حقوق العباد اور انتخابات(48 )۔ شمس جیلانی

0
114

ہم نے گزشتہ مضمون میں پاکستان کے انتخابات پر بات کی تھی۔آپ کو بطور ووٹر حقوق العباد یاد دلا ئے تھے؟ اسوقت دو بیانیئے چل رہے تھے۔ ایک تو تھا کہ اپنی کرتوتوں کی سیاہی مٹا کر عوام کے سامنے جاکر رو پیٹ کر ووٹ حاصل کیے جائیں ؟ دوسرا بیانیہ یہ تھا کہ تبدیلی کا وعدہ کرکے ووٹ حاصل کیے جائیں؟ مگر سابق حکمرانوں کا خوف اتنا غالب تھا کہ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ زنجیریں کٹ بھی سکتی ہیں۔اور حکمراں جیل بھی جا سکتے ہیں۔ اس لیے مشورہ دینے والوں کو ووٹرز کو مشورہ یہ دینا پڑا کہ مال انکا کھا ؤ، نعرے ان کے لگاؤ، ٹرانسپورٹ ان کی استعمال کرو ،مگر ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق دو؟ جس پر عوام نے کامیابی سے عمل بھی کیا ؟ جو کہ کوئی اچھی بات تو نہیں تھی مگر مجبوری میں سب کچھ جائز ہے کے مصداق ترغیب کامیاب گئی۔ پورا دن امن سے گزر گیاعوام اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے۔ لیکن دوسروں کو انکی یہ کامیابی پسند نہیں آئی لیکن وہ بھی بے خبر نہیں تھے انہوں نے کوئی ترپ کا پتہ کہیں بچا رکھا تھا؟
حالانکہ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن نےہر ممکنہ کوشش کی تھی جوکہ منصفانہ انتخابات کے ضروری تھی کہ سابق حکمرانوں کے سارے کل اور پرزے ادھر ادھر کردیئے جائیں مگر پھر بھی کہیں وہ باقی بچ گئے ؟ اور شاطروں نے انہیں استعمال کر کے، وہ کا رنامہ انجام دیا کہ انتخابات کو ہی مشکوک بنا دیا اور اس طرح ساری محنت پر پانی پھیر دیا؟ اب وہ پھر فریادی بنے پھر رہے ہیں۔ کیونکہ اب تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی تجویز ہے؟ اس لیے امید ہے کہ اس کے ذمہ دار پکڑے جا ئیں گے؟ اگر اس اور کے نتیجہ میں دوبارہ انتخاب ہو تے ہیں؟ توچونکہ ڈراب نکل چکا ہے عوام کوچاہیے کہ اس سے زیادہ جوش اور خروش سے دوبارہ انتخاب میں حصہ لیں؟ تاکہ وہ ایسی مستحکم حکومت بنا سکیں؟ جو ان کی امنگیں کو پورا کر سکے؟ ابھی آپکا کام ختم نہیں ہوا ہے؟ مجھے ڈر ہے کہ دوبارہ کہیں سارا کام نہ کرناپڑے؟ اس لیے ہر طرح سے چوکس رہیں؟ اللہ تعالیٰ حق پرستوں کو اپنی نصرت سے نوازے ۔ (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY