برطانیہ میں پچھلے آٹھ دس سالوں سے ایک مسئلہ چلا آرہا ہے اور وُہ مسئلہ کہیں باہر سے نہیں آیا بلکہ مُسلم کمیونٹی کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔ یہ مسئلہ ہے کیا؟ اِس سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ لندن کو بھی ہر بڑے شہر کی طرح ایسٹ لندن ، ویسٹ لندن ، ساؤتھ لندن ، نارتھ لندن یا سینٹرل لندن جیسی اصطلاحات یا ایریاز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایسٹ لندن کا نام آتے ہی ذہن میں ایشین کمیونٹی اور مُسلم کمیونٹی کا خیال آتا ہے کیونکہ مُسلم کمیونٹی کا ایک بڑا حِصہ یہیں رہائش پذیر ہے ۔ ایسٹ لندن میں کئی کاؤنسلز جیسا کہ ریڈ بِرج ( گریٹر لندن ) والتھھم فوریسٹ ، نیو ہیم وغیرہ میں مُسلم آبادی کافی زیادہ ہے ۔اِن میں سب سے زیادہ مُسلم کمیونٹی والتھھم فوریسٹ کی کاؤنسل میں ہے ۔ یُوں تو برطانیہ کے کئی شہر جیسا کہ بریڈ فورڈ ، برمنگھم ، مانچسٹر جبکہ دیگر عِلاقوں میں ڈیوسبیری ، لیسٹر اور لُوٹن وغیرہ میں مُسلمان کافی زیادہ ہیں بلکہ بریڈ فورڈ تو فُل دیسی ماحول ہے لیکن میرا آج کا موضوع بُنیادی طور پر نارتھ ایسٹ لندن کی اِس کاؤنسلوالتھھم فوریسٹ اور اِس کے ذیلی عِلاقوں بالخصوص لیٹن سے متعلقہ ہے ۔ یہاں پر پچھلے ایک عشرے سے انجم چوہدری ، ابو عزادین ، ابو رُماساح ، سیف السلام جیسے کئی بُنیاد پرست مُسلمان نہ صِرف شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں بلکہ وُہ اِن علاقوں میں کِسی غیر مُسلم یا گوروں یا گوریوں کا داخلہ بھی اُس صُورت مُمکن بنانا چاہتے ہیں جب اُنھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر کوور کیا ہُوا ہو یعنی اگر کوئی گوری ہے تو وُہ شارٹس وغیرہ پہن کر اِن عِلاقوں میں نہیں آسکتی ، یہاں اِن عِلاقوں میں کسینوز ،کلب یا بارز نہیں ہونے چاہئیے ، اُن کو بینکنگ کا ایسا نِظام بھی درکار ہے جِس میں انٹرنیشنلی بینکنگ سسٹم ہو یا نہ ہو لیکن انٹرسٹ فِری ہو جیسا کہ عام ریڈیکل مُسلمان سوچتے ہیں کہ وُہ سُود نہیں دینا چاہتے ۔ اِن کو اپنے تمام خوانگی مسائل میں صِرف شرعی عدالتیں بھی درکار ہیں اور خاص طور پر یہ بھی چاہتے ہیں کہ مُسلمان مردوں کو ایک سے زائد شادیوں کی سرکاری طور پر اجازت ہو ۔ یہاں میں یہ واضح کردُوں کہ کئی مُسلمان مردوں نے پہلے ہی ایک یا دو سے زائد شادیاں کرر رکھی ہیں لیکن نکاح نامے کی شناخت بطور سرکاری دستاویز مشروط ہے مِثال کے طور پر جب اوورسیز سے شادی ہونے کی صُورت میں ایک پارٹنر کو وہاں سے برطانیہ آنا ہو تو تب نکاح ایک ویلڈ دستاویز ہے ورنہ برطانیہ میں انگلش میرج سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے اور لا آوو دی لینڈ کے مُطابق وُہ صِرف ایک شادی کی اجازت دیتا ہے خیر یہ بھی اُن کی مانگ میں شامِل ہے ۔ اِنہوں نے یہاں پر باقاعدہ کئی شِدت پسند ویب سائٹس اور تنظمیں بھی قائم کیں جیسے کہ میک یعنی مُسلم اگینسٹ کروسیڈ۔ اور اِسلام4یُوکے جیسی ویب سائیٹ جو بعد ازاں بلیک لِسٹ کردی گئی تھی۔ عرض کرتا چلوں کہ پہلے ہی برطانیہ میں پچاسی سے زائد شرعی عدالتیں موجود ہیں جو دیگر عدالتوں کے پیرالل کام کررہی ہیں اور اِسلامک فائنینس سسٹم بھی موجود ہے لیکن اب یہ جو دس بارہ سالوں سے شرعی کنڑولڈ زون بنانے کی احمقانہ خواہش ہے اور یہاں کے اپنے شہریوں کو اپنی مرضی سے جینے ، چلنے پھرنے کی آزادی نہ دینا ایسا ہی خواہش ہے جیسے افغانستان سے آئے مہاجرین پاکستان میں اپنے قوانین نافذ کرنے لگیں اور نوگو ایریاز بنا کر بیٹھ جائیں ، بِلاشُبہ پاکستان میں تو اُنھوں نے ایسا ہی کیا ہُوا ہے لیکن یہاں ایسی حرکات کرنا یا ایسی مانگیں مانگنا ازحد درجے کی حماقت نہیں بلکہ ڈھٹائی اور بے شرمی ہے ۔ اِن لیڈرز میں سے ایک دو باقاعدہ نفرت آمیز باتیں کرنے پر چند سالوں کی جیل یاترا بھی کرچُکے ہیں اور ایک دو بندے کام کاج نہیں کرتے بلکہ ریاست کے وظیفے یعنی بینیفِٹس پر پَل رہے ہیں ، یعنی صحتمند اور جوان ہونے کے باوُجود ہڈ حرام ہیں اور حُکومتی خیرات پر زندگی گُزار رہے ہیں جبکہ اِسلام تو خیرات پر گُزر بسر کرنے یا بھیک کی سختی سے مُمانعت کرتا ہے لیکن نہیں اِن کو سمجھانا مُشکل ہی نہیں نامُمکن بھی ہے ۔ کہنے کو تو اور بھی بُہت کہا جاسکتا ہے ، لکھنے کو لکھا جاسکتا ہے لیکن صِرف اِتنی سی بات کہ برطانیہ میں مُسلم آبادی کُل آبادی کا پانچ فیصد سے بھی کم حصہ ہے لہٰذا ایسی عجیب و حرکات جو ظاہر ہے چند سو یا چند ہزار مُسلمان ہی کررہے ہیں وُہ نہ صِرف دیگر مُسلمانوں کے لئے باعثِ شرمندگی ہیں بلکہ اُن کو بھی دیگر مذاہب و قومیت کے لوگوں اور یہاں کی لوکل آبادی کی نفرت اور بیزاری کا باعث بننے میں کردار ادا کررہی ہیں ۔ کیا ایسے افراد کو یہاں برطانیہ میں رہائش پذیر ہونے سے پہلے پتہ نہیں تھا کہ یہ ایک نان مُسلم اور سیکولر سٹیٹ ہے؟آپ کو زیادہ زور کا اِسلام آیا ہے اور شرعی قوانین کے بغیر آپ کا گُزارا نہیں ہورہا ہے تو دو طریقے ہیں یا اپنے اُوپر اِسلام کے تمام جُملہ قوانین نافذ کریں یا پھر سعودیہ یا ایسے کِسی دیگر مُلک میں تشریف لے جائیں اور وہاں شرعی قوانین اور دیگر ایسی ہی اعلیٰ سُہولیات سے فائدہ اُٹھائیں ۔ اِس مُلک کو جِس نے آپ کو شہریت دی ، کاروبار کرنے کے مواقع دئیے اور ہر وُہ حق دِیا جو آپ کو اپنے سو کالڈ مُسلم ممالک میں نہیں مِلتا تھا ( مِلتا ہوتا تو یہاں نہیں آتے ) ، اب جب آپ کے پیٹ میں وافر اناج آگیا ہے تو آپ کو شرارتیں سُوجھ رہی ہیں ۔ آپ ایک بار پھِر سے ہجرت کیوں نہیں کر لیتے ؟ مزید تفصیلات کے لئے کوومنٹس میں لنک پیسٹ کر دئیے ہیں ۔ گو کہ یہ رپورٹس چند سال پُرانی ہیں لیکن یہ مسئلہ ابھی تک تازہ ہے ۔میں سوچتا ہُوں کہ پھِر ہمارے دائیں بازُو کے مفکر ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مُسلمان پُرامن اور اچھے لوگ ہیں ، مُجھے اِس بات پر پُورا بھروسہ ہے لیکن کیا ہے ناکہ مغربی لوگ جب ایسے افراد اور گروہوں کو دیکھتے ہیں تو وُہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہوتے ۔ وُہ پُوچھتے ہیں کہ ہندوؤں ، سِکھوں ، بُدھ مت یا کِسی اور مذہب کے ماننے والوں کو برطانیہ میں ایسی کُوئی آفت نہیں آئی کہ وُہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائیں اور ایسی باتوں کا مُطالبہ کریں جو مُلکی قوانین سے مُتصادم ہوں














بیدار مغز تجزیہ کار اور تخلیق کار آپ جیسا ہی ہوتا ہے۔ بہت اہم مسلہ۔ لیکن افسوس یہ کہ متعلقہ لوگوں کو خود اسکا ادراک نہیں اور نہ ہی وہ اسکی ضرورت محسوس کرتے ہیں