کچھ قربتوں میں ڈوب جانا پڑتا ہے،فائزہ عباس

0
1363

کچھ قربتوں میں ڈوب جانا پڑتا ہے غرق ہونا پڑتا ہے….
تاکہ خود کو پایا جاسکے تمہارا ساتھ بھی میری پہچان کی وہی منزل ہے جہاں میرا وجود تمہیں ڈھونڈاتا ہے…. گویا کہ تم میں کمل ڈوب جانا چاہتا ہے تاکہ خود کی تسخیر کر سکے گویا تمہیں پا سکے کہ تم میری ہی’ تصویر’ ہو….
کہ تم مجھ سے کسی طرح الگ نہیں بلکہ میرا ہی’ آئینہ ‘ہو…
کہ گویا تم تم نہیں ہو…
کہ ‘میں’ ہو…

کہ تم پاکیزہ و طاہر ہو اور نورانیت سے اپنی میرے وجود کو روشن کرتے ہو کہ وہ نور جو مجھے میرے اندر دیکھنے کی وہ بصیرت و ڈھنگ دیتا ہے کہ میں دیکھ نہیں جو سکتا تھا کبھی آج تمہاری نگاہوں کے نور سے گہرائیوں تلک دیکھ لیتا ہوں…

کہ تمہارا وجود دوا ہے میرے مرض کی کہ گویا تمہارا عشق مجھے پاک کرتا ہے…..
پاک رکھتا ہے…
تمام تر پستءوں میں گرنے سے میری محافظت کرتا ہے…

کہ مجھے بلندی دیتا ہے کہ گویا پستی جب جب اپنی جانب کھینچتی ہے…
میں اتنی قوت محسوس کرتا ہوں کہ اسکو مکمل شدت اور بصیرت سے دھتکار دیتا ہوں…

اسے’ نہ’ کہتا ہوں کہ نہیں یہ میرا مقام ہی نہیں…

یہ جگہ میری شان نہیں…

کہ جہاں میرا محبوب میرا ہاتھ تھامے بنا اپنے احساس کی حرارت سے میرے مردہ وجود کو زندگی دیکر لایا ہے اسکی منزل کسی طرح بھی پست نہیں….

کہ وہ میرا عکس نہیں… کہ میں تمام نجاستوں. غلاظتوں، متعفن زدہ عبارتوں اور وقتی لزت و لطف دینے والی کیفیتوں سے مکمل بیزار ہوں کے وہ تو ہمیشگی کی موت ہے اور مجھے تو زندگی نے پکارا ہے….

وہ زندگی جہاں پہ ہر عکس، ہر زرہ، ہر شے سوائے پاکیزہ وہ روح میں سرایت کر دینے والی حسین ترین مہک و بصیرت و سمجھ کے تخت نشینوں کو مکمل دیکھنے اصل دیکھنے کی لزت و اعزاز کے اور کچھ بھی نہیں….

جب بصیرت کو طہارت کا رزق میسر آجائے تو وجود کو شفافیت کے اقدام میں وقت نہیں لگتا کہ یہ بالکل ایسے ہے کہ کسی شفاف میٹھے پانی کی ندی کے آگے ایک معمولی بند کب سے اسے اسکے اصل کیجانب پہنچنے سے روکے کھڑا ہو اور زمین میں ایک معمولی دھچکا اس بند راہ کو گرا دے اور ندی اپنے راستے کو مکمل پالے اور پوری شان، خوشی اور فخر کیساتھ اس ڈھیری کو سر کرتے ہوئے اس پر پاوں رکھ کے گزر جائے اور اپنے راستے پر لوٹ آئے کہ بند راہ تو کھل سی گئ اور بس وہ ندی جو کہیں مردگی کا احساس لیے بیٹھی تھی نہ صرف زندہ ہو گئی بلکہ اپنے راستے کو بھی سیرابی عطا کر گئی…

کہ جس راہ کو لوگ بنجر سمجھ کر استعمال کرنے لگے تھے اب وہ اسکے احترام پہ مجبور ہو گئے کہ وہ سیرابی کا باعثِ تھی، زندگی بخش تھی…

تم اس ندی کی وہ روح ہو کہ جسکی بلند ہمتی،صبر و شجاعت احساس کے طوفان کا رخ ہی بدل دیتی ہے جو اپنے اپکو سراپا عروج کے سوا کچھ نہیں دیتی…

میں تمہاری پرواز پر ہوں کہ تمہارے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں کے پار دیکھتا ہوں اور زمہن کی پستیوں میں چھپے حسین و بلند کوہسار دیکھتا ہوں…

کہ تم مجھے اس سکون و لزت سے آشنا کرتے ہو کہ جو مجھے ہر عیب و کمزوری کو سر کرنے کی طاقت عطا کرتاہے کہ تم اور میں دو ہیں کہ تم اور میں ایک ہی جود کے دو مکمل رخ ہیں جو ایکدوسرے کی ہر کمزوری کو طاقت سے بدل دیتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس ایک حتمی منزل پہ پہنچانے کی صلاحیت دیتے ہیں…

کہ جب بصیرت کو نگاہیں مل جائیں تو رب ہی مددگار ہوتا ہے کہ اسکے عبد درست چن پائیں، کر پائیں کہ پائیں مگر اس منزل تک آنے کے سفر میں شعوری کوشش درکار ہے…
اور شعوری کوشش کا مطلب ہے کہ انسان اس تمام پتھریلے، نوکیلے رستوں پر تن تنہا چلنے کی واجب سعی کرے کہ جسکا ھدف انسان کے رب سے اتباط و تعلق کہ گہرائی سے تربیت ہے….

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس پر مشقت اور کٹھن راستے پہ چلے بنا ہی سب منزل کوپا لینا چاہتے ہیں جہاں پہ بے سرو سامانی کے عالم میں انتہائی مشکل کے لمحوں میں کہ جب ہر سمت اندھیرا ہو…

نہ کچھ بھی کہیں دکھائی دے…
اور نہ ہی سجھائی دے..
کہ عقل بھی بے بسی سے خود پہ نوحہ کناں لگے…

کہ راستہ ہو چند قدم کا مگر ایک طویل بیابان لگے….
کہ جہاں کی کو ئ بھی سمت اپنی لگے، نہ پرائ لگے…

ایک حال ہو بد حالی کا ہر دوست دشمن دکھائی دے…

کہ جہاں پہ ہوں تاریکیاں گہری اور منزل سب پہی پرائ لگے…

ایسے اندھیروں میں رک کر…
جب مںں دکھ ٹٹولتا ہوں…
سارے پتھر، سارے کانٹے..
روح پر ضربیں کھولتاہوں…
میں بے بس، عاجز بندہ بن کر….
جب رب کے آگے سب کھولتا ہوں…
اس سے اپنے غم میں کہ کر…
روح کے زخم سنبھالتاہوں…
اس کو اپنا مانتے ہوئے…
سب اس پہ جب چھوڑتا ہوں…

تو وہ کھولے رستے ایسے جیسے بند دروازے ہوں….
سب کے سب کھلتے ہی جائیں ایسے میں رب سے بولتا ہوں…

کہ مجھ کوپناہ میں لے لے تو ہی، کہ تو ہی میرا رب ہے…
میں خود کے تجھ پر یقین سے، سارے قفل کھولتا ہوں …
میں ہوں تیرا بندہ اور تو ہی میرا رب ہے…

میں اپنے تعلق سے خود جب تیری عظمت ٹٹولتاہوں…

تو رحمت ہی رحمت لاگے…
میں خود کو تیرے ساتھ سے قیمتیکر لیتاہوں پل بھر ہی میں، تجھ پہ توکل سے راہیں خود ایسے میں کھولتا ہوں
کہ جیسے دروازہ تھا کھلا اور کب سے کنجیاں ڈھونڈنے نکلا تھا…

جیب میں سارے حل تھے میرے بس میں اندھا بہرا رہا…

تیرامیرا ساتھ ہے ایسے جیسے شبنم کے پاک سے قطرے ہوں…
پاک ایک سفینہ ہو جس پہ ہم سب رہتے ہوں…
سارے نغمے سنتے ہوں، سارے دکھ سکھ کہتے ہوں…

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY