جس سماج میں عورت اور مرد کی تربیت مختلف انداز میں کی جاتی ہو
جہاں لڑکی کو بچپن سے ہی کمتر مخلوق اور لڑکے کو عورت پر حکمرانی کے لئے پالا پوسا جاتا ہو۔
جہاں لڑکی کو ہوش سنبھالتے ہی یہ سننے کو ملے کہ یہ تمہا را گھر نہیں، تمہں اپنے شوہر کے گھر جانا ہے
لڑکے کو روٹی سالن کے ساتھ اور لڑکی کو اچار کے ساتھ،
لڑکی پرکڑی نظر رکھی جاتی ہو، اور لڑکے کو کھلی آزادی ہو
،
جہاں عورت پر الزام تراشی ایک عام سی بات ہو
ونی،کاروکاری،عزت کی نام پر قتل، جیسی فرسودہ روایات زندہ حقیقت ہوں
جہاں ملک کے بڑے بڑے ٹی وی چینلوں پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں عورت پر ھاتھ اٹھانا ایک معمول کی کہانی ہو،
وہاں لڑکی اپنی زندگی نہیں جی سکتی،
پلیز اسے اپنی زندگی جینے دیجیے، اسے تعلیم دیجیے ، اسے زندگی میں آگے بڑھنے دیجیے،
یہ اسی صورت میں ممکن ہے
جب والدین بیٹے اور بیٹیوں کی یکساں انداز میں تربیت کریں۔اس مقصد کے حصول میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں نا گزیر ہیں
ماہ پارہ صفدر














حق سچ فرمایا۔