ناعاقبت اندیش پالیسی نے ملت کو شرمسار کیا ہے, اختر حسین اختر

0
594

آل انڈیا مومن کانفرنس کے جنرل سکریٹری اختر
حسین اختر نے کہا شہریت ترمیمی بل ۹۱۰۲ء اور این آرسی کے ذریعہ ملک کے
مسلمانوں سے ان کا دستوری و آئینی حق چھین لینے کی ناپاک اور جمہوریت
مخالف پالیسی کے خلاف قومی سطح پر تمام سیکولر طاقتوں کا ایک جٹ ہو کر
عوامی پیمانے پر احتجاج کرنا تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ حکومت ہند کے ہندو
اور مسلم منافرت کے ایجنڈے کو جس طرح سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ایک
سوچی سمجھی سازش کے تحت قومی اور بین الاقوامی پیمانے پر پھیلانے کی یک
طرفہ کاوشیں انجام دی ہیں اس کا بھرپور جواب این ڈی ٹی وی انڈیا کے تمام
اینکردبالخصوص رویش کمار نے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ابھیسارشرما، ونود
دوا، ارمیلیش اور پرسن باجپئی جیسے صحافیوں نے اپنے اپنے ایپی سوڈ میں
گودی میڈیا کے جھوٹ کا پردا فاش کرکے دنیا کے سامنے حقیقت کو ظاہر کر نے
کا جرئت مندانہ اقدام کیا ہے، اس کو تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے
مستقبل میں لکھا جائے گا۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کی جنگ جیتنے کے
بعد ملک کے دستور میں ۶۲ جنوری ۰۵۹۱ء کو دستور ساز اسمبلی کے طویل بحث و
مباحثہ کی منازل سے گزر کر یہ طے ہو گیا تھا کہ تمام مذاہب کو اپنی اپنی
شناخت کے ساتھ اس ملک میں ترقی و تر ویج کے تمام ذرائع کے استعمال کا حق
حاصل ہو گا اور اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی لیکن ۴۱۰۲ء سے مودی
حکومت کے وجود میں آنے کے بعد اچانک ملک کے دستور کو مجروح کرنے اور
عدلیہ کی بالادستی کو کمزور کرنے کی سازشیں شروع ہو گئی تھیں، اس کی کھلی
وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کو اپنے ریموٹ کنٹرول سے چلانے
والی آر ایس ایس کا کبھی بھی ملک کے دستور و آئین پر یقین نہیں رہا۔ اس
نے ہمیشہ درپردہ اور کھلے عام یہ کوشش کی کہ کسی طرح سے گنگا جمنی تہذیب
اور آپسی بھائی چارگی کے اس چمن کو ہندو راشٹر میں تبدیل کر دیا جائے اور
یہی نہیں ہندوستان کی سنہری تاریخ کو بھی اپنے نظریات کے مطابق دوبارہ
وجود میں لایا جائے۔ آر ایس ایس کی اس نفرت اور تقسیم کی عوام مخالف
پالیسیوں کے خلاف ملک کی نمبر ایک پوزیشن کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے
طلبا ء نے بڑے ہی جیالے اور بیباک انداز میں متحد ہو کر مقابلہ کیا جس کے
واسطے اس ادارہ اور اس کے طلباء اور اساتذہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ
اپنے آپ میں بہر حال کم ہی رہے گی۔ اسی جے این یو نے ملک کے بائیں بازو
کے سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو بھی اتحاد کا موقع دیا وہ بھی کھل کر
سامنے آگئے جس کی وجہ سے اس ملک میں آنے والی ہندو مسلم کے درمیان نفرت
کی آندھی کو بڑی مضبوطی سے روکا جاسکا۔ بائیں باو کے نظریات کے حامل تمام
افراد بے پناہ قابل مبارکباد ہیں۔ اختر حسین اختر نے کہا کہ جے این یونے
دہلی میں اور ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی اپنے خیالات و نظریات سے
اتفاق رکھنے والے طلباء کو خاص طور سے اپنا ہم نوا بنانے میں کامیابی
حاصل کی جس کے باعث جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دہلی میں شہریت ترمیمی بل اور
این آر سی جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر اپنی بے باک رائے دنیا کے سامنے پیش
کی اور جس طرح سے جامعہ کے طلباء اور خصوصی طور پر اس ادارے کی طالبات نے
اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پولس کی درندگی اور بربریت کے درمیان مظاہرہ
کیا اور قانونی و دستوری دلائل دیش کے سامنے پیش کیے اس عمل کی جتنی بھی
تعریف کی جائے وہ بھی اپنے آپ میں کم رہے گی۔ اسی طرح سے علی گڑہ مسلم
یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے ان مسائل پر اپنا موقف دنیا کے سامنے
رکھا اور ملک گیر احتجاج میں متحد ہو کر اپنا تعاون دیا ہے، تاریخ کبھی
بھی اس کو فراموش نہ کر سکے گی۔ ان یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور دیگر مقامی
سماجی و سیاسی کارکنان نے اپنے طلباء اور طلبات کی حمایت میں کھل کر
مظاہرہ کیا اس کے باعث آپسی بھائی چارگی کا ایسا ماحول وجود میں آیا کہ
ملک کی فسطائی طاقتوں اور ان کے ہم نواؤں کو منہ کی کھانی پڑی۔ جامعہ اور
اے ایم یو کے مظاہرے کی حمایت میں دہلی یونیورسٹی، جادھوپور یونیورسٹی،
سنٹرل یونیورسٹی حیدرآباد، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، ملک کے آئی آئی
ٹی،آئی آئی ایم، ندوۃالعلماء اور دارالعلوم دیوبندنے اپنا بھر پور ساتھ
دے کر ملک کے دستور و آئین کے خلاف سازش رچنے والوں کے حوصلے پست کر دئے
اور قومی سطح پر ہی نہیں پوری دنیا میں نریندر مودی اور امیت شاہ کے ہندو
مسلم منافرت کی مو جودہ پالیسیوں کا سیاہ سچ سامنے آگیا۔ آج پوری دنیا نے
یہ دیکھ لیا کہ ملک کی سب سے بڑی دوسری اکثریت کو کس طرح سے خوف زدہ کر
کے ان کو ان کے تمام دستوری و قانونی اختیارات سے محروم کرنے کی سازشیں
رچی جارہی ہیں۔ اخترحسین اختر نے اپنے بیان کی وضاحت میں کہا کہ جہاں
پورے ملک کے نوجوانوں نے اپنے دیگر ہم خیال افراد کی سیکولرزم اور
جمہوریت کی بقا و سلامتی کے لیے اپنے عظیم ترین اتحاد کا مظاہرہ کیا اور
ان کی حمایت میں ملک کے آئین کو بچانے کے لیے ملک کے باشندوں نے پورے ملک
میں اپنی قیمتی جانوں کی قربانی دے کر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ملک کے
آسام سے کیرل اور گجرات سے کنیا کماری تک اپنی جان و مال کی بیش بہا
قربانی دے کر ملک کی زعفرانی طاقتوں کی ناپاک سازشوں کا مقابلہ کیا۔وہیں
دوسری جانب جے این یو، جامعہ اور اے ایم یو کے وائس چانسلرحضرات کا بہت
ہی خراب رول رہا۔ جے این یو کے وائس چانسلر نے مرکزی حکومت کی خوشامدمیں
اپنے وجود کو ہی داؤ پر لگا دیا اب ایسا لگتا ہے کہ جے این یو کے طلباء و
طالبات جو کہ ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کرنے کے ضامن ہیں ان کی قطعی
پرواہ وائس چانسلر کو ہے ہی نہیں۔ اسی کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وی
سی صاحبہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو پولیس فورس تیس ہزاری کورٹ میں
پارکنگ کے معمولی سے جھگڑے کی وجہ سے وکیلوں کے ذریعہ کس قدر بے عزت کی
جاتی ہے کہ، حد تو تب ہوگئی کہ جب ایک لیڈی آئی پی ایس کو بھی وکیلوں نے
بے عزت کرنے سے نہیں بخشا وہی پولیس فورس جامعہ کی وی سی کے بغیر اجازت
یونیورسٹی کی لائبریری میں گھس کر طالب علموں کو ان کی بے گناہی کا صلہ
کس قدر بربریت کے ساتھ دیتی ہے، واش روم میں گھس کر جان بچانے والے طلباء
و طالبات کو بھی بری طرح سے مارتی ہے اور یونیورسٹی کے کیمپس کے اندر ہی
اسٹوڈینٹس کو ہاتھ اوپر اٹھواکر ان کی پریڈ کرواتی ہے پھر بھی جامعہ کی
وی سی اپنے دستوری اختیارات کا استعمال کرکے پولیس فورس کے ان کالے
کارناموں کے خلاف ایک ایف آئی آر تک نہیں لکھواتی ہیں۔کیا وہ ان مظلوم
طلباء کی آہ و بقا اور ان کی آہوں کا حساب دے پائیں گی۔ دوسری جانب اے
ایم یو کے وائس چانسلر صاحب نے تو حد ہی ختم کردی کہ انہوں نے پر امن
مظاہرہ کرنے والے اپنے ہی اسٹوڈینٹس کے خلاف مقامی پولیس فورس کو با
قاعدہ کیمپس کے اندر بلوا کر ظلم و تشدد کا ننگا ناچ ناچنے کے لیے پولیس
فورس کو پورا موقع فراہم کر دیا جس کی پوری علیگ برادری میں عالمی پیمانے
پر بے پناہ مذمت ہو رہی ہے جب کہ دنیایہ جانتی ہے کہ آر ایس ایس کے
زعفرانی ایجنڈے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نافذ کرنے کے لیے ہی یوگی
جیسے شخص کو وزارت اعلیٰ کی کرسی سونپی گئی ہے تو ایسی صورتحال کے وجود
میں رہتے ہوئے اے ایم یو کے وی سی کا پولیس فورس کو بربریت و ظلم و تشدد
برپا کرنے کا موقع دینا وی سی کی انسانیت دشمنی کا ایسا جیتا جاگتا ثبوت
ہے جو اے ایم یو اور ملک کی تاریخ کا سیاہ باب ہمیشہ کہلایا جائے گا جس
کے لیے پوری امت مسلمہ شرمسار ہے۔

شائع کردہ:آل انڈیا مومن کانفرنس
لکشمی نگر،نئی دہلی

SHARE

LEAVE A REPLY