آج دل چاہا کہ اپنے آپ سے کچھ باتیں کریں ،اپنا محاسبہ کریں کہ ہم عوام کہاں کھڑے ہیں ؟ ملک قائم رہے گا قائم رہنے کے لئے بنا ہے انشاء اللہ ۔ لیکن کیا ہم نے اپنے ملک کے ساتھ انصاف کیا ؟۔ہمیں جو آئینہ محترم چیف جسٹس صاحب دکھا رہے ہیں یونیورسٹیوں کے حالات دکھا کر ،پانی کے معاملات دکھا کر ،تعلیم کے مسائل دکھا کر ،صحت کے مسا ئل بتا کر تو کیا یہ سب کچھ ہمیں پہلے پتہ تھا َ؟ شاید پتہ تھا لیکن ہم مجبور تھے ان لوگوں کے ہاتھوں جن کو اپنا ووٹ دے کر ہم خود بھی بے توقیر ہوئے اور اپنے ملک کو بھی اس دلدل میں دھکیل دیا جس سے نکلنا مشکل نہیں ہے تو آسان بھی نہیں ہے ۔لیکن اگر جسٹس صاحب جیسے دس لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو کایا پلٹ جائیگی ترقی کی طرف میرے عظیم ملک کی جسکی تقدیر کو سیاہ کر دیا ان چند خاندانوں نے ۔۔
آج ہم حکمرانوں کی بات نہیں کرینگے مگر ایسا ہو نہین سکتا کہ کالی بھیڑوں کی بات کی جائے اور اُس میں کالے رنگ کا زکر نہ ہو ۔جو جو بیانات آرہے ہیں جس طرح یونیورسٹیوں میں اقرباء پروری کھُل رہی ہے کیا شرمندہ ہونے کو کافی نہیں شاید نہیں کہ جب چکنا گھڑا بن جائیں تو قطرہ بھی کچھ دیر ہی ٹِکتا ہے شرمندہ ہو کر نیچے گر پڑتا ہے اور ہمارے یہاں تو شرمندگی دور دور کوسوں دور بھی دکلھائی نہیں دیتی ۔کیا ہم اکھٹے نہیں ہونگے متحد نہیں ہونگے کہ ہمیں اچھی تعلیم چاہئے ہمیں صاف اور پینے کے قابل پانی چاہئے ،ہمیں صفائی چاہئے کہ نصف ایمان ہے۔لیکن ہم نے تو اپنا طرز زندگی ہی بدل دیا ہے جس پتھر کو اُٹھائیں نیچے سے کرپشن بر آمد ہوتی ہے پھر وہ خواجہ ہوں ،یا شریف ،عباسی ہوں یا ڈار ہر ایک سیاہ چادر اوڑھے نظر آتا ہے ۔
ہماری تو استدعا ہے کہ یہ وقت پھر نہیں آئیگا آؤ ہم سب متحد ہو جائیں کہ اب ہم نا اہلوں کی نہیں سُنتے جو کچھ تم نے کیا ہمیں نظر آرہا ہے ۔ہم متحد ہوجائیں ہر ظلم اور نا انصافی کے خلاف جو ان ادوار میں ہم نے دیکھے ۔جس طرح ہماری نئی نسل کو جھوٹ اور دغا کا درس دیا جا رہا ہے ہم اُس کے خلاف متحد ہو جائیں اور ہر اُس بات کا ساتھ دیں جو ہمیں روشنی دکھا رہی ہے۔ہم متحد ہو جائیں کہ اب ہم عدلیہ کے خلاف جب ہی بوں گے جب عدلیہ کچھ غلط کریگی ِ ہم فوج کو جب ہی موردِ الزام ٹہرائینگے جب وہ کچھ کمزوری دکھائے گی ۔ہم اداروں کو جب ہی برا کہینگے جب وہ کام نہیں کرینگے ۔ورنہ ہم اُن سب کے ساتھ کھڑے ہیں جو ہماری بھلائی کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمیں وہ ناسو ردکھا رہے ہیں جو ہمارے تصور میں بھی نہیں تھے ۔جو ہماری سوچ میں بھی نہیں تھے ۔
جہاں جہاں پانی کی قلت ہے پانی بِک رہا ہے جیسا ہم نے شوز میں دیکھا تو ہم سب کو ،جنہیں پانی مل رہا ہے یاجنہیں نہیں مل رہا مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے احتجاج کرنا چاہئے کیا وہ لیاری کی مائیں ہماری نہیں جو ساٹھ اور پینسٹھ سال کی عمر میں بھی پانی ڈھو رہی ہیں ،کیا وہ بچی ہماری نہیں جو پانی لانے کی وجہ سے اسکول کا کام نہیں کر سکتی ۔ہم سمجھتے ہیں یہ سب ہمارے ہیں اس لئے جنہیں سہولتیں حاصل ہیں اُنہیں بھی اُن لوگوں کی آواز میں آواز ملانی چاہئے اُن کا ساتھ دینا چاہئے جو ان سہولتوں سے محروم ہیں ۔۔
تعلیم کے لئیے بھی اُن لوگوں کو بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے جن کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں کیونکہ جو بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں وہ بھی میرے اور آپ کے ہیں ۔ہم سب جب ہی انصاف کر سکینگے اور محاسبہ کر سکیں گے جب ہم سب متحد ہونگے ان تمام محرومیوں کے خلاف ۔ ان تمام بے ایمانیوں اور بے حسی کے خلاف ۔ان زیادتیوں کے خلاف جنہوں نے ہماری راہیں روک دی ہیں ۔
کاش اگر ہم نے ان ناسوروں کو پکنے نہ دیا ہوتا اور جب پہلی نا انصافی ہوئی تھی اُسی وقت کھڑے ہو جاتے جب پہلا کرپشن سامنے آیا تھا اُسی وقت دہائی دی ہوتی ،جب پہلی رپورٹ چھپائی گئی تھی اُسی وقت ان راجپوتوں سے پوچھا ہوتا ان کا محاسبہ کیا ہوتا تو شاید کچھ راہ نکلتی ۔ہمیں اپنے لیڈروں کو برا کہنا کبھی اچھا نہیں لگتا مگر ایسے لوگوں کو لیڈر کہنا بھی اچھا نہیں لگتا جو کرپشن کریں اور جائیدادیں بنائیں اور جب پوچھا جائے تو ووٹ کی عزت کے اور کیوں نکالا کے نعرے کے پیچھے چھُپیں بجائے منی ٹریل دینے کے ۔
ہم اب بھی چُپ ہی ہیں کس بات کے منتظر ہیں پتہ نہیں جب تک ایک بات پر متحد نہیں ہوتے کہ ہمیں ایماندار اور سچے لیڈر چاہئیں جب تک شاید ہم اُن ثمرات کو نہیں پا سکتے جو ایک مہزب اور شائستہ قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔اتحاد لازم ہے ہر اُس برائی کے خلاف جو ہماری رگوں میں اُتار دیا گیا ہے اور اب بھی یہ زہر پھیلایا جا رہا ہے صرف اور صرف اقتدار کے لئے ۔کیا اب بھی نہ اُٹھوگے کہ سچ اور حق کا ساتھ دے سکو کہ ہمیں نہیں چاہئے یہ ماحول جس میں ہر طرف صرف اور صرف اَقرباء پروری اور خاندانی سیا ست ہے نہ کہیں عوام ہیں نہ اُن کے مسائل ۔جس دن عوام متحد ہوئی یقین جانئے کہ سارے دَلِدَر دور ہو جائینگے ۔
ستر سال بہت ہوتے ہیں خود کو پہچاننے اور دوسروں کو سمجھنے کے لئے اب وقت ہے کہ اپنا اور دوسروں کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ سب متحد ہو کر برائیوں کا راستہ روکیں اور برائی کو برائی کہیں کُھلے دل سے ہمیں بھی اُس شخص کو برا کہنا اچھا نہیں لگتا جو ہمارا وزیرِ اعظم رہا لیکن جب پٹارے سے سوائے جھوٹ اور کرپشن کے کچھ نہ نکلے تو ہم بھی مجبور ہیں کہ اپنوں ہی کو کٹہرے میں لے آئیں کہ یہ ہی انصاف ہے بلا متیاز سزا اور سخت سے سخت سزا ۔
ہم کہتے ہیں ووٹر کا پیسہ ملک میں واپس لے آؤ ووٹ کو عزت مل جائیگی ۔عزت مانگنے سے نہیں ملتی عزت وہ ہے جو کوئی خود دے عمل کے بدلے بھیک میں نہیں ۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک ملک رکھتے ہیں آزاد ملک اُن سے پوچھو جن کے پاس یہ دولت نہیں ہے ۔قدر کرو متحد ہو جاؤ اور اپنی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگنے سے بچاؤ ،کرپٹ سیاست دانوں اور کرپٹ لوگوں سے بچو ،ووٹ کو عزت مل جائیگی ۔
اللہ ہم سب کو برائیوں کو روکنے اور ان سے دور ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین













