حُسین شناسی کا سفر۔75۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
631

قسط 75

انیس محرم کو
قافلہ اگلی منزل شام کے لیئے روانہ ہوا
جناب زینب (س)
قدم قدم پر
اپنی خطابت سے آگہی کا انقلاب برپا کر رہی تھیں
واقعہ کربلا کی روح و حقیقت بیان فرما رہی تھیں
امام حسین ع اِ س واقعہ میں
ایک لشکر یا انسانوں کی ایک گروہ کے مد مقابل نہیں تھے
بلکہ
آپ انحراف و ظلمات کی ایک دنیا کے مد مقابل سینہ سپر تھے
سالار شہیدان
اُس وقت کج روی، ظلمت اور ظلم کی ایک پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے تھے
اور یہ پوری دنیا
تمام مادی اسباب و سائل کی مالک تھی
یعنی
مال و دولت، طاقت ، شعر، کتاب، جھوٹے راوی اور درباری ملاں
سب ہی اُس کے ساتھ تھے
لیکن یہ سرور شہیداں تھے
کہ
آپ کے قدم و قلب اُس جہان شر کے مقابلے میں ہرگز نہیں لرزے
آپ میں کسی بھی قسم کی ضعف و کمزوری نہیں آئی
اور نہ ہی آپ نے
اپنی راہ کے حق اور مدمقابل گروہ کے باطل ہونے میں
کسی قسم کا شک وتردد کیا
اور جب آپ عالی مقام نے
انحرافات اور ظلم و زیادتی کا مشاہدہ کیا
تو ۔۔۔ آپ عالی مقام ع فوراً میدان میں اتر آئے
اور خالصتاً خدا ہی کیلئے قیام کیا
جناب زینب سلام اللہ علہیا نے ہر مقام پر اپنے خطبات میں بتایا
’’حُسَین مِنِّی وَاَنَا مِنَ الحُسَینِ‘‘ کے معنی کیا ہیں
کربلا میں
امام حسین ع کا کام اور قربانی
بعثت میں
آپ کے جد مطہر حضرت ختمی مرتبت کے کاموں سے
قابل تشبیہ اور و قابل موازنہ ہیں
جس طرح پیغمبر اکرم ص نے تن ِ تنہا
پوری ایک دنیا سے مقابلہ کیا تھا
امام حسین ع بھی
واقعہ کربلا میں جہانِ با طل کے مدمقابل تھے
حضرت رسول اکرم ص بھی ہرگز نہیں گھبرائے تھے
راہ حق میں ثابت قدم رہے اور منزل کی جانب پیش قدمی کرتے رہے
اسی طرح سید الشہدا بھی نہیں گھبرائے، ثابت قدم رہے
اور آپ ع نے دشمن کے مقابل آکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں
تحریک نبوی
اور
تحریک حسینی کا محور و مرکز ایک ہی ہے
اور دونوں ایک ہی جہت کی طرف گامزن تھے
جناب زینب (سلام اللہ علیہا)
مکتب اہل نبوت و ولایت کی ممتاز و عظیم اور منفرد و یگانہ نمونہ کامل
بی بی حصرت فاطمہ زہرا کی آغوش کی پلی ہیں
اور پیغمبر اسلام ص اور حضرت علی علیہ السلام
جیسی
الوہی و آسمانی ہستیوں کے دامان فضیلت میں پروان چڑھی ہیں
علم و عبادت ، عفت و تقویٰ ، فصاحت و بلاغت
ثابت قدمی ، حق کا مخلصانہ دفاع ، عزت نفس
اور وفاداری اس گرانقدر خاتون کے نمایاں صفات و کمالات میں شامل ہیں
جناب زینب سلام اللہ علہیا
وہ پاکیزہ سیرت خاتون ہیں
جو اپنے والد مولائے کائینات علی ع
اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علہیا کی سیرت و گفتار پر تھیں
اخلاق و آداب میں مہربان ، صادق اور مہذب و مودب خاتون تھیں
وہ دوسروں کی جان کی حفاظت کے لئے
اپنی جان کو خطروں میں ڈال دیا کرتی تھیں
تمام میدانوں میں دوسروں کو خود پر مقدم رکھتی تھیں
سفیر کربلا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا
جنہیں تاریخ ثانی زہرہ کے لقب سے بھی جانتی ہے
سفرِ کربلا ہو یا میدانِ کربلا، معرکہ کربلا کا دل خراش اور خون آشام منظر
اسیرانِ کربلا کی براستہ کوفہ شام روانگی کی داستاں
ہر موڑ پر
ہر مقام پر
آپ ہمیں
امامِ حسین علیہ السلام کے اور بعد از شہادت ان کے پیغام کے شانہ بشانہ
دینِ مصطفوی کی محافظت میں سر بکف نظر آتی ہیں
اللہ کے دین کی سر بلندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر
جب امامِ عالی مقام نے سوئے کربلا رختِ سفر باندھا تھا
تو
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا
اپنے شوہر کی اجازت سے
امامِ حسین علیہ السلام کے ہمراہ عازمِ سفر ہوئیں تھیں
گو آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھیں
کہ
امامِ عالی مقام کا سفرِ کربلا
ان فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت وصداقت کا ایک باب ہے
جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
امامِ حسین علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے فرمائے تھے
زبانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
شہادتِ حسین کی خبر
اس بات کا پیغام تھی
کہ
کربلا سے واپسی پر امامِ عالی مقام کاروانِ کربلا کے ساتھ نہ ہوں گے
گویا یہ سفر ابتلا و آزمائش اور مصائب و آلام کا سفر تھا
لیکن
قربان جائیں

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY