شمالی عراق کے شہر موصل میں داعش نے دھماکہ خیز مواد سے بھرے ڈرون طیاروں کا استعمال کئے ہیں۔

اس کے علاوہ داعش نے دور تک مار کرنے والے توپ کے گولوں میں کلورین اور کلورو ڈائی ایتھائل سلفائیڈ نامی کیمیائی گیسوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔

عراق کے صوبے کردستان کی سلامتی کمیٹی کے سربراہ مسرور البارزانی نے خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ کو بتایا کہ داعش لڑائی کے دوران ماہر نشانہ باز جنگجوؤں کی خدمات حاصل کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں موصل میں عراقی اور اتحادی فوج کو داعش کی طرف سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش طرح طرح کے جنگی حربے استعمال کررہی ہے، ممکن ہے داعش شکست سے بچنے کے لیے پورے موصل کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردے۔

مسرور بارزانی نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ طویل ہوسکتی ہے، فوجی کارروائیوں سے ہٹ کر اقتصادی اور نظریاتی محاذوں پر بھی یہ جنگ لڑی جائے گی

SHARE

LEAVE A REPLY