بتادو بھی دو پردے کےپیچھے کون ہے۔ شمس جیلانی

0
1369

ہمیں یہ دھمکی سن کر اپنے بچپن کا ایک واقع یاد آگیا اس زمانے میں مالی چکر باز بہت اور سیاسی چکر باز کم ہوا کرتے تھے۔ جبکہ مالی چکر باز نئے نئے ٹرِک ایجاد کرتے رہتے تھے۔ا نہیں میں ایک صاحب تھے جو روزانہ مجمع لگاتے تھے، لوگوں کو جمع کرنے کے لیئے۔ اور انہیں وہ ایک ہی نعرہ لگا کر جمع کرتے تھے پھر اپنے چنگل سے نکلنے نہیں دیتے تھے۔ کہ“ بھائیوں میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں کہ چیل بارہ بجے انڈہ کیوں چھوڑتی ہے اور ہر تھوڑی دیر کے بعد وہی نعرہ دہراتے رہتے۔ اوراپنا مال بیچ کر اور سب کو بیوقوف بنا کر چلے جاتے ۔ مگر وہ نوبت کبھی نہیں آتی تھی کہ وہ بتائیں کہ وہ راز ہے کیا؟دوسرے روز دوسرے دیہاتی پھنس جاتے ۔ مگر وہ راز راز ہی رہتا حتیٰ کہ ہم جوان ہوگئے اور اپنےآ بائی شہر سے چلے آئے، اس وقت تک انکا یہ کاروبار با جاری رہاہے؟ اس لیے کہ“ راز ا س میں تھا ہی نہیں یہ تو محاورہ ہے کہ بارہ بجے چیل بھی انڈہ چھوڑدیتی ہے “ لہذا موسم گرمامیں لوگ گھر سے باہر نہ نکلیں، یا کسی سائے دار درخت کے نیچے آرام کریں۔ جب ہم پاکستان آئے تو ہم نے یہ ہی بات لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بہت سے لوگوں سے سنی کہ “ مجھے معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ میں یہ راز کھول دونگا “۔ اس کے بعد بھٹو صاحب کی زبانی یہ ہی بات سنی کہ میں معاہدہ تاشقند کا راز جانتا ہوں مگر وقت آنے پر بتاو نگا“ لیکن انہیں موت نے مزید مہلت نہ دی اور وہ راز اپنے ساتھ لیکر چلے گئے جبکہ بہت سوں کے خیال میں وہ کوئی رازہی نہ تھا۔ اب یہ ہی بات نواز شریف صاحب کہہ رہے ہیں؟

ہما ری جگہ اگر آپ ہوں تو بتائیں کہ پرانے تجربات کی بنا پر کیا کہتے؟ میرے خیال میں لوگوں کواب کوئی نیا “ ٹرک “استعمال کرنا چاہیے تاکہ لوگ یقین کریں۔ ورنہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ بھی سامان بیچنے کی ترکیب ہے؟ یا پھر آج کے دور میں“ بلیک میلنگ “سمجھیں گے جو کہ شریفوں میں معیوب ہے اور کسی شریف کوزیب بھی نہیں دیتی۔ شریف نہ ہو تو اور بات ہے کہ اسے اپنی عزت کا ہی خیال نہیں ہوتا؟ اسے اس سلسلہ میں مزید رہنمائی انڈیا سے مل سکتی ہے۔ مگر وہ وہی لےسکتا ہے جو وہاں پر اثر و رسوخ بھی رکھتا ہو ۔ عام پاکستانی کو تو وہاں کا ویزا لینا ہی مشکل ہے؟ لیکن ہم یہ مشورہ یوں دےرہےہیں کہ انہوں نے اس پر بڑی تحقیق کی ہے جو انکی آزادی سے جاری ہے اوراسی کے تحت جو بھی غلط کام انہوں نے کیے ہیں وہ کام تاریخ میں دوسروں کے نام لکھدیے ہیں ؟

ہوا یہ تھا کہ جب چکر بازوں کا کاروبار، تعلیم عام ہونے کی وجہ سے ہلکا پڑنے لگا تو انہوں نے ایک آل انڈیا چارسوبیس کانفرنس 1950 ع میں دہلی میں بلائی ۔ تب اس کے صدر نےاپنے خطبہ صدارت میں اپنے ہم پیشہ بھائیوں کو یہ مشورہ دیا کہ“ دنیا میں دھن (مال) اور مورکھوں (بے وقوفوں) کی کمی نہں ہے مگر ہمیں نئے چلتر (حیلے) اپنانے پڑیں گے؟ جب سے وہ ملک اسی کام میں لگا ہوا سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بناتا رہتا ہے؟ اس کے جو نئے دوست بنتے ہیں وہ بھی اس کے تجربہ سے فائدہ ٹھا رہے ہیں۔( اس کانفرنس کے انعقاد کے ثبوت کے لیئے سن پچاس کے اخبار ملاحظہ فر مالیں)
اب سوال یہ ہے کہ اس کا توڑ کیا ہے؟ جواب بہت آسان ہے۔ کہ جب بھی کوئی ایسا دعویٰ عوام کے سامنے کرے اس کو اسی مجمع میں عوام گھیر لیں اور کہیں کہ یاتو وہ راز بتاکر جائے ورنہ آ ئندہ اس کا ذکر نہیں کرے؟ اگر ایک دفعہ ا یسا کہیں بھی عوام نےکرلیا تو پھر آئندہ کسی کی ہمت نہیں ہوگی؟ ورنہ روز نئے دعوےدار پیدا ہو تے رہیں گے؟

SHARE

LEAVE A REPLY