منقبت بحضور صاحب نہج البلاغہ
علی علی علی
تجھ سا نہیں کوئی
علی علی علی
مولد خانہ ء خدا
سفر آخر در خانہ خدا
پروردہ رسول کریم
علی علی علی
زوجہ جس کی
خاتون جنت
نور نظر رسول کریم
پسر جس کے جوانان جنت
خیبر شکن، شیر خدا
جس کے لئے فرمان رسول
ہوں میں شہر علم
اور باب علم ہیں علی
آج ہوں میں حاضر
اے امیر المومنین
تیرے پرنور، پر ضیا روضے پر
اے امام زمانہ
پیکر جود وسخا
صاحب فہم وزکا
جس کے فیصلے بے نظیر
صاحب نہج البلاغہ
تیرے در پر بندی عاجز نوا
کم علم و کم عمل
اے خداے کریم
سن لے میری یہ دعا
کہ داخل ہوں باب علم میں
اور پہنچوں شہر علم تک
علی علی علی
تجھ سا نہیں کوئی













