ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان زمین پر قبضے کی جنگ

0
1104

گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی ریاست کرناٹک میں ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان زمین پر قبضے کی جنگ جاری ہے جس میں تین برسوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ اور 700 کے لگ بھگ ہاتھی مارے جا چکے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حتی کہ حکومت بھی یہ لڑائی نہیں رکوا سکی ہے۔

ہندوستان میں ہاتھیوں اور انسانوں کی لڑائی نئی نہیں ہے۔ برصغیر کی پرانی تاریخ میں ہر بڑی جنگ ہاتھیوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر لڑی ہے۔ ان جنگوں میں عموماً وہ راجہ فتح یاب ہوتا تھا جس کی فوج میں ہاتھی زیادہ ہوتے تھے۔ گویا ہاتھی اس دور کے بلٹ پروف ٹینک تھے۔

لیکن جب مغل آئے تو ہاتھی اپنی ہی فوجوں کو روندتے ہوئے بھا گ گئے کیونکہ مغلوں کے پاس توپیں تھیں۔ اور پھر اس کے بعد ہندوستان کے راجے مہاراجے ہاتھیوں کی بجائے توپیں رکھنے لگے اور ہاتھیوں نے جنگلوں کی راہ لی۔

تین صدیوں کے بعد آج ہاتھی گولوں کی گھن گرج سے نہیں ڈرتے ۔ کرناٹک کے جنگلوں کی قریبی آبادیوں کے لوگ کہتے ہیں ہم ہاتھیوں کو ڈرانے کے لیے کریکر چلاتے ہیں لیکن ان پر اثر نہیں ہوتا۔ وہ ہماری فصلوں اور آبادیوں میں گھس آتے ہیں اور تباہی مچا دیتے ہیں۔

کرناٹک میں نہ صرف ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ ہاتھی ہیں بلکہ وہ اپنے حجم، وزن اور سائز میں بھی دیو جیسے لگتے ہیں۔ وائلڈ لائف محکمے کے سربراہ جے رام کا کہنا ہے کرناٹک کے اکثر ہاتھیوں کا وزن پانچ ٹن یعنی 11 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

کرناٹک میں ہاتھیوں کی آبادی کا اندازہ 10 ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ ان کے ٹھکانے تو جنگلوں میں ہیں، لیکن انسانوں سے انتقام لینے کے لیے بستیوں تک میں گھسنے سے گریز نہیں کرتے۔ اور اگر انہیں کہیں اکیلا انسان مل جائے اسے اپنے پاؤں تلے کچلنے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں۔ ماضی میں ہاتھی کے پاؤں تلے کچلنے کی سزا راجے مہار جے اور دہلی کے بادشاہ دیا کرتے تھے۔ اب کرناٹک کے ہاتھیوں نے یہ اختیار خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاتھیوں کا تازہ ترین نشانہ یوگیش بنا ہے۔ اس کے بھائی گریش نے بتایا کہ ہاتھی اچانک جھاڑیوں کی پیچھے سے نمودار ہوئے۔ میرے بھائی کو پاؤں تلے کچلا اور جنگل میں غائب ہو گئے۔ یوگیش نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔ اب ان کی کفالت کون کرے گا، یہ ہاتھیوں کا مسئلہ نہیں ہے۔

کرناٹک کے اس علاقے میں کافی کے باغات کثرت سے ہیں اور زیادہ تر مقامی آبادی ان باغات میں کام کرتی ہے۔ فصلوں کو ہاتھیوں سے بچانے کے لیے اکثر مالکوں نے مضبوط باڑیں لگا رکھی ہیں۔ کئی مقامات پر تو دھاتی باڑوں میں بجلی کا کرنٹ بھی چھوڑا گیا ہے۔ جب کوئی ہاتھی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوتا ہے تو اس کا قبیلہ غضب ناک ہو کر دھاوا بول دیتا ہے اور باڑ اکھاڑ پھینکتا ہے۔ آپ کو اکثر جگہوں پر ٹوٹی ہوئی باڑیں دکھائی دیں گی۔ اور اگر رات کو آپ کا قیام کسی بستی میں ہے تو آپ کو گاہے گاہے کریکر کے دھماکے اور ہاتھیوں کے چنگھاڑیں سنائی دیتی رہیں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY