کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟دوسری قسط

0
1414

کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟دوسری قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی

مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور

پہلی قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور ریڈیو میں عشروں سے مختلف شعبے کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک اہم شعبہ سنٹرل پروڈکشن کا بھی ہے جسکی تاریخ کیسی درخشندہ ہے کہ اس مرکز نے موسیقی کے کیسے کیسے نایاب کام کیئے۔ قارئین کو حیرت ہو گی کہ اس شعبے کا تمام قیمتی سامان مبینہ طور پر ایک دو کمروں میں بند کر دیا گیا ہے اور عمارت کو اے پی پی کو کرائے پر دے دیا گیا ہے جنہوں نے اطلاعات کے مطابق چھ ماہ کا کرایہ ہی ادا نہیں کیا

آیئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس بربادی کے منصوبے میں صرف ایک ہی ڈی جی شامل نہیں, انفرمیشن گروپ سے آنے والے ہر بزرجمہر نے اپنا کردار ادا کیا ہے، طاہر حسن سے پہلے جو کھچی صاحب تھے سی پی یو لاہور کا جنازہ انہوں نے نکالا اور عمارت اے پی پی کو دی۔ کاش ایسے لوگ انفرمیشن گروپ سے لیئے جاتے جنہوں نے کبھی ریڈیو کا گیٹ دیکھا ہوتا مائیکروفون دیکھا ہوتا اس عظیم ادارے کی تاریخ اور تہذیب سے آگاہ ہوتے

بیک جنبش قلم یہ بات انفرمیشن گروپ سے آنے والے ہر فرد کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی کہ ماضی میں اشفاق گوندل جیسے لوگ بھی اس ادارے میں آئے ادارے کے لیئے کام کیا اور نیک نامی بھی کمائی۔ یہ بھی سچ ہے کہ کائنات میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جسے سو فیصد لوگ پسند کرتے ہوں

ریڈیو پاکستان کے نشریاتی مراکز میں لاہور ریڈیو کو یہ فخر حاصل ہے کہ پشاور کے ساتھ یہیں سے قیام پاکستان کا اعلان ہوا اور پاکستان کے عوام کو آزادی کی نوید سنائی گئی۔ برسبیل تذکرہ عمرانی حکومت کے دوران مارکونی کا وہ ٹرانسمیٹر اور طلوع صبح آزادی کی نوید کا جو بصری منظر ریڈیو کے صدر دفتر کے باغ میں لگایا گیا تھا جسے ہر آتا جاتا بآسانی دیکھتا تھا اسکو خطیر رقم خرچ کر کے وہاں سے اُکھاڑ کر زیڈ اے بخاری آدیٹوریم میں منتقل کر دیا گیا ہے، اس آڈیٹوریم کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ ایک الگ موضوع ہے جسے مکمل تحقیق کے بعد ان ہی تحقیقاتی رپورٹوں میں پیش کیا جائے گا

طلوع صبح آزادی کے الفاظ ادا کرنے والوں کی روح بے قرار

عمران خان کے دور اقتدار میں فواد چوہدری نامی وزیر اطلاعات نے بھی صدر دفتر کی عمارت بیچنے کا ڈول ڈالا تھا یہ خواب تو پورا نہ ہو سکا تاہم متعدد نشریاتی مراکز کی زمینیں بیچ دی گئیں

آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریڈیو پاکستان کی موجودہ انتظامیہ ڈی جی طاہر حسن کی قیادت میں فواد چوہدری کے خواب کو مکمل کرنے کا کام کر رہی ہے جدت اور ریڈیو کو خود کفیل کرنے کے نام پر

ریڈیو کے عہد نو کے سربراہ طاہر حسن صاحب

بات چونکہ لاہور ریڈیو کی ہیئت اور حیثیت تبدیل کرنے کی ہو رہی ہے تو فی الوقت یہیں مرکوز رکھتے ہیں جہاں پروگرام کے دو کنٹرولر ہونے کے باوجود اس تاریخی نشریاتی مرکز کا چارج دو انجینئر صاحبان کے پاس ہے جو براہ راست ڈی جی سے احکامات لیتے اور ان پر عمل کرتے ہیں

ایک صاحب کے تو سرکاری آرڈر یوں ہوئے ہیں لیکن دوسرے صاحب کسی سرکاری آرڈر کے بغیر ڈی جی کے زبانی حُکم پر انکے احکامات بجا لا رہے ہیں

لاہور ریڈیو پر ہونے والے ہر شعبہ جاتی تبدیلیوں کے ضمن میں ایف ایم ون 101 کے کنٹرولر اور بی ایچ کے کنٹرولر سے کسی قسم کی ان پُٹ نہیں لی گئی اور یہ سب کچھ ڈی جی اور انکے بااعتماد دو لوگ ملک محمود عباس اور غلام مجدد کر رہے ہیں۔ لاہور ریڈیو اور ریڈیو کے صدر دفتر کے اکثر لوگ اس عہد کو مرتضی سولنگی دور کا پارٹ ٹو کہتے ہیں، انجینئر غلام مجدد اسی دور کی یادگار ہیں۔ عینی شاہدین نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جب موجودہ سربراہ طاہر حسن نے اس قومی ادارے کے سربراہ کی ذمیداریاں سنبھالیں تو اولیں ملاقاتی جناب مرتضی سولنگی ہی تھے جن سے بہت طویل ملاقات ہوئی اور انکا صدر دفتر میں بہت پُرتپاک استقبال ہوا، غلام مجدد کا اس منظر نامے میں شامل ہونا اسی ملاقات کا نتیجہ ہے

عملی طور پر اسوقت لاہور ریڈیو کو دو انجینئر ہی انتظامی طور پر چلا رہے ہیں ملک محمود عباس اور غلام مجدد

ان دونوں معجز نما شخصیات کے بارے میں اگلی یعنی تیسری قسط میں لکھیں گے اسوقت یہ دو تصاویر دیکھئے اور سینہ زنی کیجئے کہ اس قومی ورثے کے نشریاتی مرکز کی ایس ڈی کی کرسی پر ملک محمود عباس اور غلام مجدد تشریف رکھتے ہیں ،میٹنگز لیتے ہیں فیصلے کرتے ہیں، ہم بتائیں گے کہ ملک عباس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے اور غلام مجدد کا ریکارڈ کیا ہے ، ریڈیو پاکستان کے ان نور کے میناروں کا بھی ذکر کریں جو اس کُرسی پر بیٹھ چکے ہیں اور کیسے لاہور ریڈیو اور ریڈیو پاکستان کو زوال کی اُس پاتال میں دھکیلا جا رہا ہے کہ پھر دوبارہ اسکی پہلے والی حیثیت بحال نہ ہو سکے

ملک محمود عباس اور غلام مجدد لاہور اسٹیشن ڈائریکٹر کی کُرسی پر

SHARE

LEAVE A REPLY