امریکہ کے 39ویں صدر کے طور پر اقتدار ختم ہونے پرملکی دارالحکومت چھوڑنے کے لگ بھگ 44سال بعد جمی کارٹر کا جسدِ خاکی، سرکاری سطح پر منگل سے شروع ہونے والی تین دن کی آخری رسومات کے لیے واشنگٹن لایا گیا ہے۔ ان کا تابوت امریکی کانگریس کی عمارت میں پہنچ گیا ہے جہاں امریکی اراکین کانگریس انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے ۔
کارٹر کا تابوت ، جو ہفتے کے روز سے اٹلانٹا کے کارٹر صدارتی سنٹر میں تھا، منگل کی صبح ، ان کے بچوں اور رشتے داروں کی معیت میں اٹلانٹا کیمپس سے روانہ ہوا ۔ اسپیشل ائیر مشن 39 ڈبنز ائیر ریزرو بیس اٹلانٹا سے روانہ ہوا اور میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچا۔
موٹر گاڑیوں کا ایک کونوائے ان کے تابوت کو لے کر ایک آخری سفر کے لیے کانگریس کی عمارت تک پہنچا جہاں اراکین کانگریس انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے ۔
جارجیا ،اٹلانٹا میں آٹھ فوجیوں نے کارٹر کے تابوت کو تھام رکھا تھا جب کہ قریبی سڑک پر توپوں نے سلامی دی ۔ فوجی ان کے تابوت کو ایک گاڑی تک لے کر آئے جو اسے نیلے اور سفید بوئنگ 747 ائیر کرافٹ کے مسافر کمپارٹمنٹ تک لے کر گئی ۔
یہ ہی منظر واشنگٹن کے باہر دہرایا گیا ۔ سابق صدر کے تابوت کو طیارے سے باہر لایا گیا ، توپوں نے سلامی دی اور ایک فوجی بینڈ بجایا گیا ۔ جس کے بعد موٹر گاڑیوں کے ایک کونوائے کے ساتھ اسے واشنگٹن لایا گیا۔
اراکین کانگریس کے ایک دو جماعتی وفد کی قیادت میں تابوت کو کانگریس کی عمارت کے مرکز کیپیٹل روٹنڈا تک لایا گیا جو کانگریس کی مرکزی عمارت ہے ۔
ان ارکان میں کارٹر کی آبائی ریاست کی نمائندگی ڈیمو کریٹ سینیٹرز رافیل ورنوک اور جون اوسوف نے کی ۔ امریکی سپریم کورٹ کے نو میں سے تین جج بھی موجود تھے۔ روٹنڈا میں جسٹس جان رابرٹس، بریٹ کیوانا اور ایلینا کیگن واشنگٹن ڈی سی کی مئیر میورئیل باؤزر کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
جب لوگ تابوت کی آمد کا انتظار کر رہے تھے تو اس وقت ایک امریکی فوجی بینڈ بجایا گیا ۔
کارٹر جن کا انتقال 29 دسمبر کو 100سال کی عمر میں ہوا تھا ، ان کا سرکاری فیونرل جمعرا ت کو واشنگٹن نیشنل کیتھیڈرل میں ہو گا ۔صدر جو بائیڈن ان کو نذرانہ عقیدت پیش کریں گے ۔
صدر کارٹر صرف ایک مدت کے لیے عہدے پر فائز ہوئے اور 1980 میں انہیں ری پبلکن امیدوار رونالڈ ریگن کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
کارٹر صدارت سے سبکدوشی کے بعد سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔
مونگ پھلی کے کاشت کار، سابق امریکی صدر جمی کارٹر کا 100 برس کی عمر میں انتقال
جمی کارٹر رواں برس یکم اکتوبر کو 100 برس کے ہوئے تھے۔ ان کی سال گرہ سے قبل ہی اٹلانٹا کے تاریخی ہال فوکس تھیٹر میں ایک تقریب منقعد کی گئی تھی۔ اس کے مہمان ہزاروں میں تھے اور یہاں کئی فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
اٹلانٹا شہر میں کارٹر کی 100 ویں سال گرہ کی تقریب کا اہتمام کرنے میں ان کے پوتے جیسن کارٹر نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
قصرِ صدارت سے نکلنے کے بعد کارٹر نے رفاحی کاموں کا سلسلہ شروع کیا اور تنازعات کے حل، جمہوریت کے فروغ اور گھروں کی تعمیر جیسے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں 2002 میں کارٹر کو امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مونگ پھلی کے کاشت کار، ریاست جارجیا کے سابق گورنر اور امریکہ کے 39ویں صدر رہنے والے جمی کارٹر کا 100 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔
جمی کارٹر نے جب 20 جنوری 1977 کو صدارت کا حلف لیا تھا تو انہوں نے امریکی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت اپنے عوام کی طرح اچھی ہوگی۔
جمی کارٹر چار برس تک امریکہ کے صدر رہے۔ لیکن ان کے دور میں یہ چاروں برس انتہائی ہنگامہ خیز رہے۔ امریکہ میں افراطِ زر میں اضافے اور بے روزگاری کی بڑھتی شرح کے سبب ان کی انتظامیہ کو اپنی پالیسی پر عمل در آمد میں مشکلات کا سامنا رہا۔
انہوں نے خارجہ پالیسی کی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کیں جن میں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور اس کے پڑوسی ملک مصر میں کیمپ ڈیوڈ امن معاہدہ اور پانامہ کینال سے متعلق معاہدہ اہم ترین قرار دیے جانے والے اقدامات ہیں۔
ان کی صدارت کے آخری ایام میں ایران میں یرغمال بنائے گئے افراد کا تنازع وائٹ ہاؤس پر منڈلاتا رہا اور یہ تنازع 1980 کے صدارتی الیکشن میں ان کی شکست کا بھی سبب بنا۔
جمی کارٹر کی صدارت کی مدت تو جنوری 1981 میں ختم ہو گئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز بھی کر دیا۔ انہوں نے اس سفر میں ’بیماریوں کا مقابلہ، امید کی تعمیر اور قیامِ امن‘ کی کوشش شروع کر دی۔
جمی کارٹر رواں برس یکم اکتوبر کو 100 برس کے ہوئے تھے۔ ان کی سال گرہ سے قبل ہی اٹلانٹا کے تاریخی ہال فوکس تھیٹر میں ایک تقریب منقعد کی گئی تھی۔ اس کے مہمان ہزاروں میں تھے اور یہاں کئی فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
اٹلانٹا شہر میں کارٹر کی 100 ویں سال گرہ کی تقریب کا اہتمام کرنے میں ان کے پوتے جیسن کارٹر نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
اس وقت جیسن نے بتایا تھا کہ ان کے دادا کی 100 ویں سال گرہ کی تقریب میں وہ گلوکار اور فن کار بھی شریک ہوئے ہیں جنہوں نے 1970 کی دہائی میں ان کی صدارتی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔
کارٹر کے پوتے جیسن کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں رنگ، نسل اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر آنے والے لوگ ملیں گے۔ ان کے بقول ’’آج یہاں ڈیموکریٹ بھی ہیں اور ری پبلکن بھی۔‘‘
سالگرہ کی تقریب میں کئی مقررین، اداکار، موسیقار شریک ہوئے تھے اور سابق صدور نے ویڈیو پیغامات بھیجے تھے۔ لیکن اس گہماگہمی میں ایک جو اہم ترین شخص یہاں موجود نہیں تھا وہ خود جمی کارٹر تھے۔
کارٹر کینسر کے عارضے کی وجہ سے اٹلانٹا کے جنوب میں 240 کلومیٹر دور اپنے گھر پر طبی نگہداشت میں موجود تھے۔
جیسن کارٹر نے بتایا کہ وہ 600 نفوس پر مشتمل ایک گاؤں ہے۔ سابق صدر کارٹر نے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد رفاہی کاموں کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس میں گھروں کی تعمیر بھی شامل تھی۔ انہوں نے افریقہ میں مالی اور جنوبی سوڈان میں کتنے ہی ایسے چھوٹے چھوٹے گاؤں بسائے ہیں۔
کارٹر کے پوتے کہتے ہیں کہ ان کے دادا اپنے بسائے ہوئے ان دیہات سے قلبی تعلق رکھتے ہیں اور ان سب کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارٹر نے جارجیا کے علاقے پلینز سے ‘جارجیا پبلک ٹیلی وژن’ پر کانسرٹ دیکھا۔ یہ جگہ وہاں سے بہت دور نہیں ہے جہاں وائز سینیٹوریم میں ان کی والدہ للین کارٹر نے یکم اکتوبر 1924 کو جمی کارٹر کو جنم دیا تھا۔
وہ اس سینیٹوریم میں نرس کے طور پر کام کرتی تھیں۔ کارٹر اسپتال میں پیدا ہونے والے پہلے امریکی صدر تھے۔ آج اس عمارت کو جمی کارٹر نرسنگ سینٹر کے نام سے جانا












