“دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ “ یہ حضرت شیفتہ مرحوم کا بڑا مشہور شعر ہے جوکہ ہم نے اپنا آج کا عنوان اوراس کا مصرع ثانی ملا کر پورا کردیا ہے۔ تاکہ قارئین کو تشنگی نہ محسوس ہو۔
مشہور کہاوت ہے کہ اپنے عیب ٹٹولنے مشکل ہیں مگر دوسروں کے آسان ہیں۔ عمران خان بھی نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے “انڈر پریشر“ کھیلنے میں مزہ آتا ہے۔جب کہ حزبِ اختلاف کوئی موقع ان کے خلاف ہر معاملہ کو بری طرح اچھالے بغیر جانے نہیں دیتی۔ مگر ان کے سکونِ قلب میں کوئی فرق آتا ہوا نظر نہیں آتا؟ ہم نے چند دن پہلے اسمبلی میں دیکھا کہ حزب اختلاف کے حساب و کتاب کے مطابق وہ سوا تین ماہ کے بعداسمبلی میں تشریف لائے تھے۔ جبکہ حزبِ اختلاف کے حساب دانوں کو یہ یاد ہی نہیں ہے کہ انکے وہ قائد جو ان سے ملنا تک گوارہ نہیں کرتے تھے وہ پانچ سال میں صرف پندرہ مرتبہ تشریف لا ئے تھے اور ان کے چاہنے والوں نے کبھی ان کی اس روش کے خلاف آواز بلند نہیں کی؟ چونکہ اس سے یہ تناسب زیادہ نہیں ہے۔ لہذا جب ا س سے گرے تو انہیں شکایت کرنا جائز ہے، اس سے پہلے نہیں؟ جبکہ حزبِ اختلاف کا ریکارڈ ہے کہ وہ وہاں اپنا فرض منصبی ادا کرنے کے لیے نہیں آتے ہیں بلکہ شور مچانے اور واک آوٹ کرنے کے لیئے تشریف لاتے ہیں اورا س طرح وہ اپنی روزی کوہی حرام کرلیتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی وہاں سے آنے والوں سے سنا ہے کہ وہاں حرام اور حلال کی اب کوئی پروا ہی نہیں کرتاہے؟ مگرا نہیں یہ تو محسوس کرنا چاہیئے کہ وزیر اعظم کو اور بھی بہت سے کام کرنےہو تے ہیں ان کے مقالات عالیہ سن نے کے سوا۔ اس کے علاوہ کاش وہ یہ بھی سوچتے کہ جو گندگزگشتہ دس سال میں پھیلا کر ان کے لیڈر خود اور انکے حلیف چھوڑ گئے ہیں؟ اسے اٹھوانے کے اہتمام میں بھی وہ لگے ہوئے ہیں اور بقول ااپوزیشن کے باہر سے کشکول بھر بھر کے مال لانے کے کام میں مصروف ہیں؟ لہذاپارلیمان میں بیٹھ کر وہ آپ کاشور سنیں یا ملک کو سنبھالیں؟ اپوزیشن نے اس پر کبھی روشنی نہیں ڈالی کہ اس حالت تک ملک کو پہنچانے والے کون تھے؟
اس دن جب وہ قطر سے واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ اپوزیش ان سے بجائے دورہ قطر پر بات کرنے کے شور مچانے میں لگی ہوئی تھی ،اور وہ تسبیح پڑھتے ہوئے نظر آئے جبکہ آپ کے صاحب وہاں آتے ہی نہیں تھے اور تشریف لاتے تو تنکہ جیسی کوئی شہ منہ میں دبا ئے ہوئے ہوتے تھے۔ یعنی وہ وقت بھی عمران خان نے ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھااور ذکر کرنا شروع کردیا جس سے مومنوں کے دل سکون پاتے ہیں ؟ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ذکر نہیں کر رہے تھے بلکہ لاحول کا ورد کر رہے تھے۔ یہ اپوزیشن کوکیسے پتہ چلا کیاان میں سے کسی کے دل پر چوٹ لگی یا بازعم خود وہ روشن ضمیرہیں جن کی پہچان کتابوں میں یہ لکھی ہے انہیں دیکھ اللہ یاد آجاتا ہے؟ایسا ہمیں ان میں ایک بھی نظر نہیں آیا ؟باہر حال وہ جو کچھ بھی کر رہے تھے وہ اپوزیشن کی طرح وقت ضائع نہیں کر رہے تھے ،جس طرح وہ معاوضہ وصول کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں کرتے ہیں سوئے غوغاآرائی کے؟ حالانکہ وہ دورہ قطر سے آئے تھے اور اپوزیشن کو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ وہاں سے کیا لیکر آئے ہیں؟ جس کے لیئے وہ ہمیشہ شکایت کرتی ہے کہ وہ پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیتے۔ جبکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ جب وہ بتانا چاہتے ہیں تووہ نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو سنے دیتے ہیں؟ یہ کیا پتہ کہ وہ بھی آپ کے سابقہ لیڈر آف ہاؤس کی قائم کی ہوئی مثالوں پر عمل کر رہے ہوں کہ وہ بھی کچھ نہیں بتاتے تھے جو وہ کرتے تھے جس کے نتیجہ میں موجودہ وزیر آعظم کو کشکول لیے دنیا بھر میں گھومنا پڑرہا ہے؟
ویسے کشکول لیکر بھی وہی نکلتا ہے جس کی دنیامیں ساکھ اچھی ہو، اگر نہ ہوتو پھر بھیک بھی نہیں ملتی ؟ تاریخ گواہ ہے کہ پہلے بھی ایک صاحب ملک بچانے کے نام پر چندہ مانگنے نکلے تھے مگر کچھ زیادہ ملا نہیں؟ جنہوں نے دیا تھا وہ بھی کئی عشرے گزر نے بعد پوچھتے پھر رہے ہیں وہ گیا کہاں؟ کشکول کی مذمت کرنے والے اپنے ہاتھ نہ دیکھیں تو نہدیکھیں کبھی مور کی طرح اپنے پیر ہی دیکھ لیا کریں۔
ہمارے ذہن میں یہ خیال آنے سے ہمارا خیال فوراً سانحہ ساہیوال کی طرف چلا گیا۔ اور یادوں میں خیالات کا طوفان سا آگیا۔ اور وہ گھومتا ہوا ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر رک گیا ، پھر یہ نظیر سامنے نظر آئی کہ جوسامنے آئے اسے بھون ڈالو؟ جبکہ پولس وہی تھی انہوں نے بھی کہیں سابقہ نظیر سے سبق نہ لے لیاہو ؟ اور فارمولے کے طور پر وہی انہیں یاد ر ہاہو اور انہوں نے بغیر کسی سے پوچھے وہی نسخہ استعمال کر لیا ہو، آپ کے دور کے اسٹنڈنگ احکامات سمجھتے ہوئے؟کیونکہ اس وقت یہ ہی آرڈر تھے کہ جہاں دہشت گرد دیکھو گولی ماردو؟ اس سے اگر پوچھ گچھ اور اسے پکڑنے کی کوشش تو یہاں تو دو قسم کے خطرات تھے۔ اول تو یہ کہ ووہ پھٹ پڑے گااور پولس مرتبہ شہادت پر متمکن ہو جا ئے گی ۔یا جی آئی ٹی بنے گی اور کوئی ایماندار آفیسر کسےکے پیرے ڈھونتا ہوا کسی بڑے درخت تک نہ پہونچ جا ئے؟ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ بچوں سے بھری کار پر فائرنگ کھول دی جاتی ؟ یہ کوئی ذاتی دشمنی کا معاملہ نظر آتا ہے کہ ایک دہشت گرد کی آڑ میں کئی خاندانوں کو خون کے آنسو رلا دیا اور شادی کے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا؟ چونکہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے؟ اور حکومت اس کی راہ میں حائل نہیں بلکہ معاون ہے؟ لہذا انشاء اللہ جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی معلوم ہوجائے گا؟
ایک اہم مسئلہ ہم نے ٹی وی پر اپوزیشن کے نمائندے کے زبانی سنا کہ آلو دو روپیہ کلو بھی نہیں فروخت ہورہے ہیں؟ یہ ہی صورتِ حال پچھلے سال انڈیا میں تھی۔ اس وقت یہاں نوازشریف صاحب وزیر آعظم تھے جو انڈیا دوست تھے، حق ہمسائیگی ادا کیا۔ یعنی انہوں نے پاکستان میں آلو امپورٹ کرکے ان کی مشکل آسان کردی تھی؟ مگر جو واقف حال نہیں ہیں تو ان کی آگاہی کے لیے ہم بتادیتے ہیں کہ یہ تو ہر دوسرے سال ہوتا ہے؟ کہ ہمارے یہاں کسی کی پلاننگ تو ہوتی نہیں ہے۔ لہذا نہ ہندوستانکی گزشتہ سال کی پریشانی سے کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی ماڈرن دنیا سے کہ وہ کسی چیز کو کاشت کرنے کے لیے اتنی ہی اجازت دیتے ہیں جنتی کھپت ہوتی ہے ۔ جبکہ ہمارے یہاں پلاننگ ہوتی ہی نہیں ہے، اس لیے ہوتا یہ ہے کہ ہر چیز ایک سال مہنگی ہوتی ہےتو دوسرے سب وہی جنس با جماعت کاشت کرلیتے ہیں۔ پھر اسے سڑک پر رکھ کر اور جیب سے خرچ کرکے تیل چھڑک فصل کو آگ لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ امید ہے کہ اب آپ سااری باتیں سمجھ گئے ہونگے













