مسلمانوں کی بد نصیبی ہے کہ وہ کسی کی عمر بھی کی نیکی ایک پل میں دین مذہب کی چادر میں لپیٹ کر اس کا اصل کام دفنا دیتے ہیں اور اس کی نیکی کو دنیاداری کے کھاتے میں ڈال کر نیکی کرنے والے کو کافر یا کافرہ کہہ کر دنیا کے سرد خانے میں ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جو ہر وقت انسانیت کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں انہیں اس بات کا قلق رہتا ہے کہ انہیں کسی غیر مسلم کو تاج انسانیت پہنانا پڑتا ہے اور ہر تھاپ پر اس کا نام لینا پڑتا ہے ۔ لہذا آسان سا کام ہے کہ انہیں کافر کہہ دو۔

ایسا ہی کچھ 10 اگست کو ہوا جب پاکستان کی خدمت کرتے ہوئے ایک عظیم عورت ڈاکٹر رتھ فاؤ انتقال کر گئیں . کتنے ستم کی بات ہے جنہیں ان کی حیات میں اپنی خدامت کا صلہ پاکستانی عوام نا دے سکی ان کے مرنے کے بعد اپنے دل کی کالک ان پر پوت رہے ہیں ۔ کوئی انہیں کافرہ کہہ رہا ہے اور کوئی انہیں جہنم کی نوید دے رہا ہے ۔ صد شکر کہ وہ یہ سب سننے سے پہلے ہی چلی گئیں ورنہ انہیں مسلمانوں کے دلوں کے کوڑھ کا بھی علاج کرنا پڑ جاتا ۔کہ مسلمانوں میں اب بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خود کش جیکٹ پہنے مسلمانوں کو مسلمان نہیں کہتے کیونکہ مسلمان تو اللہ سے لکھوا کے لائے ہیں کہ ان سے بہتر ان سے اچھا انسان تو پوری کائینات میں نہیں ہے ۔ رب العالمین نہیں بلکہ انکا رب المسلمین صرف اپنے تمام عالم کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف مسلمانوں کو جنت اور حوریں عطا کرے گا چاہے وہ شراب اور عورت میں پڑا زانی ہی کیوں نا ہو ، چاہے اس نے کتنے ہی معصوموں کی جان لے لی ہو ۔ وہ لوگ جو اس نظریہ سے بالا تر ہو کر انسانیت کو بچانے کا کام کرتے ہیں وہ اگر عیسائی اور یہودی بھی ہو گا تو سیدھا جہنم میں جائے گا بقول انکے ۔

اس مولویانہ اسلام کی نظر ہونے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ کے بارے کوئی کیا جانے گا ۔۔۔ ؟

کیا مولوی ملاؤں اور غلط اسلامی نظریوں کے پرچار کرنے والے درجنوں خود ساختہ عالم اپنے گھر کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور حسین لڑکی کو کسی دوسرے ملک بھیجے گا ؟

کیا یہ لوگ اسے کسی غیر ملک میں ایکلے رہنے دیں گے ۔۔؟

کیا اپنی بہن بیٹیوں کو یہ لوگ شادی کے بغیر اکیلا رہنے دیں گے ۔۔۔ ؟

ہر گز نہیں ۔۔ کبھی بھی نہیں کیونکہ انہیں اپنے جیسی نظروں اور ہوس کا معلوم ہوتا ہے ۔۔ انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ اس کی بہن بیٹی تو ٹھیک ہے لیکن جس جگہ جا رہی ہے وہاں کا مرد انہیں جیسا ہے ۔

rooth faow

سلام ہے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے والدین کو ۔۔ بہن بھائیوں کو جنہوں نے ان پر اعتبار کیا ۔۔ مسلمان مردوں کی ہوس کا رسک لیا پر ان کے عظیم مقصد کو یاد رکھا پھر ان کی خواہش پر تمام عمر اپنی بچی کی ہر خوشی سے خود کومحروم کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانیت کی اس عظیم باب پر کافرہ کی مہر لگانے والوں کی جہالت پر دل کھول کر رونے کودل کرتا ہے ۔۔ اور رب سے شکوہ بھی ۔۔۔ بھلا کیا ضروری تھا ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ان دلشکنوں کے درمیان رکھنے کا ۔۔ پھر سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں کہ وہ کیا تھیں ۔۔۔

نوستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی رُتھ کیتھرینا مارتھا فاؤدوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی جرمنی آگئی جہاں 1949 میں “مینز” سے ڈگری حاصل کی۔ زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ڈاکٹر رُتھ کو ایک مشنری تنظیم “دختران قلب مریم” تک لے آئی اور انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔

سن 1958ء میں ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے پاکستان میں کوڑھ جزام کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی ، جس میں بتایا گیا کہ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔

ان دنوں یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔ پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے۔ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا۔ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں۔ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں، لوگ آنکھ، منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے۔ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے۔

پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے یا تو سسک سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔ 1960 کے دوران مشنری تنظیم نے ڈاکٹر رُتھ فاؤ کو ان کی خواہش پر پاکستان بھجوایا۔ یہاں آکر ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو واپس نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر کوڑھیوں کی بستی میں چھوٹا سے فری کلینک کا آغاز کیا جو ایک جھونپڑی میں قائم کیا گیا تھا۔ “میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر” کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔

اسی دوران میں ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 1963 میں ایک باقاعدہ کلینک خریدا گیا جہاں کراچی ہی نہیں، پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے جذامیوں کا علاج کیا جانے لگا۔ کام میں اضافے کے بعد کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور ان کے لیے عملے کو تربیت بھی ڈاکٹر رُتھ فائو ہی نے دی۔ جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر رُتھ نے پاکستان کے دورافتادہ علاقوں کے دورے بھی کیے اور وہاں بھی طبی عملے کو تربیت دی۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاو، ان کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی بے لوث کاوشوں کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے1996 میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل کیا جہاں جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا۔

dr-ruth-martha-pfau

حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی گرانقدر خدمات پر حکومت پاکستان ، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازت شامل ہیں۔آغا خان یونیورسٹی نے انہیں “ ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ “ بھی دیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاؤ جرمنی اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتی ہیں اور گزشتہ 56 برس سے پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔انہیں پاکستان کی”مدر ٹریسا” بھی کہا جاتا ہے۔

دوستو۔۔!
یہ وہی کافرہ ، مشرکہ اور جہنمی ڈاکٹر رُتھ فاؤ ہے جو طویل علالت کے بعد 10 اگست 2017ء کو 87 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔ انکی آخری رسومات 19 اگست کو سینٹ پیٹرکس چرچ میں ادا کی جائیں گی۔ جرمنی سے شرکت کیلئے عزیزواقارب بھی پاکستان آئیں گے۔ بے مثال مسیحا ڈاکٹررتھ فاؤ کی تدفین گورا قبرستان میں کی جائے گی۔ انہوں نے زندگی میں پاکستان میں ہی تدفین کی وصیت کی تھی۔

شکر اور شکریہ حکومت کا کہ جس نے اس محسنہ پاکستان کی ردفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا

ڈاکٹرفاؤ نے 1960 میں پاکستان میں جذام کے خاتمے کیلئے کوششیں شروع کیں۔جرمنی میں پیدا ہونے والی خاتون جذام کے خاتمے کیلئے پاکستان میں ہی رہیں۔ہائے مسلمان کتنا احسان فراموش ہے جس نے ہمارے گھر کے دکھ سمیٹتے سمیٹتے اپنے دل اور گھر کے اجالے تیاگ دیئے آج ہم انہیں اپنے رب کی ربویت سے محروم ہونے کی نوید سنا رہے ہیں ۔ جبکہ میرا مہربان رب پکار پکار کر کہہ رہا ہے “ میں وہ ہوں جو کسی کی زرہ برابر نیکی بھی ضائع نہیں کرتا ۔۔ جو بار بار کہہ رہا ہے جو مجھ پر ایمان لایا ، قیامت پر یقین رکھا اور اچھے کام کئے انہیں کوئی رنج نہیں ہونا چاہیئے “۔۔۔

یہ عام طور پر دنیا بھر کا اور خاص طور پر پاکستان کا عمومی مسلمان تنگ دل،شدت پسند اور احسان فراموش کیوں ہو گیا۔ انکو بخوبی علم ہے کہ رتھ فاو نے انکے خاندانوں کے ان لوگوں کو گلے سے لگایا جنکو ان مسلمانوں نے خود گھروں سے باہر نکال پھینکا۔ انکو بخوبی علم ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ فقط اور فقط اللہ پاک نے کرنا ہے لیکن اسکے باوجود خدائی فیصلے ان کم علم اور بے عمل لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیئے ہیں۔ درست وضو کا طریقہ بھی نہ جاننے والے سوشل میڈیا پر مفسر قرآن اور مفتی بنے جاہلانہ فتوے تقسیم کر رہے ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق جسے چاہتے ہیں جنت جہنم تقسیم کر رہے ہیں

اے کاش یہ کوئی ایک ہی رتھ فاو پیدا کر سکتے۔ اس جابر معاشرے میں ایک عبدالستار ایدھی پیدا ہوا لیکن اسکے ساتھ بھی جو سلوک ہوا کسی سے مخفی نہیں

آج تو مسلمان نے حد کر دی اپنے رب کی شان بھی گھٹا دی ۔۔۔۔۔۔۔ رب العالمین کو بونے مسلمانوں کا بونا رب بنا دیا ۔۔۔۔۔۔ یا اللہ رحم ۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

2 COMMENTS

  1. میں یہ کہتا ہوں کیا یہ کہنا (ڈاکٹر رتھ فاو) کی عظمت کو اجاگر نہیں کرتا۔؟
    تیرے احسان بیاں ہو جائیں ایسے الفاظ کہاں سے لاؤں۔(آہ ڈاکٹر رتھ فاؤ)
    یہ بھی ھم نے کہا۔!
    آہ ڈاکٹر رتھ فاو! سچی خدمت خلق کا ایک باب ختم ہوا۔ ڈاکٹر رتھ فائو ! کوڑ کے متاثر مریضوں کیلئے مسیحہ تھی ۔ ڈاکٹر رتھ کی ساری خدمات جو کوڑ کے مریضوں کی خدمت اور بحالی کے سلسلے میں کی گئ تھیں، اور پاکستان سے کوڑ کے خاتمہ کرنے کیلئے انہوں نے کی تھیں انکو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔
    آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کی انسانیت کے لیئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ بلاشبہہ پاکستان میں ان کی خدمات کو برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے بھی ان کی خدمات کے عوض انہیں بہت سے ملکی ایوارڈز سے نوازا۔ جن میں
    ٭ ستارہ قائد اعظم
    ٭ ہلال امتیاز
    ٭ ہلال پاکستان
    ٭ جناح ایوارڈ
    ٭ نشان قائد اعظم
    ٭ ڈاکٹر آف سائنس (DSc) آغا خان یونیورسٹی کراچی
    شامل ہیں۔
    مذہب کے حوالے سے آنجہانی ڈاکٹر رتھ فاؤ کا تعلق عیسائی فرقہ کیتھولک سے تھا (لیکن کسی ایک نے پروٹسٹنٹ لکھا)
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کسی مستند عالم دین نے اس کو جہنم میں بھیجنے کا سرٹیفیکٹ دیا ہو ۔
    آپ نے اچھی بات غلط انداز میں کہی ہے ، افسوس ہے آپ انداز تکلم پر ! آخر آپ کانام بھی مسلمانو ں والا ہے

  2. Excellent article on Dr Ruth Fao the great humanitarian of Germany and Pakistan who treated thousands of lepers of Pakistan throughout her life.This article must be read by every school and univeersit of Pakistan and of the world.

LEAVE A REPLY