طارق بٹ… شفا خانے اور مذبحہ خانے

0
757

حکومت نے اسلام آباد کے علاقے سہالہ میں ایک مذبحہ خانہ قائم کر رکھا ہے اور احکامات یہ ہیں کہ قصاب حضرات اپنے اپنے جانور وہاں لائیں اور وہیں سے ذبح کروا کر ڈاکٹر کی مہر لگوا کر اپنے اپنے علاقے میں گوشت فروخت کریں –
آپ کی بے اختیار ہنسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آپ درویش کو پاگل سمجھتے ہیں اور شائید بجا سمجھتے ہیں کہ اس مہنگائی کے دور میں کون سر پھرا ہو گا جو روات ، کلر یا گوجر خان سے گاڑی بک کروا کے اپنا جانور سہالہ مذبحہ خانے لے جائے گا اور آ بیل مجھے مار کے مصداق وہاں موجود ویٹرنری ڈاکٹر سے اپنے جانور کا معائینہ کروائے گا کہ جانور لاغر یا بیمار تو نہیں اور واقع ہی اس کا گوشت کھانے کے قابل ہے پھر جانور ذبح کیا جائے گا اور ڈاکٹر صاحب جانور کے گوشت پر جا بجا اپنی مہر ثبت فرمائیں گے یہ سارا عمل ڈاکٹر صاحب اور وہاں کا دیگر عملہ مفت میں ہر گز نہیں کرے گا کہ ان کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہے جو کھانے کو مانگتا ہے اور بڑے بڑے پیٹ تنخواہ سے کہاں بھرا کرتے ہیں خیر اس تمام عمل کے بعد آپ جانور اپنے علاقے میں لا کر اس کا گوشت فروخت کر سکتے ہیں-
مگر یہ ساری مصیبت اٹھائے کون ؟ یہی وجہ ہے کہ آج گاوں گاوں، شہر شہر اور سڑک سڑک مذبحہ خانے کھل چکے ہیں بغیر کسی ڈاکٹر کی جانچ اور تصدیق کے جانور محلوں اور گلیوں میں ذبح ہو رہے ہیں اور سر بازار فروخت کیئے جا رہے ہیں صرف قصاب اور اللہ رب العزت کو معلوم ہے کہ طارق بٹ بڑے شوق کے ساتھ بازار سے جو گوشت خرید کے لاتا ہے اور چٹخارے لے لے کر کھاتا ہے وہ صحت مند جانور کا ہوتا ہے یا بیمار کا ، زندہ جانور کا ہوتا ہے یا مردار کا ، حلال جانور کا ہوتا ہے یا کھوتے کا ، درویش کا علم تو اس معاملہ میں انتہائی ناقص ہے اس یقین کے ساتھ آنکھیں بند کر کے لے آتا ہے کہ تندرست جانور کا ہو گا ، زندہ کا ہو گا اور حلال کا ہو گا اگر قارئین کے پاس اس کے برعکس ٹھوس ثبوت اور معلومات ہوں تو رہنمائی فرما سکتے ہیں فقیر کی گذارش تو فقط اتنی ہے کہ گلی محلوں میں کھلنے والے یہ مذبحہ خانے اگر آبادی سے باہر بنا لئے جائیں تو آبادی کے باسی آلائشوں کے تعفن سے محفوظ رہتے ہوئے مختلف بیماریوں سے بچ پائیں گے-
مذبحہ خانوں کی باس سے بیماریوں میں مبتلا ہونے کے بعد ہمیں شفا خانوں کا رخ کرنا ہوتا ہے شکر ہے کہ سرکاری شفا خانوں کے ساتھ ساتھ اب نجی شفا خانے بھی جگہ جگہ کھل رہے ہیں دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ان شفا خانوں میں سے کچھ تو انتہائی عالی شان عمارات میں کھلے ہیں عمارت کے باہر بڑے بڑے بل بورڈز پر مشہور و معروف سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹرز کے نام دیکھ کر اپنی قسمت پہ رشک آتا ہے اور دل سے ان ماہر معالجین اور شفا خانوں کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں جو دور دراز کے دیہاتی مریضوں کی خدمت کے لئے اپنا آپ وقف کیئے ہوئے ہیں-
مشہور و معروف سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹرز سے اپنا معائنہ کروانے کی لگن لئے جب ہم شفا خانے میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں ہمارا واسطہ کسی نہ کسی نوجوان میڈیکل آفیسر سے پڑتا جو تازہ تازہ ڈاکٹر بن کے نوکری کی تلاش میں ان شفا خانوں کا حصہ بن چکا ہوتا ہے اب آپ پوچھئے کہ صاحب وہ باہر جو اتنے نامور ڈاکٹرز کے نام لکھے ہیں وہ کہاں پائے جاتے ہیں جواب ملے گا کہ انہیں کال پر بلایا جا سکتا ہے اب خود سوچئے کہ ایمرجنسی ابھی ہے ڈاکٹر کی ضرورت بھی فوری ہے مگر نامور ڈاکٹر صاحب کو کال کی جائے گی اور وہ اگر کسی دوسرے نجی شفا خانے میں کسی آپریشن میں مصروف نہ ہوئے تو پانچ چھ گھنٹے میں تشریف لے ہی آئیں گے الگ بات کہ تب تک مریض ہی مستقل تشریف نہ لے جائے یہ بڑے ناموں کا جھانسا اکثر نجی شفا خانوں میں آپ کو متاثر کر کے جال میں پھنسانے کے لئے دیا جاتا ہے- خصوصا بچے کی ولادت کے لئے کوئی خاتون اگر ان کے جھانسے میں آگئی تو کال کر کے جس گائنی کو بلایا جائے گا یقین رکھئے کہ وہ ضرور کوئی لیڈی ہیلتھ ویزیٹر ہو گی مگر اس وقت کون ڈگری چیک کرتا پھرے –
چند ایک کو چھوڑ کر ان میں سے اکثر شفا خانے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اسی لئے ان کے طے کردہ ضوابط سے نا بلد پائے جائیں گے تجربہ کار پیرا میڈیکل اسٹاف کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملے گا بس جس کو ٹیکا لگانے کا ڈھنگ آتا ہے وہ کمپووڈر ٹھہرا خواہ کسی سرکاری اسپتال میں مالی کا کام کرتا ہو اور لیبارٹری ٹیکنیشن تو الامان و الحفیظ کہ اس کا کیا ہوا کوئی بھی ٹیسٹ آپ کسی بھی مستند لیبارٹری سے دوبارہ کروا کے دیکھ لیں رپورٹ میں فرق صاف ظاہر ہو جائے گا اکثر شفا خانے سٹرلائزر کی سہولت سے محروم ملیں گے بس عام پانی میں دو قطرے ڈیٹول کے ڈال کر اوزار دھو لئے جاتے ہیں اور پھر چل سو چل ، ضوابط کے مطابق وہ تین مختلف رنگوں کے ڈسٹ بن جن میں سے ایک میں سرنج، نیڈل اور بلیڈ وغیرہ، دوسرے میں ڈرپ ٹیوب اور گلوز وغیرہ، تیسرے میں انجیکشن، بوتلیں اور دیگر اشیاء ڈال کر شفا خانے کی حدود سے باہر ایک گڑھا کھود کر ان تمام اشیاء کو جلانے کے بعد مٹی میں دفن کرنا ہوتا ہے اگر آپ یہ تین مختلف رنگوں کے بن کسی بھی نجی شفا خانے میں تلاش کر لیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ آپ بہت بڑے کھوجی ہیں ہوتا یہ ہے کہ یہ تمام استعمال شدہ سامان شفا خانے کے باہر کسی کھیت وغیرہ میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں سے کچرا اٹھانے والے لے جاتے ہیں اور یوں یہ تمام سامان صاف ستھرا کر کے دوبارہ بازار میں فروخت کے لئے دستیاب ہوتا ہے جس سے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کی بیماریاں خوب پھل پھول رہی ہیں-
مزید بھی بہت کچھ ضبط تحریر میں لایا جا سکتا ہے مگر طوالت کے ڈر سے صرف اتنا عرض کیئے دیتا ہوں کہ اگر آپ نے ان شفا خانوں میں صفائی ستھرائی کا اعلی معیار دیکھنا ہو تو کسی بھی بستر کی چادر ، تکیہ اور کمبل کا جائزہ لے لیں یا پھر ان نجی شفا خانوں کی فارمیسی سے خریدی ہوئی دوا کا موازنہ کسی اچھی فارمیسی کی اسی دوا سے کر کے دیکھ لیں اصل صورت حال آپ کے سامنے آ جائے گی ان تمام معاملات کو سامنے لانے کے بعد فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں اب آپ ہی رہنمائی فرمائیں کہ جگہ جگہ کھلنے والے یہ شفا خانے ہیں یا مذبحہ خانے ؟…!

SHARE

LEAVE A REPLY