نیا سورج طلوع ہوا ملک میں ،پرانوں سے جان چھوٹی ۔لیکن شاید ہماری غلطیاں اس قدر ہیں کہ ہمیں خوشی میں بھی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے ۔ جتنی خوشی ہمیں انتخاب کا نتیجہ دیکھ کر ہوئی تھی ساری ہی کافور ہو گئی حالات دیکھ کر شاید خان کی طرح ہم جیسے عوام اور محبِ وطن لوگوں کو بھی کوئی خوشی آسانی سے نہیں ملتی سخت تکلیف اور مشکل سے نصیب ہوتی ہے ،جہاں ہم اپنے لوگوں کی بے حسی اور مفاد پرستی دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر کہیں سخت ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔اللہ نے ہم سب کی دعا سُنی کہ پرانوں سے جان چھوٹے ۔لیکن ہم کسی بھی نعمت پر شکر گزار نہیں ہوتے کیونکہ ہم ہر بہتری کو صرف اور صرف اپنی کوشش اور اپنا تجربہ سمجھتے ہیں ۔ہر کوئی مشورے دینے میں پیش پیش ہوتا ہے اور اگر کسی مشورے کے خلاف ہو جائے تو اآڑے ہاتھوں لینے بیٹھ جاتا ہے ۔ہمارے روئیے بھی تبدیلی چاہتے ہیں ۔
حکومت بنانے کے لئے کچھ ارکان درکار ہیں جس کے لئے پی ٹی آئی پوری کاوش کر رہی ہے قانون کے مطابق ۔ ۔کاش یہ سب صرف اور صرف اس وجہ سے ساتھ دیتے پی ٹی آئی کا کہ وہ ایک جیتی ہوئی اور جوان لوگوں پر مشتمل پارٹی ہے جس نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کہ وہ سب پاکستان سے محبت رکھتے اور اسے آگے لے جانا چاہتے ہیں ۔ہر کوئی پنجے تیز کئے بیٹھا ہے کہ “ کہ زرا آؤ تو حکومت میں دیکھو ہم تمہارے ساتھ کیا کرتے ہیں کہ تم نے ہم سے ہمارے عیش چھین لئے ہیں ““ کاش یہ سب ہی اس وقت ملک کے لئے ایک ہو جاتے کہ یہ وقت ہماری مخالفت کا نہیں بلکہ ملک کو طاقت دینے کا ہے ۔لیکن ہمارا دل ماحول دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا ہے کہ کیا یہ ہی ہمارے پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں جو اسکی پیٹھ میں اَن دیکھا چھرا گھونپتے ہیں ۔سب سے پہلے تو جو ادارہ نشانے پر ہوتا ہے وہ ہے فوج ۔کیسے دُکھ کی بات ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے ادارے کو لعن طعن کا نشانہ بناتے ہیں ہم نے کسی بھی ملک کے لوگوں یا سیاست دانوں کو اس طرح اپنی فوج اپنے رکھوالوں کے لئے ایسی باتیں کرتے نہیں سُنا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔زرا اُن ماؤں سے پوچھو جن کے سپوت ہماری رکھوالی کے لئے جان قربان کر دیتے ہیں زرا اُس فوجی سے پوچھو جو تمہاری ہر آواز پر لبیک کہتا ہے ۔ہر بات میں تمہارے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ۔کیا ہم سب اتنے ہی بے حس ہیں کہ کوئی بھی معاملہ ہو ہم انہیں بیچ میں لے آتے ہیں ۔پی پی پی نے اچھا فیصلہ کیا کہ جو جیتا ہے اُسے حکومت بنانے کا حق ہے۔۔ وہ اپوزیشن میں بیٹھینگے ۔
پی ،ٹی ،آئی جیتی ،کہہ دیا گیا کہ فوج پیچھے تھی پھر تمہارے ووٹ کس کے لئے تھے ِ؟ تم نے کسے ووٹ دئیے تھے ۔کیا جنہیں تم نے ووٹ دئے وہ جیتے یا ہارے نہیں ؟ ہمیں ان باتوں پر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے بغیر ثبوت ہر طرح کا الزام لگانا وطیرہ بنا لیا ہے ہماری استدعا ہے کہ خدا را زرا اپنے اوپر بھی سب نظر کر لیں ۔مولانا صاحب نے چیف آف آرمی اسٹاف کی ایک ایسی بات کو جس کا مطلب کسی صورت بھی وہ نہیں تھا جو مولانا نے بیان کیا پھر اپنے لوگوں کو گمراہ کیا ۔ہم حیران ہیں کہ پچھلے جتنے سالوں میں مولانا حکومت میں رہے ہم نے کبھی انہیں کسی بھی بڑے مسئلے پر نہ احتجاج کرتے دیکھا نہ ہی حکومت سے باز پُرس کرتے دیکھا لیکن جہاں کہیں فساد کی بات ہو مولانا پوری طاقت سے باہر آتے ہیں جس کا ہمیں افسوس ہوتا ہے ۔
ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں سے محبت بھی ہے اور عقیدت بھی لیکن آپ خود ہی ہمارے اعتماد کو اپنی روش سے ٹھیس پہنچاتے ہیں ۔آپ کو تو نہ جھوٹ بولنا چاہئے اور نہ ہی بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا چاہئے ۔کیونکہ اآپ ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں وہ باتیں جو صاف نظر آتی ہیں آپ اُن پر بھی عجیب و غریب توجیہات پیش کرتے ہیں صرف اس لئے کہ مخالف جیت گئے ۔آپ سب کے بڑے پن کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ملک جن مشکل حالات میں ہے آپ اس میں نئے لوگوں کا ساتھ دیں ۔انہیں نیک خواہشات پیش کریں کہ ہم سب ایک ہیں ہم سب پاکستانی ہیں چاہے جیتیں یا ہاریں ۔جہاں خدشات ہیں اُنہیں ضرور سامنے لائیں مگر نفرت سے نہیں محبت اور خلوص کے ساتھ ۔اُن کی جد و جہد سب کے سامنے ہے ۔
ملک جس دہانے پر کھڑا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے کہ کرپشن نےاسے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔جس جس کی طرف دیکھیں لگتا ہے کہ وہ صرف اور صرف پیسہ جوڑنے کو کسی بھی عہدے پر آتا ہے ۔اپنے اختیارات سے جس جس طرح جہاں جہاں فائدہ حاصل کر سکتا ہے کرتا ہے ۔بغیر یہ سوچے کہ ملک کا کتنا نقصان کر رہا ہے ۔ہمارے اندر کی شرم و حیاء نہ جانے کہاں جا سوئی ہے ۔کاش ہر عمل میں تبدیلی آجائے اللہ کے فضل و کرم سے ۔
ابھی پارٹی نے تو کسی کو بھی کسی عہدے پر فائض نہیں کیا مگر ہمارے میڈیا نے اس قدر اُتھل پتھل مچا رکھی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کہنے والے ، کہ جس کا کام ہے اُسے کرنے دینا چاہئے کیوں اس قدر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں ۔میڈیا کو اپنے اس روئیے کو بدلنا چاہئے ۔کیونکہ لوگوں میں ہیجان پیدا ہوتا ہے اگر وقت پر صحیح اور اچھی خبر ملے تو قیاس آرائیاں جنم نہیں لیتیں ۔ہم نے اپنے اندر جو ایک تنقیدی روش پیدا کر رکھی ہے اُس پر بھی نظر کرنی چاہئے کیونکہ تنقید اچھی اور تعمیری ہو تو فائدہ دیتی ہے بے جا مخالفت کی تنقید اچھی نہیں لگتی ۔ہم سب کو بھی اپنے اندر تبدیلی لانی چاہئے ۔
عجیب سی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے ایک پارٹی کے چئیر مین کو بالکل ہی کمزور اور فیصلے نہ کر سکنے والا ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے یہ ایسی باتیں ہیں جو آپ کی پارٹی کی بھی تصویر پیش کرتی ہیں کیا آپ کے فیصلے کبھی کمزور نہیں پڑے ؟ کیا آپ سب بغیر کسی تجربے کے یہاں تک پہنچ گئے ہیں ؟کیا آپ کی پارٹی نے کوئی فیصلہ کبھی واپس نہیں لیا جو آپ نے ایک شخص کو یو ٹرن لینے والا ثابت کرنے کا عہد کر لیا ہے ۔ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جو بھی حکومت میں آئے جب بھی آئے خدا را صرف اور صرف ملک کی بات کرو ۔ملک دیکھو کس جگہ کھڑا ہے جوان اور ایماندار لوگوں کی ضرورت ہے ۔ ہر ادارہ توجہ کا محتاج ہے کیونکہ ان میں ہم نے اپنی پسند بھر دی ہے اپنے مفاد ڈال دئے ہیں سب کو آزادی سے کام کرنے کا موقعہ فراہم کرنا پڑے گا سخت فیصلوں اور کڑی نظر کے ساتھ ۔سب کچھ ایک دم ٹھیک نہیں ہوگا لیکن اگر رستہ ٹھیک مل جائے تو منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے ،بس صحیح راستے پر نکل آؤ اللہ کی مدد خود بہ خود ملے گی ۔
ایمانداریی اور سچائی سب سے بڑی برکت اسے حاصل کر لیں تو ملک بھی خوشحال ہو جائیگا اور غربت بھی دِم توڑ دے گی ۔سب کو محل نہیں مل سکتے مگر ایک کمرے کا گھر ضرور دیا جاسکتا ہے ۔سب گوشت نہیں کھا سکتے مگر دال روٹی سب کو مل سکتی ہے ،سب بچے انجینئیر اور ڈاکٹر نہیں بن سکتے لیکن تعلیم سب حاصل کر سکینگے ۔سب پرائیویٹ کمروں میں علاج نہیں کرا سکتے مگر جنرل وارڈ میں سب کو علاج مہیا کیا جا سکتا ہے ،منرل واٹڑ لازم نہیں مگر صاف پپانی ضرور مہیا کیا جا سکتا ہے ۔صفائی نصف ایمان ہے اسکی ضرورت سب سے زیادہ ہے یہ کوئی مشکل کام نہیں اگر محنت کر لی جائے ۔ماحول صاف ہوگا تو بیماریاں بھی کم ہونگی ۔یہ سب جب ہوگا جب ہم کرپشن کو ختم کر دینگے جڑ سے مٹا دینگے ۔جب ہم غریب کی طرف دیکھینگے ۔مل کر کام کرینگے ۔ پچھلے کچھ سالوں سے سوائے منفی باتوں کے کچھ نہیں ہوا جس کی وجہ سے نفرتیں بڑھیں ۔
متحد ہو جاؤ کہ بدلنے کے لئے وقت ملا ہے اگر سب مل کر تبدیلی لائینگے تو تبدیلی ضرور آئیگی ،ہم سب ہی اپنی اپنی جگہ حکومت ہیں ہم سب کو ہی کام کرنا چاہئے ۔پہلے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کیا ہورہا ہے ؟کون کر رہا ہے ؟کیسے کر کر رہا ہے؟ اب سب کچھ سامنے ہے اس لئے انصاف کرو سخت سے سخت سزائیں دو کسی کو بھی نہ چھوڑو تاکہ آنے والے سوچ لیں کہ کام کرنا ہے ملک کے لئے قوم کے لئے کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔زندہ قومیں ہی نکلتی ہیں بُحرانوں سے ۔عاجزی ضروری ہے جہاں اکڑ ہو وہاں بیڑہ غرق ہو جاتا ہے ۔
عبرت کا مقام ہے ۔ہم نے دیکھا ہے اپنے ملک کی دو پارٹیوں اور اُن کے سربراہوں کا حشر کتنی بلندی تھی کتنی پستی ملی جس کا تصور انہوں نے تو کیا ہم نے نہیں کیا تھا ۔اس لئے توبہ کرنا لازم ہے تاکہ ملک میں برکت اور خوشحالی آئے ۔کیونکہ برائیوں کو دیکھ کر خاموش رہنا بھی اس میں ساتھ دینے کے برابر ہے ۔اس لئے آئیندہ کے لئے ہوشیار باش ۔
دعا ہے کہ میرا ملک سارے ملکوں کی صف میں سب سے اوپر ہو اچھائی میں ۔سچائی میں ایمانداری اور انسانیت میں کہ یہ ہی میرے پیارے نبی (ص) کی سنت ہے کاش ہم سب اس پر عمل پیرا ہوجائیں ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY