سلطانہ مہر؛ ایک عہد کی ادبی آواز۔۔۔۔
بعض خبریں محض خبریں نہیں ہوتیں، وہ آدمی کے اندر ایک خاموش سا خلا پیدا کر دیتی ہیں۔ ایسی خبر جب کسی ادیب، شاعر یا ایسے شخص کے انتقال کی ہو جس نے اپنی پوری زندگی زبان و ادب کی خدمت میں گزار دی ہو تو اس کا دکھ صرف چند قریبی لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری ادبی دنیا اس کی کسک محسوس کرتی ہے۔ 19 اگست 2026ء کو برمنگھم میں سلطانہ مہر کے انتقال کی خبر بھی میرے لیے ایسی ہی افسوس ناک خبر تھی۔ ایک ایسی ادیبہ، شاعرہ، افسانہ و ناول نگار، صحافی اور تذکرہ نگار خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی موجودگی ثبت کی۔
ستمبر کی ایک دوپہر میرے قریبی دوست پروفیسر ارتضیٰ کریم نے واٹس ایپ پر فون کیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے محسن خان کا ذکر کیا جو لکھنؤ سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ ادبی حلقوں میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ ان دنوں اپنی بیٹی کے ہاں برمنگھم میں مقیم ہیں۔ ارتضیٰ بھائی نے ان کا نمبر مجھے بھیجا اور بتایا کہ وہ میرا نمبر بھی محسن خان صاحب کو دے چکے ہیں۔ میں نے اسی وقت ان سے رابطہ کیا۔ خوش گوار گفتگو ہوئی اور طے پایا کہ ہفتے کے روز ان سے ملاقات ہوگی اور انہیں اپنے گھر لے آؤں گا۔
اتفاق دیکھیے کہ جب میں گریٹ بار میں ان کی بیٹی کے گھر پہنچا اور انہیں اپنی گاڑی میں لے کر پیری بار اپنے گھر آیا تو میرے محترم دوست پروفیسر رضا پہلے سے وہاں موجود تھے۔ باتوں کا سلسلہ محسن خان کے ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ سے شروع ہوا۔ ادب، ناول اور لکھنؤ کی تہذیبی فضا پر گفتگو جاری تھی کہ پروفیسر رضا نے اچانک ایک ایسی خبر سنائی جس نے محفل کی فضا بدل دی۔ انہوں نے بتایا کہ سلطانہ مہر انتقال کر گئی ہیں۔
میں نے چونک کر پوچھا، ’’سلطانہ مہر؟ سخنور والی؟‘‘
جواب ملا، ’’جی ہاں، 19 اگست کو، یہیں برمنگھم میں۔‘‘
ایک لمحے کے لیے جیسے گفتگو رک گئی۔ مجھے سلطانہ مہر سے براہِ راست ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا، لیکن کسی ادیب سے شخصی ملاقات نہ ہونا اس کے ادبی وجود سے بے تعلق ہونے کی دلیل نہیں۔ میرے دوست نظیر باقری اکثر سلطانہ مہر اور ان کے رسالے ’’سخنور‘‘ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ان کے ذریعے سلطانہ مہر کا نام اور ان کی ادبی سرگرمیاں میرے ذہن میں پہلے ہی ایک مانوس حوالہ بن چکی تھیں۔ اس اچانک خبر نے احساس دلایا کہ اردو ادب کی ایک ایسی آواز خاموش ہوگئی ہے جس کا سفر کئی دہائیوں پر محیط تھا۔
سلطانہ مہر کا اصل نام فاطمہ تھا اور تخلص ’’مہر‘‘۔ 6 اپریل 1938ء کو ممبئی میں پیدا ہونے والی اس باہمت خاتون نے کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کیا۔ ان کا ادبی سفر بہت کم عمری میں شروع ہوگیا تھا۔ ان کا پہلا افسانہ 6 ستمبر 1953ء کو روزنامہ ’’انقلاب‘‘، بمبئی میں شائع ہوا۔ اس طرح ان کا قلمی سفر چند برسوں یا چند دہائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ زندگی کے آخری مرحلے تک جاری رہنے والی ایک مسلسل ادبی ریاضت بن گیا۔
پاکستان آنے کے بعد صحافت ان کی عملی زندگی کا اہم حصہ بنی۔ 1965ء سے 1967ء تک روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1967ء سے 1979ء تک روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی سے وابستہ رہیں۔ بعدازاں 1980ء سے 1990ء تک ماہنامہ ’’روپ‘‘ کراچی کی مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں تھی بلکہ ادبی ذوق، زبان کی شائستگی، فکری تربیت اور سماجی شعور کی تشکیل میں بھی اس کا نمایاں کردار تھا۔ سلطانہ مہر نے صحافت کو صرف ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے اپنے ادبی مزاج کی توسیع کا وسیلہ بنایا۔
ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت ان کی کثیرالجہتی تھی۔ وہ شاعرہ تھیں، افسانہ نگار تھیں، ناول لکھتی تھیں، صحافت سے وابستہ رہیں اور تذکرہ نگاری میں بھی ایک معتبر مقام پیدا کیا۔ ان کا اصل میدان اردو زبان و ادب تھا اور انہوں نے مختلف اصناف میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے ادبی کام کو کسی ایک صنف میں محدود کرنا ان کی مجموعی شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
شاعری میں زندگی کے تجربات، شکست و ریخت، تنہائی، یاد، انتظار، انسانی بے بسی اور امید ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’حرفِ معتبر‘‘ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ریختہ پر محفوظ ریکارڈ کے مطابق یہ مجموعہ 1996ء میں مہر بک فاؤنڈیشن، کیلیفورنیا سے شائع ہوا اور 164 صفحات پر مشتمل ہے۔
ان کا یہ شعر زندگی کے ایک پیچیدہ تجربے کو سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کرتا ہے،
جب تک تھی پرواز کی طاقت اڑتے ہوئے ڈر لگتا تھا
جس دم ہمت دل میں آئی دونوں شہ پر ٹوٹ گئے
یہاں خوف اور حوصلے کے درمیان موجود کشمکش انسانی زندگی کے ایک بڑے المیے میں ڈھل جاتی ہے۔ امکانات موجود ہوں تو خوف راستہ روک لیتا ہے اور جب انسان میں آگے بڑھنے کی قوت پیدا ہوتی ہے تو حالات کبھی کبھی پرواز کے وسائل ہی چھین لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شعر اپنی ذاتی کیفیت سے بلند ہو کر ایک عمومی انسانی تجربہ بن جاتا ہے۔
اسی احساس کی ایک دوسری صورت ان کے اس شعر میں سامنے آتی ہے،
ہم نے مانا ٹوٹنا دل کا لمحے بھر کی بات سہی
لیکن اس لمحے میں ہم پر لاکھوں محشر ٹوٹ گئے
دل کے ٹوٹنے کو ایک مختصر واقعہ کہہ کر اسی لمحے میں ’’لاکھوں محشر‘‘ کے ٹوٹ پڑنے کا ذکر، داخلی کرب کی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔ ذاتی دکھ جب اس طرح وسیع انسانی تجربے میں تبدیل ہوجائے تو شعر کی معنویت بھی بڑھ جاتی ہے۔
وقت اور موسم ان کی شاعری میں صرف خارجی مظاہر نہیں رہتے بلکہ انسانی کیفیات کے استعارے بن جاتے ہیں،
گزر گیا میکدے کا موسم گزر گیا ہے سبو کا موسم
وہ خلوتوں کا گلاب موسم وہ آرزو کی نمو کا موسم
یہاں موسم دراصل گزرے ہوئے وقت کی علامت ہے۔ خواہش، خلوت اور زندگی کی بعض خوش گوار ساعتیں وقت کے ساتھ پیچھے رہ جاتی ہیں، مگر ان کا احساس انسان کے اندر باقی رہتا ہے۔ اسی طرح ’’رفو کا موسم‘‘ کا استعارہ بھی ان کے شعری تخیل کی خوب صورت مثال ہے،
عبث ہے اب یہ تمنا ان کی کہ زخم سارے رفو کریں گے
یہ چاک دامن سمیٹ لوں اب چلا گیا وہ رفو کا موسم
چاک دامن، زخم اور رفو کا گزر جانا یہاں محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایسے نقصان کی علامت ہے جس کی تلافی کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو۔
ان کی شاعری میں شکست کے ساتھ مزاحمت اور بقا کا احساس بھی نمایاں ہے،
آندھیوں نے آشیانے تو مٹا ڈالا مگر
چند تنکے آشیاں کی داستاں کہتے رہے
یہ شعر ان کی پوری ادبی زندگی کو سمجھنے کے لیے بھی ایک علامت بن سکتا ہے۔ آندھی آشیانہ گرا سکتی ہے مگر اس سے وابستہ داستان کو مٹا نہیں سکتی۔ انسان رخصت ہوجاتا ہے، اس کے لفظ باقی رہتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر تخلیق اپنے قاری تک پہنچتی رہتی ہے۔
ان کے ایک اور شعر میں انسانی ادراک اور حقیقت کے درمیان موجود فاصلہ سامنے آتا ہے،
کارواں نظروں سے اوجھل تھا اور اوجھل ہی رہا
ہم غبارِ کارواں کو کارواں کہتے رہے
’’غبارِ کارواں‘‘ کو ’’کارواں‘‘ سمجھنے کا استعارہ انسانی زندگی کی ان غلط فہمیوں اور محرومیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں انسان حقیقت کے بجائے اس کے آثار کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔
ان کی شاعری میں فطرت کے مناظر بھی داخلی جذبات سے الگ نہیں۔ دھوپ، چاندنی، برسات اور پتوں کے پیکر محض منظر نگاری نہیں کرتے بلکہ یاد اور رفاقت کے احساس کو بھی اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں،
چھن چھن کر پتوں سے دکھائے کیا کیا کلا نرالی دھوپ
بن جائے دھرتی پر کیسی سندر سندر جالی دھوپ
جب تک ساتھ تھا من موہن کا جیون کتنا سہانا تھا
چاندنی جیسے دودھ کی دھاریں جیسے مدھ کی پیالی دھوپ
یہاں خارجی منظر ایک داخلی تجربے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ محبوب کی موجودگی میں دنیا کی خوب صورتی بڑھ جاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں وہی منظر ایک مختلف معنویت اختیار کرلیتا ہے۔
ان کے قطعات میں بھی ذاتی تجربے کو علامتی سطح پر پیش کرنے کی صلاحیت نظر آتی ہے،
ایسی ہی برسات ہوئی تھی جب اپنا گھر بیٹھ گیا
تب سے جب جب بادل دیکھے دل میں اک ڈر بیٹھ گیا
کیسا خستہ کیسا شکستہ اپنی ذات کا ایواں تھا
ابھی ابھی دیوار گری تھی اور ابھی در بیٹھ گیا
گھر کا منہدم ہونا یہاں محض ایک خارجی حادثہ نہیں رہتا بلکہ ’’ذات کے ایواں‘‘ کے شکستہ ہوجانے کی علامت بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور قطعے میں بیرونی برسات اور داخلی پیاس کا تضاد نہایت مؤثر انداز میں سامنے آتا ہے،
بجلی چمکی بادل گرجے چھم چھم چھم برسات ہوئی
دل کی دھرتی اب بھی پیاسی جانے یہ کیا بات ہوئی
روز و شب کے کوہ تراشیں روز کا یہ معمول ہو
مر مر کر اب صبح کریں گے تڑپ تڑپ کر رات ہوئی
باہر پانی برس رہا ہے لیکن دل کی زمین پیاسی ہے۔ یہی تضاد ان کے شعری اظہار میں داخلی محرومی کو نمایاں کرتا ہے۔
سلطانہ مہر کی اہمیت صرف ان کی اپنی تخلیقات تک محدود نہیں۔ ان کی ایک بڑی ادبی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے اہل قلم اور ان کے تخلیقی سفر کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ اسی حوالے سے ’’سخنور‘‘ ان کے ادبی کارناموں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا حصہ 1980ء میں شائع ہوا اور معاصر شعرا کے تعارف و تذکرے کے حوالے سے اہم کام تھا۔ ریختہ کے محفوظ ریکارڈ میں اسے 409 صفحات پر مشتمل تذکرہ اور تنقیدی نوعیت کی کتاب کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
بعد کے حصوں میں انہوں نے اس کام کو مزید وسعت دی۔ دوسرے حصے میں شعرا و شاعرات کے تعارف کا دائرہ بڑھایا گیا جبکہ تیسرے حصے کی اشاعت 1998ء میں ہوئی اور وہ 492 صفحات پر مشتمل تھا۔ ’’سخنور‘‘ کی اہمیت صرف اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس ادبی رویے میں ہے جس کے تحت سلطانہ مہر نے اپنے عہد کے تخلیق کاروں کو یاد رکھنے اور ان کے کام کو آنے والے زمانوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔
اسی مقصد کی توسیع ’’آج کی شاعرات‘‘ میں نظر آتی ہے۔ یہ کتاب خواتین کے شعری اظہار اور ادبی شناخت کو محفوظ کرنے کی قابل قدر کوشش تھی۔ اردو ادب میں خواتین کے تخلیقی سفر کو دستاویزی صورت دینے کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی ہے اور سلطانہ مہر نے اس ضرورت کو اپنے ادبی کام کا حصہ بنایا۔ ’’گفتنی‘‘ کے ذریعے انہوں نے نثر نگاروں کے تذکروں کا سلسلہ بھی آگے بڑھایا۔ اس طرح ان کی تذکرہ نگاری شاعری تک محدود نہیں رہی بلکہ نثر کے اہل قلم تک بھی پھیل گئی۔
ان کی تصانیف کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ ’’داغِ دل‘‘، ’’تاجور‘‘، ’’ایک کرن اجالے کی‘‘ اور ’’جب بسنت رت آئی‘‘ ان کے ناول ہیں؛ ’’بند سیپیاں‘‘ اور ’’دھوپ اور سائبان‘‘ افسانوی مجموعے ہیں؛ ’’اقبال، دور جدید کی آواز‘‘ اور ’’ساحر کا فن اور شخصیت‘‘ ادبی و تنقیدی نوعیت کے کام ہیں جبکہ ’’حرفِ معتبر‘‘ ان کی شاعری کا مجموعہ ہے۔ ’’سخنور‘‘ اور ’’گفتنی‘‘ کے مختلف حصے ان کی تذکرہ نگاری کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کی شاعری میں بچھڑنے، گزرنے اور رہ جانے کے احساسات بار بار سامنے آتے ہیں،
دیکھیں گے کہ کیا لکھتا ہے گلستاں کا محرک
گلچیں کا بیاں اور ہے بلبل کا بیاں اور
اس شعر میں ایک ہی واقعے کی مختلف تعبیرات کی طرف اشارہ ہے۔ گلچیں اور بلبل ایک ہی گلستاں کو دیکھتے ہیں مگر دونوں کی نظر اور احساس مختلف ہے۔ شاید اسی لیے کسی ادیب کی زندگی کو سمجھنے کے لیے اس کے زمانے، اس کے کام اور اس کے تعلقات، تینوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
سلطانہ مہر کی زندگی بھی ایک وسیع جغرافیے اور بدلتے ہوئے زمانوں سے گزری۔ بمبئی سے کراچی اور پھر برطانیہ اور کیلیفورنیا تک ان کے سفر کے جغرافیے بدلتے رہے، مگر اردو زبان سے ان کا رشتہ برقرار رہا۔ انہوں نے مختلف ملکوں اور شہروں میں رہتے ہوئے لکھنا جاری رکھا، کتابیں شائع کیں، اہل قلم سے تعلق قائم رکھا اور اردو ادب کو اپنی زندگی کا مستقل حوالہ بنائے رکھا۔
یہی ان کی ادبی شخصیت کا شاید سب سے اہم پہلو ہے۔ انہوں نے صرف اپنے لیے نہیں لکھا بلکہ دوسروں کے کام کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ ایک شاعر اپنے اشعار چھوڑ جاتا ہے، افسانہ نگار اپنی کہانیاں اور ناول نگار اپنی تخلیقی دنیا؛ لیکن تذکرہ نگار دوسروں کے نام اور کام کو بھی ادبی حافظے کا حصہ بناتا ہے۔ سلطانہ مہر نے یہ اضافی ذمہ داری بھی نبھائی۔ انہوں نے اپنے عہد کے اہل قلم کو پڑھا، ان کے بارے میں لکھا اور انہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
اسی لیے ان کی وفات کو صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ کے انتقال کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کے ساتھ ایک ایسا ادبی مزاج بھی رخصت ہوا جس میں تخلیق کے ساتھ دوسروں کی تخلیقی کاوشوں کی قدر اور حفاظت کا شعور موجود تھا۔ یہ وصف آج کے زمانے میں اور بھی اہم محسوس ہوتا ہے جب ادبی حافظہ تیزی سے مختصر ہوتا جارہا ہے اور بہت سے نام اپنے عہد کے ساتھ ہی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔
سلطانہ مہر کی اپنی شاعری میں بھی بقا کا یہی احساس موجود ہے۔ ان کا شعر ہے،
آندھیوں نے آشیانے تو مٹا ڈالا مگر
چند تنکے آشیاں کی داستاں کہتے رہے
آج یہ شعر ان کی اپنی ادبی زندگی کے حوالے سے بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ ان کا جسمانی وجود ہمارے درمیان نہیں رہا، مگر ان کے چھوڑے ہوئے لفظ، کتابیں اور تذکرے ان کے ادبی سفر کی گواہی دیتے رہیں گے۔ ’’سخنور‘‘ میں محفوظ اہل قلم، ’’گفتنی‘‘ میں درج نثر نگار، ’’آج کی شاعرات‘‘ میں شامل خواتین قلم کار اور ان کی اپنی شاعری، افسانے اور ناول، سب مل کر ان کے کام کی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جسے وقت آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔
برمنگھم اب ان کی زندگی کے آخری ایام اور آخری آرام گاہ کی نسبت سے ان کی یاد کا حصہ بن گیا ہے، مگر ان کا اصل تعلق اس زبان سے تھا جس میں انہوں نے عمر بھر اپنے احساسات اور خیالات کو اظہار دیا۔ اردو کا کوئی قاری جب ’’سخنور‘‘ کا ورق پلٹے گا، ’’حرفِ معتبر‘‘ کا کوئی شعر پڑھے گا یا ان کے کسی افسانے اور ناول سے گزرے گا تو سلطانہ مہر ایک بار پھر لفظوں کے ذریعے ہمارے درمیان موجود ہوں گی۔
موت انسان کو ہم سے جدا کرسکتی ہے، اس کے لفظوں کو نہیں۔ وقت جسم کو مٹا دیتا ہے، تخلیق کو نہیں۔ کسی ادیب کے لیے اس سے بڑی خوش بختی اور کیا ہوگی کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کا کام پڑھا جائے، اس پر گفتگو ہو اور اس کے الفاظ نئی نسلوں تک پہنچیں۔ سلطانہ مہر نے اپنی طویل ادبی زندگی میں اس بقا کا سامان پیدا کردیا ہے۔
ان کے انتقال پر اردو ادب ایک فعال اور کثیرالجہت قلم کار سے محروم ہوگیا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ادب صرف اپنی تخلیق کا نام نہیں بلکہ اپنے عہد کے ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ سلطانہ مہر نے یہ دونوں کام اپنی استطاعت کے مطابق انجام دیے۔ انہوں نے لکھا بھی اور دوسروں کے لکھے ہوئے کو محفوظ بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ادبی سفر ان کی ذات سے آگے بڑھ کر ایک پورے عہد کے ادبی حافظے سے جڑ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ سلطانہ مہر کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی ادبی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے اہل خانہ، احباب اور تمام اہل ادب کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ ان کی جدائی یقیناً اردو دنیا کا نقصان ہے، مگر ان کا ادبی سرمایہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ان کے الفاظ، ان کی کتابیں اور ان کے محفوظ کیے ہوئے نام اس بات کی گواہی دیتے رہیں گے کہ سلطانہ مہر نے اردو ادب کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کیا تھا۔
سلطانہ مہر رخصت ہوگئیں، مگر ان کا ’’مہر‘‘ اردو ادب کے افق پر دیر تک روشن رہے گا۔

امیر مہدی

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY