مرکز اطلاعات فلسطین
عالمی بنک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ اہل فلسطین پینے کے صاف پانی کے سنگین بحران کا شکار ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی بنک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں مقامی فلسطینی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارےکے فلسطینی شہریوں کو انتہائی قلیل مقدار میں صاف پانی کے وسائل میسر ہیں۔ غرب اردن بیشتر آبی وسائل پر اسرائیلی انتظامیہ اور یہودی آباد کاروں کا کنٹرول ہے۔

عالمی بنک کے شعبہ آبی وسائل و سیوریج کےماہر عدنان غوشہ نے اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کے صرف 10 فی صد شہریوں کو صاف پانی میسر ہے جبکہ 90 فی صد آبادی غیر محفوظ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

رپور میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سیوریج کے پانی کو ٹھکانے لگانے میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ اسرائیلی فوج کی مسلسل جنگوں کے نتیجے میں غزہ میں بنیادی ڈھانچہ تباہ  ہونے سے سیوریج لائنوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔

عالمی بنک کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 150 کمپنیاں پانی کی فراہمی کی کوشش کررہی ہیں مگر وہ بھی عالمی معیار کے مطابق صاف پانی کی تعریف میں شامل نہیں کیا سکتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1993ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے معاہدے تحت فلسطینی آبادیوں کے لیے پانی کا جو حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ فلسطینیوں کو فراہم نہیں کیا جا رہا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY