ہم ایک ہفتے میں دوسرا کالم بہت کم ہی لکھتے ہیں مگر اکثر بھڑاس نکالنے کو ضروری ہو جاتا ہے کہ کچھ لکھیں ،گو ہماری آواز صدا بہ صحرا ہو جاتی ہے مگر ہمیں یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہمارے بَس میں تھا ہم نے کیا ،سوچا اس سال کا آخری کالم ضرور لکھیں شاید کچھ چہرے سامنے آجائیں ۔
ہماری حیرت کی انتہاء ہے کہ سعودی عرب پھر ہمارے بیچ آرہا ہے اللہ کے گھر پر ہم سب قربان لیکن ہمارے حکومتی کاموں میں اس درجہ مداخلت کیوں یہ ہماری ناقص عقل میں نہیں آتا پہلے بھی دس سال کا معاہدہ کرایا اور جس تکلیف اور ازیت سے ہم سب گزرے بلکہ اب تک اُس معاہدے کو ُبھگت رہے ہیں کہنا بے جا نہ ہوگا ۔کہ دوسرے ممالک کی یہ در اندازیاں ہمارے لئے کبھی بھی بہتری نہیں لاتیں ۔لیکن ہمارے سارے بونے سیاست دان صرف ایک راگ الاپ رہے ہیں کہ ڈیل نہیں ہونے دینگے ۔ بھئی کیسے روکوگے جب اب تک تم نہ کچھ بولے نہ ہی تم میں سے کسی نے یہ پوچھا کہ بغیر کسی کو بھی اعتماد لئے شھباز صاحب کیسے چلے گئے تو اب کس طرح روکوگے ۔ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ ہم سب ہی جب خاموش رہتے ہیں تو حصہ بنتے ہیں ان تمام ڈیلوں کا جو یہ لوگ کرتے ہیں اور ملک سے بھاگ جاتے ہیں اور بیرونِ ملک بیٹھ کر ہماری سیاست اور ملکی امور میں مداخلت کرتے ہیں ۔
ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح ایک لیڈر نے لندن میں بیٹھ کر کراچی کا امن تباہ کیا ہم نہیں کہہ رہے خود اُس کی پارٹی کے لوگ کہہ رہے ہیں جو وہ پارٹی چھوڑ چکے چیخ چیخ کر دُھائی دے رہے ہیں کہ ہم اُس پارٹی کا حصہ رہے جس نے جوانوں کا خون بہایا بھتہ لیا ہمیں معاف کرو ۔اب ہم کیا کہیں اور کس طرح اُن پر یقین بھی کریں یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔کیونکہ بچھوکی عادت ہوتی ہے ڈنک مارنے کی ۔کہتے ہیں ایک گاؤں میں سیلاب آیا تو ایک بچھو ڈوبنے لگا ایک کچھوا بھی وہیں تیر رہا تھا اُس نے بچھو کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا کہ میں تمہیں پانی سے نکال دیتتا ہوں جیسے ہی کنارے پر آیا بچھو نے کچھوے کو ڈنک مار دیا کچھوا بہت ناراض ہوا کہ میں نے تمہاری جان بچائی اور تم نے مجھے ہی ڈنک مار دیا بچھو نے کہا میں اپنی عادت سے مجبور ہوں ۔ایسے نہ جانے کتنے بچھو ہمارے درمیاں ہیں جو وقت بے وقت ہمیں ڈنک مارتے رہتے ہیں اور ہم اُنہیں کنارے پر پہنچاتے رہتے ہیں ۔
ہمیں تو لگتا ہے کہ ہمارے ساری ہی بونے لیڈڑ کبھی بھی کسی کے بھی خلاف نہ خود کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کو کھڑا کر سکتے ہیں پھر ایک ڈیل ہو جائیگی ۔اور یہ سب یہ بانسری بجاتے رہینگے کہ ہم ڈیل نہیں ہونے دینگے ۔عجب طُرفہ تماشہ ہے جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ ہی سمجھانے کا ۔
اب تک سب ہی جھولے جھولتے رہے ہیں جب تک عقل کے ناخُن نہیں لینگے کچھ نہ بدلے گا نہ بدل سکینگے ۔کہتے ہیں دیل ہو رہی ہے کہ سب کو چھوڑ دیا جائے ۔کرپشن کے الزام سے بری کر دیا جائے تو ہم جان کی امان پائیں تو عرض کریں تو کیا جو حکومتیں اپنے ملک میں کرپشن پر لوگوں کو پکڑتی ہیں دوسرے ممالک کے بیچ میں پڑنے سے اُنہیں چھوڑ دیتی ہیں ۔شاید نہیں چائنا کی مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اگر دو چار کو بھی ہمارے ملک میں اس کرپشن پر سزا دے دی گئی تو کوئی ملک میں کرپشن کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرے گا ۔لیکن کاش ہم اپنے فیصلے خود کریں اور ایک متحد اور منظم قوم بن کر سامنے آئیں ۔
اگر کوئی معاہدہ اب کیا گیا تو ہمیں خوف ہے کہ ہم سب ہی بری طرح دوسروں کے ہاتھوں میں آجائینگے ۔دوستی اور طرفداری اپنی جگہ لیکن جب ملک اور قوم کی بات ہو تو اپنا فائدہ نہ دیکھنا انتہائی مُظر ہوتا ہے ۔اگر اس وقت کوئی بھی ایسا قدم اُٹھایا گیا تو ہمیں یقین ہے کہ نئی نسل ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی اور ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایس اسبق بھی دے جائینگے جس کا خمیازہ وہ خود بھی بھگتینگے اور ہمیں کبھی اچھائی سے یاد بھی نہیں کرینگے ۔اور شاید ہم سب بھی کبھی خود کو معاف نہ کر سکینگے کہ ایک موقعہ ملا تھا کہ اس نحوست کو ختم کر لیتے ملک سے مگر ہم نے موقعہ ضائع کر دیا ،سب کی نظریں عدلیہ پر ہیں ۔
یہ ہمارے خود ساختہ بونے لیڈر جو کبھی مذہب کے نام پر کبھی اپنی بزرگی کی وجہ سے کبھی ہماری تھوڑی سی پسند کی وجہ سے ہماری امیدوں کا محور ہن جاتے ہیں وہ بھی ایسی بوَنی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہم بس دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئیگی تبدیلی ؟کون لائیگا تبدیلی ؟اور کون کھڑ اہو گا واقعئی لیڈر بن کر،وہ لیڈر جو میرے ملک میں عُنقا ہیں
بچوں جیسی حرکتوں سے اب دل خراب ہے ۔کوئی سنجیدگی کہییں بھی نظر نہیں آتی ،ہر ایک کے منہ میں انگوٹھا ہے ،کوئی بڑا ہونے کو تیار ہی نہیں ،
ہماری سمجھ میں اے پی سی نہ آئی اگر اسی طرح وقت دینا تھا تو آپ تو پہلے ہی تین سال دے چکے ہیں ۔ہماری تکلیف یہ ہے کہ آپ سارے عوام کو ایک مشکل میں ڈالتے ہیں سب سمجھتے ہیں کہ شاید انصاف کے لئے اب سب ہی نکل کھڑے ہونگے مگر ہر بار ایسی تکلیف دہ بات ہوتی ہے کہ دل نہیں چاہتا کسی بھی بات کا اعتبار کرنے کو ۔ ہم تو کہتے ہیں اگر آپ حق پر ہیں بلکہ یقینا ہیں تو پھر کیسے مزہبی اجتماع کی شرکتیں اور کیسے غیر ممالک کے دورے پہلے آپ قصاص تو لیں اُن معصوم کارکنوں کو انصاف تو دلائیں جو آپ کی ان تقاریر سے کہیں زیادہ ضروری ہے ،اُن محتاجوں کی معاونت تو کرائیں جو اس حادثے میں معزور ہوئے جو اپنے گھروں کے کفیل تھے جنہیں گولیاں اس بے دردی سے ماری گئیں کہ اگر کسی اور ملک میں یہ حادثہ ہوتا تو شاید اب تک تمام ملزم کیفرِ کردار کو پہنچ چکے ہوتے۔ وہاں کے نہ عوام چین سے بیٹھتے اور نہ وہ لیڈر جو اُن کا لیڈر کہلاتا ،مہذب ممالک میں اول تو ایسے حادثے ہوتے نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو وہاں کے عوام اور لیڈر مل کر انصاف حاصل کرتے ہیں اور دوبارہ کسی کو جرائت تک نہیں ہوتی کہ کسی پر ظلم کرے ۔مگر ہمارے لوگ تو اُن بونوں سے بھی گئے گزرے ہیں جنہوں نے ایک بڑے اآدمی کو اپنے درمیان پاکر ہزاروں نے مل کر اُسے رسیوں سے جکڑ دیا تھا یہ کہانی ہم سب نے ہی سنی ہے ۔مگر افسوس ہمارے لیڈر اُن بونوں کے مقابل بھی کھڑے نہیں ہوسکتے صرف اور صرف ہمارے جزبات سے کھیلتے اور وقت پر وقت دیتے رہتے ہیں یہ کھیل کب تک چلے گا ہمیں نہیں پتہ مگر شاید یہ لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ قدر کم کرتا ہے ہر روز کا بہانہ کرنا ،(تبدیلی کی معافی چا ہتے ہیں )
وزیرِ اعلیٰ سعودی عرب کے بھیجے گئے جہاز میں سعودیہ سدھارے ۔کیوں کس لئے کیاوجہ ہے ،کسی کو نہیں پتہ اور نہ ہی ہمارا کوئی بھی اپوزیشن لیڈر اس پر احتجاجی ہے کہ پارلیمنٹ کو بتائے بغیر کیوں گئے ،ٹھیک ہے عوام کو ہر بات نہ بتائو مگر اس طرح شکوک اور شبھات پیدا کرنے سے کیا فائدہ ؟ ہماری سمجھ میں کوئی بھی اپوزیشن پارٹی نہیں آتی کیوں اس قدر نرمی ہے ہر بات میں ،کیوں کوئی آواز نہیں اُٹھتی ؟؟؟؟؟
عوامی جزبات اور احساسات سے کھیلنا ایک وطیرہ بنا لیا گیا ہے ۔ہم نے اپنے ملک میں وہ ماحول ہی نہیں رکھا کہ ایک دوسرے پر اعتماد کیا جائے ۔جس کا جو دل چاہتا ہے کہتا ہے کوئی پکڑ نہیں ۔ جو خبریں آرہی ہیں انتہائی حیرت ناک ہیں کاش سب غلط ہوں اور ہم اپنے ملک میں اپنے معاملات پر خود فیصلے کر سکیں کسی دوسرے کو مداخلت کی اجازت دئے بغیر ۔
اللہ میرے ملک میں امن و امان رکھے آمین
بونے لوگ ،بڑے مسائل ۔عالم آرا
1146
0












