حق میں جاتا تھا اسکے جو صفدر

0
727

کس یقیں سے گمان بدلا ہے
تیر بدلا کمان بدلا ہے

نیند کا توڑنا قیامت تھا
اُس نے وقت اذان بدلا ہے

ہارنے کا نشان ہے وہ ہی
جیتنے کا نشان بدلا ہے

تم کو میری قسم ہے بتلا دو
کس کی خاطر دھیان بدلا ہے

صرف اک شہر کے بدلنے سے
کیوں زمیں آسمان بدلا ہے

اجنبیت کی گرد ہے ہر سو
ہم نے کیا سب جہان بدلا ہے

لہجہ بتلا رہا ہے تمہارا
تم نے پھر ترجمان بدلا ہے

گھر وہی ہے فقیر زادے کا
بس فقط اک مکان بدلا ہے

حق میں جاتا تھا اسکے جو صفدر
اُس نے وہ بھی بیان بدلا ہے

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY