ہم دنیا کے کتنے ہی ممالک کی طرح سیاحت کو ہی ملک کے لیئے زرمبادلہ کمانے کا ایک بڑا وسیلہ بنا سکتے ہیں لیکن ہماری تقریر عمل سے زیادہ ہے
اگر صرف ایک کھیوڑہ ہی کو عالمی سیاحت کے معیار کا بنا دیا جائے تو لوگ سوائے پاکستان کے کہیں نہ جائیں گے۔ اس قدر نایاب جگہ ہے لیکن غفلت کی انتہا دیکھئے کھیوڑہ کی طرف جانے والا رستہ جیسے ہی موٹر وے سے دائیں بائیں ہوتا ہے کچرے کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے ۔ کھیوڑہ کی کان تک بلکہ اندر تک کچرا ہی کچرا نظر آتا ہے ۔ کان کے اندر نمک کے پانی کا تالاب جہاں جھیل سیف الملوک جیسا منظر جھیل میں نظر آتا ہے لیکن پلاسٹک کے شاپرز اور فروٹ جوس کے ڈبوں سے میلا پڑا ہے ۔
غلط ترجیحات کے ہاتھوں ہر میدان میں خسارہ
جب میں دنیا دیکھتی ہوں معمولی سی راہ گزر کو مثلا ” یہاں سے پہلی بار ماو گزرے تھے ” کی راگزر کو ایسے طریقے سے سنوار کر رکھا ہے کہ ایک گھنٹہ قطار میں باری آنے پر لوگ دیکھتے ہیں ۔ صفائی اتنی کہ بندے کے تصور میں گند نہ آئے ۔۔۔ ٹیکسلا کا حال نہ پوچھیئے ۔۔۔ مرغی کے دڑبوں میں بدھ کے پیر رکھے ہیں ۔۔۔ اور جہاں ان کا اور ان کی ماں کا مجسمہ ہے وہ ٹوٹ رہا ہے۔ وہاں کی صفائی کرنے والے ٹورزم کر رہے ہیں ۔جو میدان میں پڑے دو چار مجسمے دکھانے کے پیسے مانگتے ہیں ۔ واش رومز اور ان کی صفائی کا کوئی کانسپٹ ہی نہیں ہے۔
یہ جگہ اگر چین یا ویتنام کو ملی ہوتی آپ کو بتاتے کہ ٹورزم ہوتا کیا ہے ۔ انہوں نے اسی بدھ کے ٹوٹے مجسمے سے اپنا ملک چلا لینا تھا ۔
پر وائے افسوس نادان مسلمان اپنی کھوٹی نیتوں اور غلط ترجیحات کے ہاتھوں ہر میدان میں خسارے میں ہے۔
ڈاکٹر نگہت نسیم













