حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس بروز اتوار راولپنڈی پریس کلب میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معافیہ شیخ نے کی۔ نرگس جہانزیب نے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے۔ حلقے میں تنقید کے لیے پیش ہونے والی تخلیقات میں سید ماجد شاہ کی غزل اور فاطمہ عثمان کا افسانہ بعنوان “پگلا” شامل تھے۔ اجلاس کے شرکاء میں معافیہ شیخ ، نرگس جہانزیب، سید ماجد شاہ، فاطمہ عثمان، امداد آکاش، صباح کاظمی، عالی شعار بنگش، محمد سعیداللہ، جہانگیر عمران، فرحین خالد، صفیہ شاہد، صفیہ کوثر، سرمد سروش، ذاکر رحمان، راحت خان، مظہر شہزاد، ردا نقوی اور سید عارف سعید بخاری شامل تھے۔
سید ماجد شاہ کی غزل کے حوالے سے شرکاء کی مجموعی رائے تھی کہ فلسفیانہ اور سائنٹفک موضوعات کی غزل ہے جس نے بھاری پن پیدا کیا۔ غزل میں تغزل اور رقت موجود نہیں جو غزل کا حسن ہیں۔
صاحبۂ صدارت معافیہ شیخ کے مطابق تکنیکی طور پر تو غزل میں کوئی عیب نہیں لیکن ان موضوعات کو غزل کی بجائے نظم کی وسعت میں پرویا جائے تو بھلے لگتے ہیں۔ یہاں غزل کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔
فاطمہ عثمان کے افسانے بعنوان “پگلا” کے حوالے سے شرکاء کی مجموعی رائے تھی کہ فاطمہ عثمان اپنا اسلوب بنا چکی ہیں۔ افسانہ معاشرتی خرابیوں کے پیچھے کار فرما نفسیاتی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گو کہ کہانی عام سی ہے لیکن فاطمہ کی ٹریٹمنٹ نے اسے منفرد بنا دیا۔ صاحبۂ صدارت معافیہ شیخ کی رائے میں نفسیاتی موضوعات کو چھیڑنے کے لیے تخلیق کار کی کردار نگاری بڑی مضبوط ہونی چاہیے اور جس طرح مرکزی کردار “میسنے” کو پروان چڑھایا گیا ہے بہت کمال ہے۔ کہانی میں کوئی ولن نہیں لیکن اپنی اپنی جگہ ہم سب متاثرہ بھی ہیں اور ولن بھی۔ کامیاب افسانے پر فاطمہ عثمان کو مبارکباد۔ تخلیقات کے بعد حلقے کے الیکشنز کے حوالے سے پروگرام متعین کیا گیا جو بوجوہ تاخیر کا شکار تھا۔ اگلے اتوار تک حلقے کی سیکرٹری شپ کے لیے کاغذات اور درخواست جمع کرانا ہوگی۔
رپورٹ ۔ مظہر شہزاد خان بیورو چیف اسلام آباد














انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ، آمین ۔ بھائی رسا چغتوئی کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی ۔
صغیر احمد جعفری اردو منزل
فون نمبر : Tel. 0092 336 237 6189