نہال ہاشمی کی معافی قبول، سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لے لیا

0
52

سپریم کورٹ نے بار کے نمائندوں کی درخواست پر نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ان کیخلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جس میں وکلا رہنماؤں نے نہال ہاشمی کو معاف کرنے کی استدعا کی۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ 1997ء سے ایسا رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے، عدالت پر حملے کے بعد توہینِ عدالت کا قانون ختم کیا گیا، عدالت مناسب سمجھتی ہے تو سزا دے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا نہال ہاشمی کی گفتگو کا دفاع نہیں کروں گا، بطور وائس چیئرمین پاکستان بار عدالت سے معافی مانگتا ہوں، نہال ہاشمی نے زیادتی کی ہے، ان کے گھر کے حالات بھی جانتا ہوں۔

رشید اے رضوی نے کہا کہ عدلیہ کو برا کہنے والا خود کو برا کہہ رہا ہوتا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم خورشید نے کہا نہال ہاشمی کا دفاع نہیں کر سکتے، اداروں کا احترام نہیں کرا سکتے تو یہ ہماری نا کامی ہے، معاملہ ذاتی ہے عدالت معافی قبول کر لے۔

احسن بھون نے عدالت سے کہا کہ نہال ہاشمی کا بیان کسی طور قابل قبول نہیں، ان کے وکیل کے طور پر پیش نہیں ہو رہے، کوئی نارمل آدمی ایسا بیان کبھی نہیں دے سکتا۔ عدالتی معاون احسن بھون نے بتایا کہ سندھ بار نے نہال ہاشمی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان کا لائسنس 3 ماہ کیلئے معطل کر دیا ہے۔

دوسری جانب نعیم بخاری نے نہال ہاشمی کو معاف کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے منافقت نہیں ہو سکتی، جیل سے باہر آ کر نہال ہاشمی نے وہی کام کیا، وکلا کا کچھ حصہ غنڈہ بن گیا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلا رہنماؤں کی درخواست پر نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے ان کیخلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی کی غلطی کی سزا ان کے بچوں کو نہیں دینا چاہتے۔

SHARE

LEAVE A REPLY