مشہور آسٹریلوی 104 سالہ سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال موت کی نیند سو گئے

0
846

ڈاکٹر ڈیوڈگوڈال کو سوئٹرلینڈ کے ایٹرنل اسپرٹ کلینک میں موت کا انجیکشن لگا کرابدی نیند سلا دیا گیا

ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال خودکشی کرنے سوئزرلینڈ پہنچ گئےتھے اور چند روز قبل انہوں نے آج کے دن اپنی زندگی کاخاتمہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشہور آسٹریلوی ماہر نباتات و ماحولیات ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال آسٹریلیا سے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل اس لیے پہنچے کیونکہ یہاں خودکشی میں مدد دی جاتی ہے۔

طبی امداد دے کر خودکشی میں ایسی مدد دینے کو یوتھنیزیا کہا جاتا ہے۔انہوں نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں اس بات سے آگاہ کیا ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ موت کا وقت معین ہے مگر موت کو منتخب کرنے کے لئے انسان کو آزاد ہونا چاہئے۔

ڈیوڈ گڈال کی نظر کمزور اور کان اونچا سنتے مگر ان کا ذہن اب بھی بیدارتھا۔ ایک ماہر نباتات کی حیثیت سے وہ دنیا بھر میں گھومتے اور گھر سے باہر جا کر تحقیق کرتے تھے لیکن اب وہ چلنے پھرنے کے لیے وھیل چیئر کے محتاج تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ دس سال سے وہ زندگی کا لطف نہیں اٹھا رہے۔

واضح رہے سوئزر لینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں انتہائی علیل، ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر اور لاغر بوڑھے افراد کو آسان موت یعنی رضاکارانہ موت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بے قرار اور تنگ زندگی کا خاتمہ آسانی سے کرسکیں۔

یورپی یونین کے ایک مشہور ملک سوئزرلینڈ میں 1940 سے رضا کارانہ خودکشی کا یہ قانون نافذ ہے، یہاں قانونی طور پر اس بات کی اجازت دی گئی ہےکہ اگر کوئی شخص خود کشی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ۔

سوئزرلینڈ میں ایسے کلینک بھی موجود ہیں جو کسی کو بھی اس کی مرضی اور رضامندی سے موت کی نیند سلانے کی سہولت فیس کے عوض فراہم کرتے ہیں۔

اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریلوی سائنسدان مشہور ماہر نباتات اور ایکلوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال نےآج رضاکارانہ طور پر موت کو گلے لگا لیا

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY