زادِ سفر۔۔گیارہویں قسط،مریم عالم

0
342

گیارہویں قسط
اس کے بعد آپ نے اس بارے میں دوبارہ ذکر ہی نہیں کیا. بس بیٹا حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے.. تو بابا کیوں نا اب جایا جائے… کیا مطلب…. بابا میں اور بھی جاؤں گی اور ہم آنا بی کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے نہیں تو وہ گھر میں اکیلی رہ جائیں گیاور ویسے بھی وہ ہماری گھر کی فرد ہیں اور ہم سب اکٹھے جائیں گے….
کیوں نہیں میری بیٹی میں کل ہی ان کا پاسپورٹ جمع کرواتا ہوں.. جلال صاحب نے اگلی صبح سب سے پہلی فرصت میں انا بی کا پاسپورٹ جمع کروایا انوشے نے جب انا بی کو بتایا تو وہ خوشی سے رونے لگیں کہ مجھ غریب کی اتنی قسمت کہاں کہ رب سہونا مجھے اپنے در پر بلائے ….انوشے آنے انہیں گلے سے لگایا انا بی یہ تو نصیب کی بات ہے وہ کب امیر غریب کو دیکھتا ہے وہ تو جس کو پسند کرتا ہے بلا لیتا ہے اپنے در پر…..
بس آپ دعا کریں کہ وہ خاضری قبول کرے ہماری… آمین بیٹی آمین اللّٰہ بس ہماری خاضری قبول کرے…
انوشے یہ کیا بات ہوئی میری شادی ہونے والی ہے اور تم جا رہی ہو تم میری شادی کے بعد بھی تو جا سکتی ہو نا سویرا اس سے ناراض ہوئی اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے میں کون سا زیادہ عرصے کے لیے جا رہی ہوں….بس پندرہ دن کی ہی تو بات ہے پھر یہ تو بلاوآ ہے اس کا بلاوا ابھی کا ہے تو پھر بعد میں جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا….
میں جب واپس آ ؤں گی تو ملکر تمہاری شادی کی تیاریاں کریں گے اور دیکھنا میں کتنے دن پہلے آجاؤں گی تمہاری طرف ہم خوب مزے کریں گے…. ابھی تم میرے ساتھ آنا بی اور بابا کی کچھ شاپنگ کروا دو احرام اور کچھ ضروری سامان لینا ہے
آنا بی کا پاسپورٹ ایک ہفتے میں بن کر آ گیا اور دس دن کے اندر ان تینوں کے ویزے اور ٹکٹ کنفرم ہو گئے انیس جنوری کو ان کی سیٹیں کنفرم ہو گئیں سب اتنا جلدی ہوا جیسے کسی کو اس کے وہاں آنے کا انتظار ہو جیسے کوئی اس کا منتظر ہو …..
ان کی اتوار انیس جنوری 2,000 کی پرواز تھی جلال صاحب نے دفتر کی ساری ذمہ داری صدیقی صاحب کو دی کیونکہ وہ اننکے سب سے پرانے اور وفا دار ملازم تھے وہ ہفتہ کے روز اپنے دفتر میں سب ملازمین کے ساتھ کھانآ کھایا اور سب کی دعائیں لیں اور بروز اتوار صبح پانچ بجے گھر سے روانہ ہوئے سویرا کی فیملی اور جلال صاحب کے کچھ دوست ان کے ساتھ ائرپورٹ گئے….
تم میرے آنے کا انتظار کرنا یہ نہ ہو کی ساری خریداری خود ہی کر لو وہ سویرا کو تنبیہ کر رہی تھی تم فکر مت کرو جب تم واپس آؤ گی تو تب ہی تمہارے ساتھ ملکر کروں گی اس نے انوشے کو مسکراتے ہوئے جواب دیا…….
انوشے میں نے سنا ہے جب کعبہ پر پہلی نظر پڑتی ہے تو جو دعا کرو اللّٰہ قبول کرتا ہے تم بھی اپنے لیے اللّٰہ سے مانگنا جو تمہاری پسند ہے اس نے سویرا کی بات سن کر اسے جواب دیا سویرا یہ اس کو کیسے گوارا ہو گا یا یہ میرا ضمیر مجھے کیسے اجازت دے گا کہ میں اس کے گھر کھڑی ہو کر اس سے کسی اور کو مانگوں…..
انوشے تم کتنی مشکل باتیں کرتی ہو اب اللّٰہ خود کہتا ہے مجھ سے مانگو میں عطا کروں گا تو اس میں ایسی کیا بات ہے…. سویرا کی بات کا جواب دے کر وہ کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تھی کیونکہ وہ جس سفر پر جا رہی تھی وہ تو نصیب والوں کو عطا ہوتا ہے وہ اپنا تمام سفر بس اللّٰہ کی یاد میں گزارنا چاہتی تھی اس کے دل میں اب سوائے اللّٰہ کی محبت کے کچھ نہیں تھا
جلدی کی وجہ سے انہیں ڈائریکٹ مکہ کی پرواز نہیں ملی تھی ان کا راستے میں دبئی میں چھ گھنٹے کا سٹے تھا ان کی فلائیٹ صبح دس بجے کی تھی لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے فلائیٹ میں چار گھنٹے تاخیر ہو گئ بوٹنگ کے بعد انہیں waiting room میں چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا…….
اس سے پہلے بھی وہ بیرون ملک اپنے بابا کے ساتھ کئ بار سفر کر چکی تھی لیکن اس سفر کا انداز اور سرور ہی الگ تھا ان لوگوں نے دبئی ہوٹل میں عمرہ کی نیت کے لئے نوافل ادا کئے اور احرام باندھا اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اللّٰہ کے ساتھ ملاقات کرنے جا رہی ہو
تقریباً رات کو نو بجے وہ جدہ ایئر پورٹ پر اترے وہاں سامان وصول کرتے ہوئے انہیں کافی دیر لگی کیونکہ وہاں دو بوڑھے میاں بیوی کا سامان گم ہو گیا ان کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا
ایک اور بوڑھی عورت تھی جو پاکستان سے بلکل اکیلی تھی اس کا نواسہ مکہ میں مقیم تھا جس نے اسے عمرہ ساتھ ملکر کروانا تھا اس کے پاس جیب میں نوے ہزار تھے جو رش میں اس کے کسی نے نکال لئے تھے وہ گجرات سے تھی وہ سب اک ہی بس میں مکہ کے لئے رختِ سفر باندھنے کو تیار تھے مسافروں کا سامان ڈھونڈنے میں کافی دیر لگی وہ جو دو بوڑھے میاں بیوی تھے وہ اپنا سامان لئے بغیر نا جانے پر بضد تھے…
جلال صاحب اور انوشے نے ان کو یقین دلایا کہ ان کو وہ کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونے دیں گے وہ عورت جس کے پیسے گم ہو گئے تھے اس کی طعبیت بہت خراب ہو گئی ان لوگوں نے ان کو بھی سہارا دیا…..
وہ رات کو اڑھائی بجے مکہ پہنچے انوشے سارے راستے کعبہ کو ڈھونڈتی رہی اسے لگتا تھا کہ مکہ میں داخل ہوتے ہی وسط شہر میں اسے مسجد حرام کے اندر بڑا سا اونچا سا کعبہ نظر آئے گا لیکن ایسا نہیں تھا…..
وہ ہوٹل پہنچے ان کا ہوٹل کعبہ سے دس منٹ کی دوری پر تھا وہ تمام لوگ جو ان کے ساتھ بس میں تھے ان میں سے زیادہ تر کا قیام اسی ہوٹل میں تھا انوشے نے شکر کیا کہ وہ اس طرح ان کی مدد آسانی سے کر لے گی جو بے سرو سامان رہ گئے تھے وہ سوچ رہی تھی کہ لوگ اللّٰہ کے گھر میں بھی لوٹنے سے باز نہیں آتے …..
ہم سب صبح فجر کے بعد عمرہ کے لئے مسجد جائیں گے ابھی سفر کی وجہ سے بہت تھک گئے ہیں آنا بی نے کہا.. فاطمہ نے اس عمرہ کے مناسک بڑی تفصیل سے سمجھائے تھے..نہیں انا بی آپ لوگوں نے اگر صبح جانا ہے تو ٹھیک ہے میں تو ابھی جاؤں گی….
ٹھیک ہے بیٹا اگر آپ ابھی جانا چاہتی ہیں تو تھوڑا آرام کر لیں سب اکٹھے ابھی ہی چلیں گے وہ خوش ہو گئ دونوں بوڑھے میاں بیوی اور وہ عورت جس کے پیسے گم ہوئے تھے برابر والے کمرے میں تھے… اس نے ان کے کمرے میں جا کر ان کا حال احوال پوچھا وہ نیچے گئی سب کے لئے کھانا لے کر آئی… سب نے کھانا کھایا اور تقریباً ساڑھے تین بجے وہ عمرہ کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہوئے سب اس کے ساتھ تھے وہ ایک گھنٹہ آرام کرنے کے بعد تازہ دم ہو گئے تھے…..
جب وہ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اس کی نظر کعبہ پر پڑی تو اس کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو نکلنے لگے اس کو اپنی ذات تحلیل ہوتی ہوئی محسوس ہوئی وہ بے خود آنا بی کا ہاتھ پکڑ کر چل رہی تھی…..اس کی پہلی نظر جب اللّٰہ کے گھر پر پڑی تو وہ اس کا دل بے اختیار پکار اٹھا مجھے چاہیے اللّٰہ بس تو تیرے سوا اور کچھ نہیں
وہ باب فہد سے سے مسجد میں داخل ہوئے تھے وہ دھکے لگ لگ کر بہت اللّٰہ کے قریب پہنچے وہ دورسرے چکر میں سب سے الگ ہو گئی تیسرے چکر میں وہ بیت اللّٰہ کے ساتھ جہاں سے دیوار خالی تھی اس کونے پر آ کر رکی وہ بیت اللہ کے ساتھ لپٹ کر بہت روئی جیسے جیسے لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی تھی اس کے اندر کا سارا دکھ آنسوؤں کے رستے بہیتا جا رہا تھا
ساتویں چکر میں اس نے حجر اسود وہ جنتی پتھر جسے نبی اکرم (ص) نے قریش کے سرداروں کے ساتھ ملکر خانہ خانہ خانہ خانہ کا بوسہ لیا سات چکر مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا آپ بہت ہلکا محسوس ہو اس کے بعد صفہ مروہ کی سعی ( وہ مقام جہاں حضرت ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں سات چکر لگائے اللّٰہ نے انکی قربانی اور صبر کے صلے میں ان کے اس عمل کو عمرہ کا لازمی جز قرار دے دیا) مکمل کی اب سر کے بال اتارنے کا وقت تھا اس نے آنا بی کو وہیل چیئر پر سعی کروائی صغرٰی خاتون ( جن کے پیسے گم ہوگئے تھے) کو سعی جلال صاحب نے کروائی وہ ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے زیادہ نہیں چل پا رہی تھی……
ان کا عمرہ مکمل ہو چکا تھا فخر کی نماز ادا کر کے وہ لوگ ہوٹل روانہ ہوگئے تھکاوٹ کی وجہ سے سب پر نیند کا غلبہ طاری ہو گیا…. ظہر تک وہ بلکل تازہ دم تھے انوشے سب کے لیے کھانا لائی ( کھانے میں بند نما روٹی اور بروسٹ تھا وہ پیکڈ جواز بھی لے کر آئی سب نے باہر ہال میں دستر خوان لگا کر اکٹھے کھانا کھایا انوشے نے ادھر کا نمبر بھی خت اس کی اراردیوار میں تب ت تھا )کھانا لینے گئی…
بیٹی یہ میرے نواسے کا نمبر ہے اس پر فون تو کرو اسے ہوٹل کا پتہ تو ہے آ جائے گا لیکن تم اسے فون کرو صغرٰی خاتون نے انوشے جب کہا تو اس نے ان کی بات میں جواب دیا اماں جی فون میں کر دیتی ہوں اگر آپ کو کچھ چاہیے تو مجھے بتائیں میں اس کے آنے تک لا دیتی ہوں….
وہ خود مختار عورت تھیں زمینوں پر کام کروا کے انہیں جو منافع ہوتا اس سے وہ ہر سال عمرہ کرنے آتی تھیں وہ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتیں تھیں… نہیں نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم فون کر دو اس نے ان سے نمبر لے کر ان کے نواسے سے ان کی بات کروائی اس نے عصر کے بعد آنے کو کہا ابھی وہ کام کر رہا تھا
ظہر کی نماز سب نے ہوٹل میں ادا کی مگر انوشے اپنی ہر نماز مسجد حرم میں ادا کرنا چاہتی تھی وہ بس یہاں سے رب کو اپنا بنا کر جانا چاہتی تھی
اس لیے وہ چلی گئی جلال صاحب نے بھی اسے منع نہیں کیا آنا بی یہ اللّٰہ کا گھر ہے اور وہ اللّٰہ کی مہمان ہے آپ فکر مت کریں یہاں اسے کچھ نہیں ہو گا انہوں نے آنا کو فکر مند دیکھتے ہوئے تسلی دی صغریٰ خاتون کا نواسہ آ گیا اس نے ان کی ساری ذمہ داری اٹھا لی اور جو دو بوڑھے میاں بیوی تھے انوشے ان کو مسجد روز لے کر جاتی اور واپس بھی لے کر آتی ان کی ساری ذمہ داری اس نے خود اٹھائی ہوئی تھی وہ ان کی ہر چیز کا دھیان رکھتی وہ دونوں اسے بہت دعائیں دیتے شام کو حرم سے واپس آتے وقت جب انوشے بوڑھی عورت کو وہیل چیئر پر واپس ہوٹل لے کر آ رہی تھی تو وہ جلال صاحب سے کہنے لگی کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں جو آپ کو اللّٰہ نے اتنی نیک اولاد سے نوازا ورنہ آج کی نوجوان نسل تو ان سب سے بہت کتراتی ہے
جی اللّٰہ کا شکر ہے اللّٰہ ایسی اولاد سب کو دے جلال صاحب نے اس کی بات کا جواب دیا…. بابا ہمارا ایک عمرہ تو چار دن ہو گئے مکمل ہوئے ہم مسجد عائشہ چلتے ہیں ( اک عمرہ کی ادائیگی کے بعد دوسرے کے لئے میقات کے مقام پر احرام باندھا جاتا ہے اور مکہ میں مسجد عائشہ میقات کا مقام ہے) وہاں سے احرام باندھ کر دوسرے عمرہ کا ارادہ کرتے ہیں …انوشے کے اسرا پر وہ سب مسجد عائشہ گئے وہاں نوافل ادا کئے اور احرام باندھ کر عمرہ کی نیت کی ….دوسرے عمرہ کی ادائیگی کے بعد اگلا دن جمہ کا دن تھا .ان کی مدینہ منورہ کی طرف روانگی تھی وہ مدینہ منورہ جانے کے لئے بہت بے تاب تھی وہ اس ہستی کے در پر جا رہی تھی جہاں سے کبھی کوئی سائل خالی نہیں لوٹتا وہ وجہ وجود کائنات کے در پر جا رہی تھی… وہ اس شہر پنک جا رہی تھی جہاں ہر وقت رحمت برستی ہے…..
فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد وہ روانہ ہوئے گاڑی میں خرابی کی وجہ سے وہ تقریباً گیارہ بجے مدینہ پہنچے… سامان ہوٹل میں رکھنے کے فورا بعد بغیر کسی تاخیر کے مسجد نبوی (ص) روانہ ہوئے کیونکہ جمعہ کی ادائیگی میں وقت کم تھا…..
جب حضور اکر م مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے توآپ نے1ہجری میں مسجد قبا کی تعمیر کے بعد صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مسجد نبوی ؐ کی تعمیر فرمائی۔اس وقت مسجد نبوی ؐ 105 فٹ لمبی اور 90 فٹ چوڑی تھی۔ہجرت کے ساتویں سال فتح خیبر کے بعد نبی اکرم نے مسجد نبویؐ کی توسیع فرمائی۔ اس توسیع کے بعد مسجد نبویؐ کی لمبائی اور چوڑائی 150 فٹ ہوگئی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی تعداد میں جب غیر معمولی اضافہ ہوگیا اور مسجد ناکافی ثابت ہوئی تو 17 ھ میں مسجد نبویؐ کی توسیع کی گئی۔ 29 ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد نبویؐ کی توسیع کی گئی۔اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے 88 ھ تا 91ھ میں مسجد نبویؐ کی غیر معمولی توسیع کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ اس وقت مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اموی اور عباسی دور میں مسجد نبویؐ کی متعدد توسیعات ہوئیں۔ ترکوں نے مسجد نبویؐ کی نئے سرے سے تعمیر کی۔
اس میں سرخ پتھر کا استعمال کیا گیا۔مضبوطی اور خوبصورتی کے اعتبار سے ترکوں کی عقیدت مندی کی ناقابل فراموش یادگار آج بھی برقرار ہے۔حج اور عمرہ کرنے والوں اور زائرین کی کثرت کی وجہ سے جب یہ توسیعات بھی ناکافی رہیں تو موجودہ سعودی حکومت نے قرب وجوار کی عمارتوں کو خریدکر اور انھیں منہدم کرکے عظیم الشان توسیع کی جو اب تک کی سب بڑی توسیع مانی جاتی ہے۔ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:3 مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کا سفر اختیار نہ کیا جائے: مسجد نبوی، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔
حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:
“میری اس مسجد میں نماز کا ثواب دیگر مساجد کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے سوا ئے مسجد حرام کے۔ ”
جب امام مسجد میں جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا ان کا لہجہ اتنا خوبصورت تھا کہ اس پر رقت طاری ہو گئی وہ کتنی ہی دیر آنا بی کے ساتھ مسجد کے بیرونی صحن میں بیٹھی رہی اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ مسجد کے اندر تک کا فاصلہ طے کرے..
وہ خود کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ ہ کیسے اندر جا کر اپنے اوپر قابو رکھ سکے گی وہ بہت دیر تک وہاں بیٹھی آنسو بہاتی رہی پھر وہاں سے ننگے پاؤں مسجد کے اندرونی صحن سے ہوتی ہوئی مسجد کے اندر داخل ہوئی……
وہ مسجد کے اندر روضہ رسول(ص) کے گرد جالیوں کے پاس بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتی رہی آنا بی اس کے پاس ہی بیٹھی تھی وہ درود و سلام پڑھنے میں مصروف تھیں….
سب لوگ دروازے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ ریاض الجنت میں نوافل ادا کر سکیں قدیم مسجد نبویؐ میں منبراور روضۂ اقدس کے درمیان جو جگہ ہے وہ ریاض الجنۃ کہلاتی ہے۔ حضور اکرم کا ارشاد ہے:
مَا بَیْنَ بَیْتِی وَمِنْبَرِی رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ ۔
“منبراور روضہ کے درمیان کی جگہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔ ”
ریاض الجنۃ کی شناخت کے لئے یہاں سفید سنگ مرمر کے ستون ہیں۔ ان ستونوں کو اسطوانہ کہتے ہیں،ان ستونوں پر ان کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ریاض الجنۃ کے پورے حصہ میں جہاں سفید اور ہری قالینوں کا فرش ہے نمازیں ادا کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے، نیز قبولیت دعا کے لئے بھی خاص مقام ہے۔
ادھر مامور خواتین اہلکار سب لوگوں کو ملک کے لحاظ سے گروپوں میں تقسیم کرتیں ان کو ایک طرف بٹھا کر دروازہ دوسری طرف سے کھول دیتی تھیں…. آنا بی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ آج مسجد اندر روضہ رسول( ص) پرحاضری نہ دے پائی…. زائد ابھی حاضری کا پروانہ نہیں ملا…. اس نے یہ سوچ کر صبر کر لیا …
اگلے دن فخر کی نماز اس نے نے مسجد نبوی (ص) کے احاطے میں پڑھی وہ جلال صاحب کو بتا کر آئی تھی تا کہ وہ پریشان نہ ہوں نماز ادا کرنے کے بعد وہ مسجد کے اندر داخل ہو گئی…..
وہ بیرونی جالیوں کے ساتھ ماتھا ٹیک کر بیٹھی ہوئی تھی اس پر غنودگی طاری ہونے لگی….. نیم سوئی حالت میں تھی کہ اچانک اک سایہ اسے اپنے پاس محسوس ہو یہ پتا نہیں اس کا خیال تھا یا وہ کوئی خواب دیکھ رہی تھی اسے چہرہ نظر نہیں آیا کیونکہ چہرے پر اتنی نور تھا کہ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں.. اس سائے نے اسے بازو سے تھاما اور سیدھا روضہ رسول (ص) میں قبر انور کے سامنے لا کر چھوڑ دیا…….. اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی خواتین اہلکاروں نے دروازے کھول دیئے…..
اور وہ بے خود چلتی ہوئی رسول اللہ (ص) کی جالیوں کے سامنے آگئی اس کے آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر تھا اس کے لبوں پر صرف درود پاک تھا وہ جانے کتنی دیر ہاتھ باندھے اک غلام کی طرح کھڑی رہی….
وہاں کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد اک عورت نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی ….پھر اس نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کئے جو جو نوافل ادا کرتا جاتا دو دوسرے راستے سے باہر نکل جاتا تا کہ سب لوگ اس سعادت سےفیض یاب ہو سکیں…
وہ نہ چاہتے ہوئے دوسرے راستے سے باہر نکل گئی وہ سبز گنبد خضری کے بکلل نیچے سائے میں کھڑی تھی وہ اتنا روئی کہ وہاں موجودہ سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے….. ایک عورت اس کے پاس آئی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی بیٹی کیا کچھ کھو گیا ہے تمہارا…… وہ انہیں کیا بتاتی اپنا سب کھویاہوا اس نے یہاں پا لیا تھا وہ پکر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی جب اس کی طعبیت تھوڑی سنمبھلی تو صبح کے نو بج چکے تھے….
اسے ہوٹل جانے کا خیال آیا وہ مسجد کے اندرونی دروازے سے ابھی باہر نکل رہی تھی کی اسے انا بی اور جلال صاحب آتے ہوئے دکھائی دئیے وہ انہیں مسجد کے صحن میں بٹھا کر کھانا لینے چلی گئی مسجد کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر کھانا کھایا وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی
ظہر کی نماز کے بعد وہ لوگ جنت البقیع کی طرف گئےیہ مدینہ منورہ کا قبرستان ہے جو مسجد نبوی سے بہت تھوڑے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس میں بے شمار صحابہ (تقریباً 10 ہزار) اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضور اکرم کی چاروں صاحبزادیاں، حضور اکرم کی ازواج مطہرات، آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔
اندر جانے کی اجازت تو نہیں تھی انہوں نے باہر باڑ ( جو قبرستان کے چاروں طرف لگائی گئی ہے) کے پاس کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کی…
بابا کل ہماری روانگی ہے واپس مکہ کی طرف کیوں نہ باقی زیارتوں پر حاضری دی جائے پتہ نہیں دوبارہ زندگی میں کب موقع ملے اور مجھے مدینہ کے بازار سے کچھ خریداری بھی کرنی ہے…..
عصر کی نماز سے پہلے وہ احد کے پہاڑ پر گئےمسجد نبویؐ سے تقریباً 4 یا 5 کیلو میٹر کے فاصلہ پر یہ مقدس پہاڑ واقع ہے جس کے متعلق حضور اکرم نے ارشاد فرمایا :
ھذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبّہُ۔
“اُحد کا پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے او رہم اُحد سے محبت رکھتے ہیں۔”
اسی پہاڑ کے دامن میں 3ھ میں جنگ احد ہوئی جس میں آنحضرت سخت زخمی ہوئے اور تقریباً70 صحابۂ کرام شہید ہوئے تھے۔ یہ سب شہداء اسی جگہ مدفون ہیں جس کا احاطہ کردیا گیا ہے۔ اسی احاطہ کے بیچ میں حضور اکرم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مدفون ہیں، آپؓ کی قبر کے برابر میں حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدفون ہیں۔حضور اکرم خاص اہتمام سے یہاں تشریف لاتے اور شہداء کو سلام ودعا سے نوازتے تھے۔
گائیڈ( پہاڑ کے اک حصے کے پر کھڑا ہوا) نے انہیں بتایا اس پہاڑ پر یہ جگہ ایسی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پر نبی اکرم (ص) کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے وہ کافی دیر تک اس جگہ پر بیٹھی رہی وہاں کی مٹی پر ہاتھ سہلاتی رہی اور آنسو بہاتی رہی…
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ سب کچھ یہاں سے اپنے دل اور آنکھوں میں چھپا کر لے جائے…. انوشے بیٹا اب آ بھی جاؤ عصر کی اذان ہونے سے پہلے مسجد قباء جانا ہے ہم عصر کی نماز ادھر ہی ادا کریں گے آ جاؤ دیر ہو رہی ہے…
وہ جلال صاحب کے آواز دینے پر نیچے اتر آئی….. اب ہم یہاں سے مسجد قباء جائیں گے انا بی پوچھا جو اک طرف بیٹھی تھیں وہ پہاڑ کے اوپر نہیں چڑھی تھیں …
جی بلکل آنا بی… جلال صاحب نے جواب دیا…. جب وہ مسجد قباء میں داخل ہوئے تو عصر کی نماز ہو رہی تھی ان لوگوں نے جلدی تازہ وضو کیا اور امام کے پیچھے با جماعت نماز ادا کی…
مسجد قُبا مسجد نبویؐ سے تقریباً4کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ مسلمانوں کی یہ سب سے پہلی مسجد ہے۔حضور اکرم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ بن عوف کے پاس قیام فرمایا اور آپ نے صحابۂ کرامؓ کے ساتھ خود اپنے دست مبارک سے اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ اس مسجد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْویٰ (التوبہ108)۔
” وہ مسجد جس کی بنیاد اخلاص وتقوی پر رکھی گئی ہے۔”
نماز ادا کرنے کے بعد انہوں نے ساری مسجد دیکھی محراب اتنی خوبصورتی سے ڈیزائن کئے گئے تھے کہ بنانے والے کی تعریف کئے بغیر انسان رہ نہیں سکتا…
اس کے بعد انکا اگلا ہدف مسجد قبلتین تھی….. یہاں انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی وقت کم ہونے کی وجہ سے یہاں زیادہ دیر قیام نہیں کر سکے عشاء کی نماز سے پہلے مسجد نبوی( ص) میں پہنچنا تھا..
مسجد قبلتین….. تحویل قبلہ کا حکم عصر کی نماز میں ہوا۔ایک صحابی نے عصرکی نماز نبی اکرم کے ساتھ پڑھی، پھر انصار کی جماعت پر ان کا گزر ہوا۔ وہ انصار صحابہ (مسجد قبلتین میں) بیت المقدس کی جانب نماز ادا کررہے تھے ۔ان صحابی نے انصار صحابہ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو دوبارہ قبلہ بنادیاہے، اس خبر کو سنتے ہی صحابۂ کرام نے نماز ہی کی حالت میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا ۔ اس مسجد (قبلتین) میں ایک نماز 2 قبلوں کی طرف ادا کی گئی اس لئے اسے مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ تحویل قبلہ کی آیت اسی مسجد میں نماز پڑھتے وقت نازل ہوئی تھی۔….
وہاں نماز کی ادائیگی کے بعد دوبارہ مسجد نبے(ص) کی طرف رخت سفر باندھا گیا…… عشاء سے قبل وہ پہنچ گئے… مدینہ کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے… عشاء کی نماز کے بعد وہ انا بی کو وہیل چیئر پر ریاض الجنہ لے کر گئی انہوں نے وہیل چیئر پر ہی نوافل ادا کئے کیوں کہ وہاں بہت رش ہوتا ہے اگر انا بی ادھر گر جاتیں تو کو کو وہاں سے سلامت لے کر جانا مشکل ہو جاتا…
اس کے بعد وہ لوگ مدینہ کے بازار میں گئے رات کے با وجود وہاں چہل پہل تھی
وہ جلال صاحب اور انا بی کے ساتھ بازار گئی اس نے وہاں سے اپنے لیے اک عطایا اور اک ڈوپٹہ خریدا اور سویرا کے لیے کچھ کپڑے باجی فاطمہ کے لئے سفید رنگ کے کڑھائی والے دو ڈوپٹے لئے….
اس نے جو دو بوڑھے میاں بیوی انہیں ایئرپورٹ پر ملے انکا ہوٹل ان سے الگ تھا انوشے نے ان کے لیے کافی زیادہ تخائف خریدے …..اسے یقین تھا کہ ان سے مکہ میں دوبارہ ملاقات ہو گی….
ان کی کل ظہر کے بعد مکہ واپس روانگی تھی…. انا بی کافی تھک چکی تھیں اور جلال صاحب سے بھی مزید چلا نہیں جا رہا تھا… مدینہ منورہ سے واپسی جا کر انہوں نے عمرہ بھی ادا کرنا تھا…. اس لئے وہ لوگ تقریباً رات کے دس بجے ہوٹل واپس پہنچے….
وہ ساری رات جا گری رہی اور مسلسل روتی رہی وہ یہاں سے واپس نہیں جانا چاہتی تھی….
اس نے وضو کیا اور جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی… وہ دعا مانگنے لگی….
خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے
اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے
جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا
اور اس سلطنت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے سے بلند تر ھے۔اس ذات کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ھے،
اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ھے جن سے ھر شے کے ارکان معمور ھیں ۔اس علم کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کا احاطہ کئے ھوئے ھے
اور اس نور ذات کے واسطہ سے ھے جس سے ھر شے روشن ھے۔اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔
خدایا میرے گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ھوتے ھیں۔
ا ن گناھوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ھیں ۔ان گناھوں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ھیں ۔
ان گناھوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ھوتے ھیں۔ خدایا میرے تمام گناھوں اور میری تمام خطاوٴں کو بخش دے۔
خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ھو رھاھوں اور تیری ذات ھی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رھا ھوں تیرے کرم کے سھارے میرا سوال ھے
کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نھایت درجہ
خشوع ،خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ھاھوں کہ میرے ساتھ مھربانی فرما۔مجھ پر رحم
اسی پر قانع بنادے جو میرے مقدر میں لکھا ہے….
مجھے ھر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔
خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ھے جس کے فاقے شدید ھوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ھوں
اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ھو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی
تیرا امر ظاھر۔تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ھے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ھے۔
خدایا میرے گناھوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال
کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نھیں ھے۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ھے۔ خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ھے۔
خدایا میرے کتنے ھی عیب ھیں جنھیں تونے چھپا دیا ھے اور کتنی ھی عظیم بلائیں ھیں جن سے تونے بچایا ھے۔ کتنی ٹھوکریں سے تونے سنبھالا ھے اور کتنی برائیاں ھیں جنھیں تونے ٹالا ھے۔کتنی ھی اچھی تعریفیں ھیں جن کا میں اھل نھیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

SHARE

LEAVE A REPLY