ایماں کو تازہ کردے یہ تفسیرِ کربلا۔دلشاد نسیم

0
725
Shi'ite Muslims commemorate Ashura in Kerbala, Iraq ,October 12, 2016. REUTERS/Alaa Al-Marjani - RTSRX6Z

چھایا ہے شہر میں غمِ شبیرِ کربلا
ہر چہرہ ہے بنا ہوا تصویرِ کربلا

آلِ نبی بھی باخبر انجام سے تھے پر
ہاتھوں میں لے کے چل پڑے شمشیرِ کربلا

بادل ترس رہا تھا کہ چھا جائے کوئی پل
روتے ہیں ہائے آج بھی دلگیرِ کربلا

اللہ نے اپنے پیارے کو دیکھا تھا اک نظر
تھا وقت عصر کا ہوئی تسخیرِ کربلا

ہاں واقعہ حسین و حسن کا لکھا تھا جب
ہائے کہ رو پڑی مری تحریرِ کربلا

لاکھوں درود آپ پر اور ہیں سلام بھی
آنکھوں میں آگئی مرے تاثیرِ کربلا

ہے کربلا کا واقعہ پہچان مومنو
ایماں کو تازہ کردے یہ تفسیرِ کربلا
دلشاد نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY