سیاسی شعورکا مظاہرہ، بہت خوب۔ ماہ پارہ صفدر

0
152

پاکستان کے شہر پشاور میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کے انتخاب میں تحریک انصاف نے واضح برتری سے کامیا بی حاصل کرلی جو جماعت کی ساکھ بچانے کے لیے بہت ضروری تھی۔ یہ نشست تحریک انصاف کے ایک رکن گلزار خان کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی ، اور یہاں پر شکست تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہوتی، خصو صاً عمران خان کی جانب سے اچھی گورنس اور ’ نئے پاکستان‘ کے بلند و بانگ دعووں کے تناظر میں اس نشست کی کامیابی کو ان کے لیے ایک ٹیسٹ قرار دیا جارہا تھا۔

یہ کامیابی اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نشست کا مقابلہ لاہور میں نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست سے کیا جارہا تھا۔ جو مسلم لیگ نواز اپنے پاس رکھنے میں کامیاب رہی گو کہ ان کے ووٹوں کی تعداد پہلے سے کم تھی۔

پشاور کا یہ انتخابی حلقہ ایک حسسا س علاقے پر مشتمل ہے۔ یہاں ماضی میں سیکورٹی کے حالات مخدوش رہ چکے ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے کا مشہور زمانہ فوجی ہوائی اڈہ ’ بڈا بیر‘ اسی علاقہ میں واقع ہے، جو جنرل ایوب کے دور اقتدار میں سابق سویت یونین کے خلاف بارہ برس تک امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے زیر استعمال رہا۔ مگر اب یہ اڈہ پاکستان فضایہ کے پاس ہے۔ اس اڈے پر 2015 میں ایک بڑے دہشت گرد حملے میں دو درجن سے زائد شہریوں سمیت ایک کیپٹن ہلاک ہوگئے تھے۔

ایسے حلقے میں بغیر کسی تشدد کے انتخاب مکمل ہونا اپنے طور پر یقیناً صوبائی حکومت کی ایک کامیابی ہے۔

نتائج سے قطع نظر اس انتخاب میں کچھ ایسے نئے رحجانات سامنے آئے۔ جو خوش آئیند ہیں اور جنھیں عوام کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کا آئینہ دار کہا جاسکتا ہے۔

اولاً تو یہ کہ ووٹنگ اگر واقعی ہی کسی دباؤ کے بغیر اور منصفانہ بنیادوں پر ہو تو مذہبی جماعتوں کی کامیابی کا امکان نہیں۔ خصوصاً جماعت اسلامی تحریک انصاف کے علاوہ تین بڑی جماعتوں سے بہت پیچھے نظر ائی، حالانکہ وہ یہاں حکومت میں شامل ہے۔

پیپلز پارٹی کو یقیناً بہت غور فکر کی ضرورت ہے، پنجاب کے بعد ان کا ووٹ بینک یہاں بھی زوال پذیرنظر آیا۔

ان کے امید وار اسد گلزار اپنے والد گلزار خان کی وفات سے خالی ہونے والی نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ مگرانھیں اپنے والد کے 55 ہزار ووٹوں کے مقابلے ایک چوتھائی سے بھی کم ووٹ ملے۔
اس کا واضح مظلب یہ ہے کہ ووٹروں نے موروثی سیاست اور ہمدردی کے بجائے امیدوار اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالا۔

ا نتخابی مہم کے دوران تواتر سے اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ کہ عوامی فلا ح و بہبود جیسے کہ بجلی اور گیسں جیسے منصوبے بہت سرعت سے مکمل کیے گئے۔ اسی قسم کی آوازیں لاہور میں نواز شریف کے حلقے سے بھی سنی گئی تھیں۔ ایسے طرز حکمرانی پر جس قدرتشویش ظاہر کی جائے وہ کم ہے کہ اگر فلاحی منصوبے دو ماہ میں مکمل کیے جاسکتے ہیں تو یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
میں سمجھتی ہوں کہ یہ عمل انتخابی دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس بارے میں کچھ ضابطے بنانے ہونگے۔

لیکن روشن پہلویہ ہے کہ اب ووٹرز کے مسائل حل کئے بغیر ووٹ حاصل کرنا دشوار ہوگا، گویا جمہوریت کے ثمرات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔

یہ رحجانات ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو ہمیشہ یہ راگ الاپتے اور ان مفروضوں میں گم رہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں چل سکتی۔ کیونکہ یہاں کے لوگ ابھی اس قدر باشعور نہیں ہوئے کہ وہ اپنی حکومت کا فیصلہ کرسکیں۔

مگر افسوس کہ جیت کا جشن مناتے ہوئے تحریک انصاف کے حامیوں نے جس طرح لاقونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی ، وہ یقیناً کسی سیاسی پختگی اور کسی نئے پاکستان کی عکاس نہیں۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY