تازہ تحریر۔ ۲ جون دوہزار چوبیس
پرویز عرف پری
پرویز عرف پری ہیجڑا ، کھسرا یا خواجہ سرا ، آپ اسے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اس نے کونسا غصہ کرنا ہوتا ہے۔ عجیب و غریب بلکہ کسی حد تک خوفناک قسم کا میک اپ اور پھر شوخ رنگوں کے بھڑکیلے لباس میں یہ بڑے سے مردانہ تن و توش کے ساتھ مٹک مٹک کر چلنے کی اداکاری اور پھر اچانک کہیں کسی کونے سے کوئی آوازہ کسا جانا ، جواباً اکثر خاموشی سے اپنی راہ چلتے رہنا مگر کبھی کبھار بپھر کر اپنے دونوں بڑے بڑے ہاتھوں سے تالی بجا کر الٹے ہاتھ کی ہتھیلی سے اگلے پہ ملامت ڈال کر ، پھر ہاتھ نچا نچا کر کہنا “ہائے ہائے دفع دور، مرو وی کِدرے جا کے” پرویز کے متعلق یہ سب کچھ میرے مشاہدے میں تھا۔
اس روز جب وہ میرے گھر آیا تو دراصل یہ مسلسل تیسرا روز تھا اسے میرے گھر آتے اور سچ پوچھیں تو میں اس سے شرمندہ بھی تھا کہ بیچارے نے مجھے جو کام کہہ رکھا تھا وعدہ کرنے کے باوجود ذہن سے نکل گیا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا اور اسے اندر آنے کو کہا تو اڑ کر بولا “نہ وے باو میرا کم کر کے آیاں اے کہ آج وی جواب اے”۔
بیگم چائے بہت اچھی بناتی ہیں تو اندر آ جا، میں تجھے بتاتا ہوں کہ دراصل معاملہ کیا ہوا ہے، میں نے ناراضگی دور کرنے کوشش کرتے ہوئے کہا۔
چلہے وچ پا اپنی چاہ نوں، کڈے مان نال تینوں اک نِکا جئیا کم آکھیا اے پر ساڈے لئی خورے تسی سارے ای اکو جئے او۔ اس نے خفگی سے کہا۔
“تیلی وی کیتا تے رکھی وی کھادی، گرو تے سکھیاں سمجھن لگ پیئاں نے میں تیرے تے عاشق ہو گئی آں، تاں باہنے باہنے تیرے بوہے آونی آں تے تیرے لارے ای نیئں مکن ڈئے”۔ اس نے بھڑک کر مزید اضافہ کیا۔
مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیسے سمجھاؤں۔ بھلا ہو بیگم کا کہ شور سن کر وہ بھی دروازے پہ آئیں اور بولیں “پری آپا سارے گلے شکوے گلی میں ہی کرو گی اندر آ جاؤ جہاں اتنے دن انتظار کیا ایک روز اور کر لو، کل ضرور کریں گے آپ کا کام میں ذمہ داری لیتی ہوں”۔
چلو اب اندر آؤ چائے پیو غصہ ٹھنڈا کرو اور کل یہ تمھارا کام کر کے نہ آئے تو میں وعدہ کرتی ہوں گھر میں داخل نہیں ہونے دوں گی۔ بیگم نے مجھ پر مصنوعی غصہ کر کے اسے مناتے ہوئے کہا تو اس نے بھی یک دم موڈ بدلتے ہوئے ہم دونوں کو دعائیں دی اور کل کام ہونے پر چائے پینے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔
دوسرے دن آفس جاتے ہی سب سے پہلے میں نے چپراسی کو بھیج کر اس کا کام مکمل کروایا اور تمام کاغذات ایک لفافے میں ڈال کر بیگ میں رکھ لئے۔
شام کے وقت جب میں گھر پہنچا تو پرویز کو صحن میں اپنی بے جی کے پاس بیٹھے دیکھا۔ بیگم چائے بنا رہی تھیں کہ میں کام سے لوٹتے ہی چائے کا عادی ہوں ، بے جی کو سلام کیا اور ساتھ بیٹھے پرویز کو مخاطب کر کے کہا، کیسے ہو پرویز میاں؟
“پری کہہ وے باؤ! نیئں تے بے جی نے تیریاں نکے ہندے دیاں تیریاں ساریاں گلاں، تے نال تیرا پٹھا ناں وی مینوں دس دتا اے۔ پرویز شوخی سے مجھے دھمکی دیتے ہوئے بولا جبکہ پاس بیٹھی بے جی اس کی شوخی بھری باتیں سن کر اور اسے دیکھ دیکھ کر شفقت سے مسکرا رہی تھیں۔
مجھے اسے کچھ باتیں سمجھانی تھیں اور وہ کاغذات حوالے کرنے تھے لہذا ہم دونوں وہاں سے اٹھ کر میری لائبریری میں آ گئے۔ کاغذات حوالے کر کے سب سمجھا چکا تو بیگم چائے لے آئیں۔
چائے پیتے ہوئے جب گفتگو کا کوئی موضوع باقی نہ بچا تو میں نے یونہی وقت گزاری کے لئے پوچھا “پری تیرے ماں باپ ہیں؟ “
“ہاہ ہائے توں وی دوجے لوکاں وانگ سانوں بندے نیئں سمجھدا ؟ باؤ میں وی تیری طراں کسے دا کہر جمی ساں ، پیو وچارہ تے میرے ہوش سنبھالن توں پہلاں ای مر گیا سی پر ماں میری وی اینج دی سی ایہ جنج دی تیری اے”۔ پرویز نے اپنی بھاری بھرکم آواز میں نسوانی شوخی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں میرا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھے ہو” میں نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا۔
“وے پتہ اے وے بے سوادیا مخول کیتا اے” اس نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر جواب دیا۔
“کچھ اپنے بارے میں بتاؤ کہ کب سے یہاں ہو کون ہو” میں نے تجسس سے پوچھا۔
چائے رکھ کر وہ سنجیدگی سے کچھ سوچنے لگا۔ کچھ دیر بعد خلا میں تکتے ہوئے خالی خالی لہجے میں بولا “میں تے میری ماں میرے پیو دے مرن توں بعد مامے کول رہندے ساں”۔
“مینوں وی دوجے لوکاں وانگ ایہو شک سی کہ میں پرویز آں پر فیئر مینوں چھما چنگا لگن لگ پیئا تے پہلاں مینوں تے فیر لوکاں نوں پتہ لگ گیا کہ میں پرویز نیئں، میرا تے سچ سی، ایس لئی میرے کول ہور کوئی چارہ نئیں سی، آخدے نے چوٹھ بولیا تے جا سکدا پر چوٹھ جین نئیں ہندا۔
پر لوکاں لئی ایہ بس شغل تماشا سی۔ مامے دی پنڈ وچ بڑی ٹہور سی تے او ایہہ برداشت نئیں سی کر سکدا۔
پر ماں بہشتاں جوگی نوں خورے پہلاں ای پتا سی۔
بس چپ چپیتی رہندی سی تے کدی کدی اکھاں وچ اتھروں لے کے کٹ کے سینے لا لیندی سی۔
پر مینوں کدی اک حرف نہیں سی آکھیا۔ پرویز نے مغموم لہجے میں یہ سب کہا اور چائے کی پیالی کو گھورنے لگا۔
مجھے معلوم تھا کہ اس کی نگاہیں تو اس پیالی پہ ہیں مگر خود شاید اپنے گاؤں میں ، اپنے بچپن میں کہیں گم ہے ، میں نے اس کی خاموشی کے احترام میں اپنے سوال کو اپنے پاس ہی رکھا اور اسے بغور دیکھتا رہا۔
مجھے اس لمحے اس پل اس بھاری تن و توش کا مالک پرویز زنانہ لباس زیب تن کئے یا عورت کا روپ دھارے بالکل بھی عجیب نہ لگا ، مجھے نہ جانے کیوں وہ فطرت کے عین مطابق اور بے قصور لگا ، آج پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں میں بھی اس معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے اس کا قصوروار ہوں ، میں بھی شاید بے حس طبقے میں شامل ہوں جو اسے بالکل غیر سنجیدہ اور غیر ضروری سا سمجھتے ہیں ، میں انہیں خیالات میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک اس کی غمزدہ سی آواز سن کر چونکا۔
“اک دن میں تے چھما لمبڑ داراں دے ٹیوب ویل دی کوٹھڑی وچوں نکلے تے ماسی سیدو نے ویخ کے رولا پا دتا ، کج بندے کٹھے ہو گئے تے سب نے جو منہ آیا آکھیا، میں ڈردی ماری کہر نئیں سی جاندی ، پر کدوں تک ، ادھی رات ویلے جدوں میں کہر گئی تے سارے ستے پئے سن پر ماں جاگن رئی سی ، ہمیشہ دی طراں چپ چپیتی، گیلیاں اکھاں، چہرے تے اداسی۔ اوس رات پہلی وار مینوں اودھے سر وچ کُج چٹے وال وی دسے سن” اتنا کہہ کر پرویز خاموش ہو گیا۔
دو آنسو اس کے کھردرے مگر گہرے میک اپ سے اٹے گالوں پر سے پھسلتے ہوئے اس کی جھولی میں گرے ، اس نے اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کی اور بےچینی سے اپنی انگوٹھی کو گھمانے لگا۔میں اب بھی اسے ٹوکنا نہیں چاہتا تھا سو چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔
قدرے سنبھل کر پرویز نے سلسلہ کلام کچھ اس طرح سے جوڑا “میں دو گراہ روٹی کھادی تے ماں میرے کول بہہ گئی، میرے سر تے پیار نال ہتھ پھیر کے بولی ، پرویز پتر ، تیرا ایتھے رہنا ٹھیک نئیں ، کوئی تینوں نہیں سمجھدا پتر ، ایہہ لے کج پیسے تے توں کل سویرے کدرے ٹر جا پتر ، ایتھوں دور پتر ، ایتھوں اینا دور کہ کسے نوں تیری خبر نہ ہووے، ماں نے مچوڑی بنے کج پیسے میری چہولی چ رکھ کے میرا متھا چمیا تے منجی تے جا لیٹی”۔
کچھ دیر پھر خلا میں گھورنے کے بعد پرویز بولا “ساری رات نیندر نہ آئی، رات منجی تے پاسے ماردیاں میں وی فیصلہ کر لئیا، سویرے ہالی سارے ستے سن تے میں اٹھ کے چار کپڑے لئے، پواندی بہہ کے اپنی ماں دے پیر چمے ، تے وڈی سڑک تک پشاں مڑ کے نئیں ویکھیا، وڈی سڑک توں بس پھڑی تے شہر آ گئی”۔
کچھ دیر خاموش رہ کر پھر قدرے شوخی سے پرویز بولا “بس! ایتھے اپنے ورگے مل گئے، فیر گرو نے سر تے ہتھ رکھ لیا تے میں وی سب لیکھ دا لکھیا جان کے قبول کر لئیا”۔
ہجرت کی یہ قسم میرے لئے بالکل نئی تھی، میرا ذہن شاید اس کرب اور مجبوری کا احاطہ کرنے سے قاصر تھا میں نے محض گفتگو جاری رکھنے کے لئے کہا پھر کبھی اپنے گاؤں اپنی ماں سے ملنے نہیں گئے؟
اس سوال سے پرویز بیچارہ ایک بار پھر سے مغموم سا ہو گیا ، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا، مل آلے حاجی صاب دے کہر پوترا ہویا تے میں بہت نچی، حاجی صاب نے سب دے سامنے جدوں آکھیا منگ او پری کی منگنا ای، تے میں ہتھ جوڑ کے آکھیا میرے نال میرے پنڈ چلو تے اک واری مینوں میری ماں نال ملا دیو، بس اوہناں نے حامی بھری تے وعدہ پورا کیتا ، دس باراں بندے لے کے اسی سارے پنڈ گئے ، سب کج بدل چکیا اے، پنڈ تے پورا شہر بن گیا اے۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
ماں ملی؟ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
“نئیں ملی وے باؤ ، نئیں ملی ، مامے نے دسیا کہ اوہ دکھاں دی ماری تے اوس رات جدوں پیر چمے سن ، میرے کہر چھڈن توں پہلاں جہان ای چھڈ گئی سی”۔
پرویز نے بلک بلک کر روتے ہوئے کہا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کتاب زیست۔
میں نے جو اپنی زندگی کی کتاب لکھی ہے اب وہ مجھ سے پڑھی نہیں جاتی اور میرے دل کی دھڑکنیں تھک رہی ہیں ۔۔میں نہیں جانتا ہوں کہ اتنی طویل مسافت کے بعد میں کہاں پر ہوں-
جو میرے بعد آئے تھے وہ مجھ سے آگے ہیں اور کچھ تو میرے قدموں پہ قدم رکھ کے چل رہے ہیں مگر پھر بھی مجھ سے آگے ہیں اور یہ کتنا عجیب ہے- کبھی بونا ہونے اور کبھی سرو ہونے،کبھی زندہ اور کبھی مردہ ہونے کی کیفیات سے نکلنے کے بعد میں کہاں پر ہوں؟
بارسلونا میں بارش ہورہی ہے اور ایک درمیانہ جسم اور اونچے مزاج کا شخص جو شام کے بعد گھر سے باہر وقت نہیں گزار سکتا اپنے بچوں کو سلا کر آدھی رات کو اپنےکمرے میں آکر بیٹھا ہے- اندر کے درد اور ہیٹر کی تپش سے اُس نے اپنی جیکٹ اتار دی ہے اور سگریٹ کا پیکٹ نکال کر جیب سے ایک سُگریٹ سلُگاتا ہے لمبا کش لیتا ہے اور دُھواں فضا میں چھوڑتا ہے – جرمن کتوں کی جوڑی اُس کے پیروں میں سوگئی ہے-اور وہ سامنے لگے بورڈ پہ نظریں جمائے بیٹھا ہے ۔۔
بورڈ پہ مختلف رنگوں کی پرچیاں لگی ہوئی ہیں اور اُن پہ اُسکی پسند یا ضرورت کے جملے لکھے ہوئے ہیں- اور ایک نارنجی رنگ کی پرچی پہ میرا جملہ لکھا ہوا ہے۔۔
میں نہیں جانتا ہوں کہ میں کہاں پر ہوں مگر اتنا کہ میں بارسلونا کے ایک چاردیواری میں نہ جانے کب سے جانے کب تک سانس لے رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب اٹھائی اور لائبریری کے ایک کونے میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے لگا۔
میں اس وقت ایک کائنات کے دروازے پہ موجود تھا۔ میرے سامنے نقش نگار سے مزین گہرے رنگ کا لکڑی سے بنا ہوا بھاری بھر کم دروازہ تھا میں نے مسرت و تجسس کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بائیں ہاتھ سے ایک کواڑ پہ زور ڈالا تو آہستگی کے ساتھ بنا آواز پیدا کئے کھلتا چلا گیا۔ اندر کا ماحول میری توقع سے بڑھ کر تھا۔ اس کائنات میں وقت کی کوئی قید تھی نہ شخصیات کو موت ، مایا تہذیب سے لیکر عرب بہار تک سب کچھ میرے سامنے تھا ، شخصیات میں فیثا غورث سے لیکر اسٹیفن ہاکنگ اور کارل مارکس ، ڈارون ، گلیلیو ، برونو ، سقراط ، بقراط ، افلاطون ، آدم ، نوح ، ابراہیم ، نمرود ، شداد ، شیطان بلکہ زیورس ، متھرا ، کرشنا حتی کہ ہٹلر اور نپولین تک موجود تھے۔ کسی کو موت نہ تھی جس سے چاہو ملو جس تہذیب میں جانا چاہو جاؤ۔ میرے ایک جاننے والے مایا تہذیب میں گھوم رہے تھے تو ایک صاحب کو دوسری جنگ عظیم میں موجود پایا۔ میں اس جہان کی حیرتوں کے سحر میں گم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ایک کونے کی جانب بڑھا جہاں مجھے سید علی عباس جلالپوری سے ملنا تھا ان کے سامنے دو زانو ہو کر انسان اور کائنات پہ تاریخی تناظر میں ان کی رائے لینی تھی۔
چنانچہ خاموشی سے الماری سے علامہ صاحب کی “انسان اور کائنات” کے عنوان سے لکھی کتاب اٹھائی اور لائبریری کے ایک کونے میں بیٹھ کر مطالعہ کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے براہمن سُن
تمہارا خیال تمہیں کہتا ہے کہ تم حسیں محلوں کے خواب دیکھا کرو۔ جن میں ساز و سامان کی فنکاری کے بہتریں نمونہ ہو اور اس محل کے پردے الف الیلوی تاروں سے بُنے گئے ہوں
میرا تخیل مجھے کہتا ہے میری روح اور میرا جسم اتنا پاکیزہ ہونا چاہیے کہ مجھے یہ بھی پروا نہ رہے کہ اپنا سر کس کی گود میں رکھ کر سو جاؤں
اگر کوی تھا تو شائد میرے اکیلے پن کا رویہ اُس کا کھا گیا
کاش وہ بھی سمجھ جاۓ کے تنہائ مھجے بچپن سے ملی میرے ساتھ جوان ہوی ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہی
میں کیسے اُس کو چھوڑ دو
کاش وہ سمجھ جاۓ اور میری تنہائ کو قتل کردے میں بھی سب کے درمیان بیٹھ کر ہنسنا چاھتا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کی کال
ہمیں اسی دُنیا میں ملنا ہو گا مھجے نہیں انتظار کرنا
جب بہار کا موسم نہ ہو اور پھول کھل اُٹھے گلاب اپنی چمک اور خُوشبو کے ساتھ ہواؤں میں اپنے ہونے کا آحساس دلاۓ ہر کوی اُس طرف متوجہ ہو جاۓ جب دور کوئل کہی مُنڈیر پر بیٹھ کر اپنی آواز کا جادو چلاۓ جب فاختہ ایک کھلے آسمان پر اُڑے آزادی کے ساتھ کبھی ادھر کبھی اُدھر
جب نیلے گُنبد کے کبوتر واپس آ جاۓ اپنے آشیانوں میں اُن کی آوازیں آے وہ اپنی نشیلی چال سے کبھی ادھر کبھی اُدھر جب کوی کبوتری پاؤں میں جھاجڑ چھلکاتی مست چال چُلے جب خرگوش باغیچے میں بنا کسی خوف کے کھیل کود میں مصروف ہو جاۓ
دور کہی تان سین اپنے سُروں کا جادو بکھیر رہا ہو
تم مستی میں چل رہی ہو اور ایک ہوا کا جھونکا آکر تیری زُلف کو چھیڑ جاۓ بخدا وہ میں نہیں تھا باد صبا تھی
ہاتھ ٹوٹیں گر میرے جو چھیڑی زُلفیں آپ کی
بخدا وہ میں نہیں تھا وہ باد صبا تھی
تمہیں ہلکے سے کچھ یاد آۓ تو بھاگ کا اپنی پُرانی کتاب میں رکھے وہ پھول یاد آ جاۓ جو کبھی ہمارے درمیان رشتہ جوڑے رکھتے تھے تم وہ کتاب لپک کر جلدی سے کھولوں اور آج بھی اُن پھولوں کی مہک تمہاری رُوخ میں اُتر جاۓ ایک وجدان کا عالم طاری ہو جاۓ تمہیں یاد آ جایا گا وہ اس بنجارا تھا جو ہر موسم میں بارش میں نہاتا تھا بارش تو آج بھی ہو رہی ہے اور ہمارے درمیان صرف فاصلے ہی ہے پھر تم سوچ کر لب کشائ کرو گی نہیں
ہمیں ملنا ہے ہر صورت میں ملنا ہے ہمیں مزید انتظار نہیں کرنا کہ
جب آسمان پر سات رنگوں کی قوس قزا بنے
جب سمندروں کا پانی پھر نیل گو ہو جاۓ
آخر اسی عالم میں تم جلدی سے بھاگ کر فون پر لپک کر میرا نمبر تلاش کرو اور دیوانگی کا عالم یہ ہو کہ تم اپنے بال بھی نوچوں اور میرا نمبر نہ ملے اسی عالم
میں بے سر پاہ تم میری تلاش میں نکل پڑو ہر رسم رواج کو ٹُھکرا کر
تب تم مجھ کو دل سے کال کرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دوستوں میں بھی تم جیسا ہی ہو
میں بھی آپ کی طرح کا انسان ہو مھجے میرے رب نے پر دیے ہے اُڑنے کے لیے مھجے دماغ دیا خیالات اور خواب حقیقت میں فرق دیکھو ناکہ سُنی ہوی باتوں کو اپنے اوپر لاگو کرو اور خود بنا کسی جستجو تلاش کے بغیر اپنے اردگرد ایک مصنوعی اور جہالت کی دیوار بنا لو جہاں سے کبھی حقیقت کی روشنی نہ آ سکے
خدا ایک انتہا کا نام ہے جس تک پہنچ پانا نا ممکن
محسوس ہوتا ہے ۔
خدا کے متعلق سوچنا یا اس پر یقین کرنا کٹھن ہے
اس کا موجود ہونا یا نا ہونا بھی ممکن ہے
لیکن میری زندگی کسی خدا سے نہیں بلکہ کائنات سے منسلک ہے,
میں نہیں جانتا کہ
خدا اِس کائینات میں ہے یا اس سے باہر
لیکن خدا زندہ ہے اور زمانہء قدیم سے لے کر آج تک دائم ہے
بقول میرے خدا صرف انہی لوگوں کے لیے اہم ہے جنہیں خدا کی ضرورت ہے
خدا کی ضرورت تو مجھے بھی درپیش ہے,
لیکن زندگی گزارنے کے لیے نہیں بلکہ
کائنات کی تشریح کے لیے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں باپ کے نام ایک خط
میں تھک گیا ہو زندگی اور جُدائ سہہ سہہ کر جھوٹی ہنسی ہس ہس کراب حقیقت سے اتنی دور نکل گیا ہر چیز بہ معنی کیا رشتہ کیا خون ڈر گیا ہو میں مھجے اب تو سینہ سے لگا لو یقین جانو جب میں بچھڑا تھا تم سے اُس وقت بھی رویا تھا کیونکہ میں بہت چھوٹا تھا تین چار سال بھی کوی عمر ہوتی میرے بہن بھای مجھ سے دور ہورہے تھے میرا بچپن ایک آندھے کنویں میں گِرنے لگا تھا میرا سب کچھ ختم ہونے لگا تھا میں ایک پیاری جیل میں تاعمر قید ہونے لگا تھا میں جانتا ہو میرے باپ کہ آپ کو بھای کا بہت دکھ تھا اس لیے آپ نے اولاد بانٹ دی لیکن کبھی سوچا تھا کہ قران کریم میں واضع فرما دیا گیا ہے کہ منہ بولے رشتوں کی کوی قدر نہیں ؟ میں ساری زندگی اکیلے پن سے جُڑ گیا سب سے دور ہوتا گیا پاکستان آتا تو آپ سب مجھ کو مہمان سمجھتے کبھی اپنے دوسرے بچوں کی طرح مجھ پر نچھاوڑ نا ہوۓ آپ سب کو اپنا بلند و بالا سٹیٹس مبارک میں زندگی کا بنجارا بنتا گیا اتنا دور ہوتا گیا جہاں سے واپسی نہیں اب میں اکیلا دنیا میں خود کو تلاش کرنے میں مصروف ہوگیا اپنا گھر بنایا وہ بھی جل کر راکھ ہوگیا میں پھر سے چاردیواری اور دن کی روشنی میں رزق کا متلاشی ہوگیا میں جانتا ہو اس وقت رات کے تین بج رہے ہے اور میں سرد ترین ہواؤں میں سمندر کنارے بیٹھا آپ سے گفتگو کر رہا ہو یہ ہمیشہ کا اکیلا پن تنہائ کیوں مھجے ہی ملی مھجے اتنا یاد ہے بس میرے ہونے یا نا ہونے سے اس دُنیا کو کوی فرق نہیں پڑے گا اگر کسی کو کچھ فرق پڑے گا یا یاد آئیں گی تو بس
سیاہ راتوں کو اور میری تنہائ روئیں گی کہ آج وہ چھوٹا سا بچہ چلا گیا ہمیں چھوڑ گیا جو مضبوط حد سے زیادہ تھا مگر تنہائ میں وہ۔ چھوٹا سا بچہ تھا جو سوتے ہوۓ ڈر جاتا تھا پھر اس ڈر سے سوتا ہی نہیں تھا میں بھی سونا چاھتا ہو میں زخموں سے چُور چُور ہو مھجے نہیں یاد کہ ماں کا پیار کیا ہے اور باپ کی عظمت کیا ہے جانتا ہو آپ کی اور بھی اولاد ہے وہ آج بھی سب اکھٹے ہے آخر میں ہی کیوں جُدا ہوا
میں بھی تو آپ لوگوں کا حصہ تھا
اور زندگی بھر یتیموں مسکینوں والی زندگی گزار رہا ہو مانا کے دیکھنے میں بہت خوشخال ہو رب تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہے لیکن کبھی میرا اکیلا پن دیکھا آپ اکثر ڈانٹتے تھے کہ تم سوتے نہیں لیکن کبھی پوچھا کیوں نہیں سوتے ؟
میں اکیلا سوتے ڈرتا ہو بھلا تین سال کا بچہ اکیلا کمرہ میں سو سکتا ہے میں تب کا ڈرا سہما سا بچہ ہو آج بھی
میں آپ کو کبھی اگلے جہاں میں بھی نہیں ملو گا کیونکہ اس جہاں میں آپ نے مھجے جُدا کیا اگلے جہاں میں خود اکیلا رہو گا کیونکہ اکیلا پن تنہائ میرے اندر میری رگ رگ میں رچ چکی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ادھوری زندگی
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے نہ جنت دیکھی ہے نہ ماں دیکھی ہے
دنیا میں کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جن کا مداوا وقت بھی نہیں کرسکتا اور تاحیات دلوں میں تازہ رہتے ہیں ایسا ہی ایک غم ماں سے جدائی کا ہے
جس کو نا دیکھا نا محسوس کیا نا کچھ یاد کہ ماں ایسی ہوتی ہے ویسی ہوتی ہے
پھر قسمت کی ستم ظریفی کہ سوتیلا پن اور وہ بھی بہن بھائیوں اور باپ سے دور بہت دور آنکھوں کے منظر سے کہی دور سوتیلا پن اڑے آگیا
وہ بچہ اتنا ہی دور بھاگ گیا سب سے کہ ہمیشہ کے لیے تنہا رہنا سیکھ گیا حتی کہ اپنے آپ سے بھی الگ تھلگ دنیا اُس کو قسمت کا دھنی کہتی شہزادوں کی طرح جیتا لیکن کسی نے کبھی یہ نہ دیکھا
کہ اُس کے گلے میں جو زنجیر ہے بیشک سونے کی ہے پنجرہ ہیرے جواہرات سے سجا ہے
سب نے میرے قہقے سُنے ہے
کیا کسی نے میری خاموش سسکیاں بھی سُنی🙃
لیکن کسی نے اُس کی تڑپ نہیں دیکھی کسی نے یہ تو کہہ دیا اس کی آنکھیں کالی ہوگی کسی نے یہ نہیں پوچھا سوتے کیوں نہیں کسی نے کہا بہت سہمے سہمے رہتے ہو کسی نے یہ نہیں پوچھا ڈرتے کیوں ہو سوتے وقت کسی نے یہ تو کہا تم بہت بڑے گھرانے کہ چشم و چراغ ہو لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا تم سب کو چھوڑ کر دور بئت ہی دور بھاگ کیوں گے ہو کسی نے یہ تو کہا تم پر قسمت کا ناز ہے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے تین سال سے محنت شروع کی کسی نے یہ تو کہا تم ہر بات کو ہنسی مزاق میں اُڑا دیتے ہو کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ غم سہتے سہتے
غموں سے لاپرواہ کیوں ہوگے ہو
کسی نے یہ تو کہا تم دنیا گھومنے کے لیے پیدا ہوۓ ہو کسی نے یہ نہیں پوچھا کس سے بھاگ رہے ہو
کسی نے یہ تو کہا گھر رہا کرو لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا تمہارا گھر بھی ہے کہی
یا زندگی کے بنجارے ہو
اے زندگی تجھ سے بھی شکایتیں بہت ہیں
سنبھل جا ورنہ تجھے بھی چھوڑ جاؤں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہ جاتی ہے بس یادیں
جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جو گُزری ہے بہت ہی احساس بھری پیاری سی راتوں میں رات تھی جو رات کسی کی یاد میں گزر جاۓ جو آپ کی سانس کے ساتھ منسلک ہو تو کیا کہنے
اکثر میری زندگی مجھ کو کچھ نا کچھ سمجھاتی سناتی رہتی ہے وقفہ وقفہ سے اُن کا یہ گیان میرے لیے کسی سرمایہ حیات سے کم نہیں ہوتا مگر ہم دونوں بھی ایک دوسرے کے بنا ادھورے ہی ہوتے ہے
مھجے یاد ہے ایک شام جب ہم بوسٹن میں تھے تو موسم کی ادائیں پورے جوبن پر تھی باھر نہیں نکل سکتے تھے برف کی چادر ہر طرف بکھر رہی تھی
تو میں نے ایک کتاب کو پڑھنا مناسب سمجھا وقت بھی تھا اپنی کبار کی طرف گیا کواڑ کھولی تو چڑ چڑاہٹ کی آواز سی آی محسوس کیا کافی دیر بعد جو آیا ہو اپنی کباڑ کے پاس تو سامنے اپنے قریبی دوست بیٹھے ملے ڈاکٹر عرفان کہنے لگے یار مغل کافی دنوں سے کتاب تم کو بھیجی تھی اُس کو پڑھو چلو شاباش جلدی پھر اُس کو پبلش بھی کروانا ہے ابھی چار جلد موجود ہے
سوچا آج وقت ہے وقت چلو پڑھتے ہے
روزن کتاب ؟
میں مشغول ہوگیا پڑھنے میں کچھ دیر بعد میری شریک سفر میرے پاس آئ جس چیز سے اُن کو سخت نفرت ہے وہی چیز اُٹھا لائ
سگریٹ کی ڈبیا لائٹر اور ایشٹرے شکریہ کہا مسکرائ اور چلی گی پھر کچھ وقت گُزرا تو محترمہ آئ دو کافی کے مگ ہاتھ میں گرما گرم بیٹھ میرے
پاس ہی بیٹھ گی تھوڑی دیر گُزری تو جو موٹی چادر میں نے اپنے اوپر لی ہوئ تھی وہ بلکل ایک چھوٹی بچی کی طرح اُس چادر میں گھس گی وقت گُزرا تو ایسے لگا جیسے وہ ہلکے ہلکے خراٹیں لے رہی ہے میں مُسکرا پڑا اور سوچا کہ کتنی بے فکر ہوکر سو گی ہے اور گہری نیند اعتماد بے فکری ایسے ہی خیال آیا مَن پسند عورت کو شریک حیات بنائیں ،مگر دھیان رہے اگر کتابوں سے محبت ہے تو شریک حیات بھی ایسی لائیں تو جو کتابوں میں دلچسپی رکھتی ہو،ورنہ انکی عدم دلچسپی آپکا کتابوں سمیت ڈبو دے گی












