بھی کوئی بڑی بات نہیں رہی ہے۔ کیونکہ آمرانہ دورِِ حکومت میں انسانی حقوق کے سلسلے میں کسی رو رعا حجیت کا اظہار آمروں کی شان کے خلاف ہوا کرتا ہے۔ لیکن تیرہ سال دورِ جمہوریت میں جہاں انسانی حقوق بالخصوص حقوقِ نسواں کے سلسلے میں جو قانون سازیاں ہوئیں وہ ان حکومتوں کی ایک اچھی کاوش تو کہی جا سکتی ہے لیکن اس پر عملداری نہ ہونا ان جمہوری حکومتوں کا المیہ بھی رہا ہے۔ اسی عرصے میں ہم نے قبر میں موجود مردہ عورت سے لے کر پانچ ماہ کی بچی تک سے زیادتی کے واقعات اسی جمہوری دور میں سُننے اور دیکھنے کو ملے۔ گو کہ اس کے خلاف دھرنے بھی ہوئے، مظاہرے بھی ہوئے، عدالتوں نے از خود نوٹس بھی لیے اور ملزمان و مجرمان کا میڈیا ٹرائل بھی کیا گیا۔ لیکن تاحال ہم اپنے ملک میں عورت کو نہ معاشرتی حقوق ہی دینے کے قابل ہوئے ہیں اور نہ قانونی حقوق سے ہی عورت کو بہرہ ور کیا ہے۔
اسی ضمن میں ایک کیس منزہ سہام مرزا کا ہے جو ایک اعلی اور معتبر خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے والد سہام مرزا ڈائجسٹ کی دنیا کا معتبر حوالہ تھے بے حد نفیس انسان تھےاور ان کی یہی خوبیاں منزہ میں در آئی تھیں ۔سہام صاحب کے انتقال کے بعد ادارے کی باگ ڈور منزہ نے بے حد احسن طریقے سے سنبھالی اسی دوران جمیل احمد سے ان کی شادی ہوگئی۔لیکن بد قسمتی سے جمیل جیسے بد فطرت اور لالچی انسان سے ان کی نہ بن سکی اور طلاق ہوگئی اور اب طلاق کو بھی 10 سال گزر چکے ہیں۔ لیکن ان دس سالوں میں جمیل احمد کی فطرت کھل کے سامنے آگئی ہے سابق شوہر کی جانب سے مستقل ہراساں کیے جانے کا معاملہ اب میڈیا کے ذریعے سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ جمیل احمد کی زیادتیاں یوں توجاری وساری تھیں جھوٹے الزامات کی بہتات ۔کردار کشی جسے ایک اکیلی عورت اس معاشرہ میں کیسے جھیلتی ہے یہ سب کے سامنے ہے شوہر کے ساتھ اُن کا یہ معاملہ پچھلے دس سال کیوں سامنے نہ آیا، یہ سوال تو ایک طرف موجود ہی ہے لیکن اس کے باوجود کہ اب جب یہ معاملہ منظر عام پر آگیا ہے تو کیا اُن کے سابق شوہر جو حالیہ دورِ حکومت میں رُکن قومی اسمبلی ہیں کو ہمارا قانون یا عدالتیں جھوٹے مقدمات بنانے، جھوٹے حلف نامے بھرنے اور حلف اُٹھانے کے غیر قانون عمل کے لیے قانون کے دائرے میں لا سکیں گے۔
منزہ سہام کے مطابق جمیل احمد رکن قومی اسمبلی نے اُن کے اوپر ان دس سالوں میں کئی جھوٹے مقدمات بنا دیے ہیں اور اُن مقدمات کا فیصلہ بھی منزہ سہام کے حق میں آ چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اُن کا سابق شوہر اسلام آباد کی عدالت میں منیزہ سہام کے غلط ڈاک کے پتے پر عدالتوں سے سمن جاری کرا چکا ہے۔ جس کا علم منیزہ سہام کو بھی نہ ہوا اور اُس نے عدالت میں اُسے مفرور بنادیا اور مقدمے سے ہمیشہ غیر حاضر دکھاتا رہا۔ اب چونکہ منیزہ سہام اس کیس میں بھی پیروی کی تیاری کرچکی ہیں تو مقدمے کا نتیجہ آنے میں ابھی وقت ہے۔ البتہ اعلیٰ عدلیہ کو چاہیے کہ جمیل احمد کی قومی اسمبلی کی رُکنیت ختم کرکے اُنہیں جعلی مقدمات اور جعلے حلف نامے جمع کرانے کے جرم میں حوالات کے پیچھے بھیجے۔ کیونکہ یہ سب کچھ وہ اپنی اسی رکنیت اور اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر کرتا چلا آرہا ہے۔
یہ کیس ہماری عدالتوں اور قانون ساز اداروں کو قانون کی بالا دستی قائم رکھنے اور کرنے میں معاونت کر سکتا ہے۔ جس کے بعد اس طرح کے کیسز میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
( ردا محبوب)













