اسلام آباد میں قومی کتاب میلے کے دوران اسٹیج سے گر کرانتقال کرنے والی مصنفہ فرزانہ ناز کے بچوں اور لواحقین کے لیئے پیکج میں تاخیر اور ذمیداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیئے یکم مئی کو پہلے مرحلے میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا جس میں راولپنڈی اسلام آباد کے شاعروں ادیبوں نے شرکت کی اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ سراکری ادبی اداروں کے سربراہوں کا احتساب کیا جائے اور فرزانہ کی ہلاکت کے زمیداروں کے خلاف غیر جانبدارانہ تفتیش کر کے انکو قرار واقعی سزا دی جائے

احتجاج کے دوسرے مرحلے میں دو مئی منگل کے روز فرزانہ ناز کی موت کی شفاف تحقیقات اور ان کے بچوں کے لیے امدادی پیکج کی منظوری کےلیے میرپور کے شاعر اور ادیب چوک شہیداں میں سراپا احتجاج بن گئے اور فرزانہ ناز کی موت کے زمیداروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا
احتجاج کرنے والے شاعروں ادیبوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ سرکاری ادبی اداروں کے سربراہوں کا احتساب کیا جائے اور فرزانہ کی ہلاکت کے زمیداروں کے خلاف غیر جانبدارانہ تفتیش کر کے انکو قرار واقعی سزا دی جائے

میر پور میں ہونے والے اس احتجاج کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے












