آج پھر تمھاری یاد نے چپکے سے دل پہ آ کے دستک دی
آج پھر تمھاری یاد نے حجرہ چشم میں چراغاں کیا
آج پھر دشت دل میں تمھاری یادوں کے گلاب کھلے
کیا تمھیں یاد ھے کتنے برس ھوئے ھم کو بچھڑے ھوئے
شاید بہت ساری صدیاں گزر گئیں ہیں
میں اور تم کسی کوزہ گر کے
باتھوں سے ڈھلے
پیاسی مٹی کے برتن کی طرح
نامکمل
ادھورے
تنہائی کے زنداں میں
مدتوں سے مقید و اسیر
سنا ھے در زندان کے دیوار پر
ھمارے نام کندہ ھیں
جہاں ھر شب ستارے جگمگاتے ھیں
محبت کا یہی تو معجزہ ھے
شاہین اشرف علی













