لطیف بات اور جہالت کی بات میں حلال حرام جیسا فرق ہوتا ہے لیکن افتاد زمانہ کہ اب نجاست کا نام طہارت اور کثافت کا نام لطافت ہو چکا ہے۔ کم علم بلکہ حامل جہل سینہ تان کے کہتا ہے کہ میں مطالعہ نہیں کرتا ۔
اخبارات اور نشریات کی دنیا میں بھی ایسے کمال کمال کے لطیف لیکن سچے واقعات ہیں کہ ان پر ایک مکمل کتاب ترتیب پا سکتی ہے۔ کوئی پانچ برس قبل ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا تھا کہ میں خود ایسی کتاب شائع کرواؤں۔ میں نے جواب دیا کہ میں تو اپنی شاعری کی کتاب اب شائع نہیں کرواتا کہ مفت کتاب کون تقسم کرے اور پھر قاری کیا آسمان سے آئے گا
اسوقت اس موضوع ہر چند سطور لکھنے کا خیال یوں آیا کہ ریڈیو پاکستان کے کراچی مرکز پر متعین دھنک چینل کی دھنک رنگ پروگرام مینجر اور میری بہت معزز دوست رابعہ اکرم نے صبح صبح ایک افلاطون صفت کمپیئر کے بارے میں یہ بات کر شاداں و فرحاں کر دیا کہ آج اکیس اپریل کو علامہ اقبال کی برسی کے موقع پر ایک کمپیئر نے علامہ کے اس مصرع کی درستگی کر کے پڑھا کہ جسے برسوں سے لوگ غلط پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور اسکی درستگی کی جانب کسی کی توجہ بھی نہیں گئی
علامہ کا مصرع ہے ،،گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
اے اہل ادب و اہل نشریات مبارک ہو کہ ایک زمانے کے بعد آخر کار ایک بطل جلیل نے علامہ کے مصرع کو درست کر کے زندگی میں ہی یعنی جیتے جی نشان حیدر پانے کا مقام بنا لیا، موصوف نے علامہ کی برسی پر انکی قبر کو ہلا کر اور انکی روح کو پریشان کر کے رکھ دیا۔ مصرع یوں ہواؤں میں بکھیرا
گیسوئے تابعدار کو اور بھی تابعدار کر
ہائے ہائے اس کمال فن پر غالب و میر و داغ کے دیوان نثار۔
میں نے رابعہ اکرم سے کہا کہ اپنی دانش،اہلیت اور صلاحیت کی وجہ سے یہ کمپیئر پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات کے لیئے موزوں ترین انسان ہے اور اسے یہ منصب مستقل یعنی بعد از حیات بھی سونپ دینا چاہیئے کیونکہ یوں بھی فساد چوہدری کے جانے سے بعد اس سے بڑا افلاطون اس منصب پر ہونا چاہیئے
لیکن خیر یہ کار سرکار ہے ہماری کون سنے گا
صفدر ھمدانی













