مصر کی ایک عدالت نے چند مذہبی رہنماؤں سمیت پچھتر افراد کو موت کی سزا سنا دی ہے۔ سن 2013 کے ایک دھرنے میں شریک چھ سو افراد کو سزائے قید بھی دی گئی ہے۔ اس دھرنے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔ ان افراد پر قاہرہ کے ربہ ادعاویہ اسکوائر میں ایک دھرنے کے دوران قتل اور تشدد کو ابھارنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مصری حکومت کا کہنا ہے کہ سن 2013 کے اس دھرنے میں زیادہ تر مظاہرین مسلح تھے اور پر تشدد جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سن 2011 میں مصر کی تاریخی بغاوت کے تناظر میں ہونے والے اس پُر تشدد دھرنے میں آٹھ سو مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY