حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مابین معاہدہ خوش آئند بات ہے۔ دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کو ثمر بار بنانے میں میں مفتی منیب الرحمن اور راولپنڈی کی ایک اہم شخصیت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو اس مقصد کے لیے اسلام آباد لیجانے کی بھی خبریں گردش میں ہیں۔
رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن تحریک لبیک کی جانب سے ضمانتی بنے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے راولپنڈی کی ایک اہم شخصیت کے ضامن ہونے اطلاعات ہیں۔ ضمانتی شخصیات دونوں فریقین کو طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کا پابند بنائیں گے۔
تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ضامن بننے والے مفتی منیب الرحمن کا کہنا ہے کہ اہل سنت ماضی میں کیے گئے معادوں سے حکومتی روگردا ی سے ڈسے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ریاست کے ادارے کو بیچ میں لانے کا مطالبہ رکھا تھا۔
تقریبا دو ہفتوں سے جی ٹی روڈ پر جاری لانگ مارچ سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے ملک کی معاشی صورتحال کا تقاضا تھا کہ اس صورتحال کا جلد از جلد ڈراپ سین ہو جائے سو دونوں اطراف کے سنجیدہ افراد کی محنت رنگ لے آئی اور معاہدہ طے پاگیا۔ معاہدہ جیسا بھی ہے جیسے بھی ہوا ہے اب اس سے روگردانی نہیں ہونی چاہیئے تاکہ جی ٹی روڈ کلیر ہو اور لانگ مارچ کے شرکاء اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں۔
معاہدہ کی تفصیلات آئندہ کسی مناسب وقت پر ظاہر کرنے کی بات سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اہل وطن اس معادہ کی تفصیلات جاننے کے بے چینی سے منتظر ہیں کہ وہ کیا شرائط ہیں جن پر دونوں فریق رضامند ہوئے ہیں۔
معاہدہ کرنے والے کسی فریق کو کسی کی جیت اور کسی ہار نہیں سمجھنی چاہیئے اس معاہدے کو پاکستان کی جیت قرار دینا چاہیئے کیونکہ اگر لانگ مارچ کی صورتحال بدستور قائم رہتی تو اس سے پاکستان کے بدخواہان فائدہ اٹھا کر ملک میں انتشار کو فروغ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جس کا یہ ملک اب متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی امید افزا ہے کہ ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدہ پر عملدرآمد کا طریقہ کار وضح کرنے والی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہو چکا ہے اور یہ اجلاس لاہور میں ہوا ہے بقول وزیر مملکت علی محمد خان
حکومت، ٹی ایل پی معاہدے پر عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کر لیا گیا ہے۔
حکومتی نمائندے کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ معاہدے کے نتائج ان سطور کی اشاعت تک آنا شروع ہوجائیں گے۔ اور تحریک لبیک کے مطابق تحریک لبیک کے ایک ہزار کارکنان کو اسی ہفتے میں رہائی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اس معادہ کے متعلق کہا تو یہ گیا کہ معاہدے کی جزیات بعد میں مشتہر کی جائیں گی لیکن آہستہ آہستہ گرہیں کھل رہی ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ کہ کالعدم تحریک لبیک چند دنوں میں پھر سے قانونی بن جائے گی۔ اس بات پر چند اہک تحفظات ہیں کہ اگر حکومت اسی طرح اپنے فیصلے واپس لیتی رہی تو آئندہ آنے والے دنوں میں جس کا جی چاہے گا پندرہ بیس ہزار کا ہجوم جمع کرکے جی ٹی روڈ بلاک کرکے احکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرکے اپنے مطالبات منوانے کی ڈگر پر چل نکلے گا۔ ممکن ہے کل میاں نواز شریف کے پرستار لاکھوں کی تعداد میں اکھٹے ہوکر سپریم کورٹ کو انہیں نا اہل قرار دینے والا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردے ۔
حرف آخر کے طور پر عرض ہے کہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی روش بھی ترک کرنی ہوگی تب ہی ملک ترقی کرے گا۔
پریشر گروپ بنوانے اور انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے میدان سیاست میں جونکنے کے نتائج ہم پاکستانی 1977 سے بھگت رہے ہیں ہر بار یہی لوگ مختلف ناموں اور مقاصد کے ساتھ جمہوری قوتوں کے مقابل میدان میں اترتے چلے آ رہے ہیں لیکن ہر بار انہیں استعمال کرکے ٹشو پیر کی طرح ڈسٹ بن میں پھینک دیا جاتا ہے لیکن اس کے نتائج پورا ملک بھگتتا ہے ۔ اب یہ سلسلہ رک جائے تو بہتر ہے ۔ اب ملک و قوم کے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے ملک ہے تو سیاست ہوتی رہے گی۔














اس آرٹیککل کو مذید بہتر بنایا جا سکتا تھا اگر محنت کی جاتی لگتا ہے جلد بازی نے ایسا نہیں کرنے دیا