چار اپریل کی سنگین رات ایک بار پھر آیٔ اور۲بج کر ۴ منٹ پر ایک ایسے شخص کو اپنے ساتھ لے گئی جو اپنی بشری کمزوریوں کے باوجود ایک کھراا ور سچا انسان تھا۔وہ جو لاکھوں کی تعداد میں اس کے جلسوں میں شریک ہوتے تھے ، گلا پھاڑ پھاڑ کر اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ اس کے سامنے بھنگڑے ڈالتے تھے اور وہ بھی جو اس کی بدولت گھر بیٹھے بیٹھے سرکاری افسر بن گئے، ۴ اپریل کی رات کو دو بجے خراٹے مار رہے تھے اور وہ اکیلا کمر کے پیچھے بندھے ہاتھوں کے ساتھ تختۂ دار کی طرف جا رہا تھا۔ اس لمحے کا انتظار صرف امریکہ یا ضیا الحق کو ہی نہیں تھا ۔ اس کے حواری بھی کونوں کھدروں میں دُبک کر اسی ساعت بد کے منتظر تھے، کیوںکہ وہ قائدِ اعظم کے پاکستان پر پھیلنے والی کالی رات پر اپنی قسمت کے ستارے چمکتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔بھٹو کی موت کا انتظار اپنو ں بیگانوں سب کو ہی تھا، کویٔ بھی اس کی زندگی نہیں چاہتا تھا۔ کسی کو بھی اس کی زندگی سے کویٔ دلچسپی نہیں تھی اس لئے کہ جس معاشرے کو بھٹو اپنے فلسفے اور نظریے سے بدلنا چاہتا تھا وہ بدلنے کو تیار ہے نہیں تھا۔ایک زوال آمادہ سماج کی اولین نشانی یہی ہے کہ وہ اسی کی ٹانگیں کھینچ لیتا ہے جو اسے دلدل سے نکالنا چاہتا ہے یا نکالنے کا جتن کرتا ہے۔اس کے جلسوں میں انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا ہؤا سمندر اس کے خلاف چلنے والی تحریک میں شامل ہو چکا تھا اور اسے روزانہ کی بنیاد پرتازہ خون فراہم کرکے بھٹو کے احسانوں کا بدلہ چکا رہا تھا۔لوگ یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ جس ملآ کے پیچھے لگ کر وہ بھٹو کے دشمن بن گئے ہیں وہ اسی چوہدری اور وڈیرے اور مل مالک کا بغل بچہ ہے جس کے قدموں سے اٹھا کر بھٹو نے اُنہیں اسکے سامنے لا کھڑا کیاتھا۔شاید یہ عزتِ نفس انہیں وقت سے پہلے مل گیٔ تھی اس لئے صدیوں سے ملاُ منارکی الائینس کی چکی میں پسنے والے لوگ بھٹو کے دیے ہوئے خود داری اور عزتِ نفس کے تحفے کے متحمل نہ ہو سکے۔ اصغر خاں کے گنُ گانے والا لائیلپور کا پروفیسر ریاض مجید بھٹو مخالف جلوس میں شرکت کرنے کے بعد آکر جب بھٹو کو برا بھلا کہتا تھا تو میں اسکے پڑھے لکھے شاعر دماغ کو کوستا تھا۔ مگر ایک ریاض مجید اور انور محمود خالد ہی پر کیا موقوف۔ اس دورِ تیرگی میں اپنے اپنے مفادات کے لئے کیا کند ذہن اور کیا ذہین و فتین ، سبھی بھٹو مخالف چولا پہنے پھر رہے تھے۔ ایک ہی صف میں کھڑے تھے وہاں محمود و ایاز۔بندہ و صا حب و محتاج وغنی، سبھی ایک ہو گئے تھے۔میں آزاد میڈیا کا شکر گزار ہوں کہ آج بتیس سال کے بعد میں اس ویڈیو کا دیکھ پایا ہوں جس میں ایک لاغر سا انسان کفن پہنے ہوئے ایک ٹوٹی ہویٔ چارپایٔ پر لیٹا ـٔاپنی تجہیز کا منتظر ہے۔ اس کو اس حال تک پہنچانے والے کیا جانیں
اپنی لحد کا منتظر ہے۔ اس کو اس حال تک پہنچانے والے نہیں جانتے تھے کہ سر میں سودا رکھنے والے اپنے جنوں کی قیمت بھی چکانا جانتے ہیں۔ایسا نہیںکہ بھٹو کے لیے رونے والا کویٔ نہ تھا لیاقت باغ میں بھٹو کی نمازِ جنازہ کا اعلان ہو چکا تھا، پروفیسر مرتضیٰ زیدی لا ہور سے آیا ہوا تھا ہم دونوں نماز میں شرکت کے لئے لیاقت باغ پہنچے، وہاں عجیب سا خوف ایک منحوس سکوت کی صورت میں چارو طرف پھیلا ہوأ تھا ۔ لگتا تھا بریگیڈیر لطیف ابھی آئے گا اور کوڑے مارتا ہوأ سبھی کو وہاں سے لے جائے گا۔ پی پی پی کے لیڈر دور دور تک نظر نہ آئے۔بہرحال چند سو لوگوں نے نمازِ جنازہ ادا کی۔ کوتاہ قامتوں میں گھرے ہوئے اس کے ساتھی بس یہی چند ایک تھے۔یا پھر وہ چندعورتیں جو ریڈیو پر بی بی سی پروگرام سن رہی تھیں اور پروگرام میں بھٹو کی آواز سن کر یوں گریہ کرنے لگیں جیسے کہ وہ کربلا والوں کی مجلسِ شامِ غریباں میں بیٹھی ہوں ۔ اس کی موت کے بعد اس کو مارنے والوں کے بارے میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ، وہ تو واقعی دل ہلا دینے والے ہیں لیکن اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ بھٹوکے دو ر میں ایک ایس ایچ او میں اتنی جرأت تھی کہ وہ وزیرِاعظم کے خلاف قتل کی ایف آیٔ آر درج کر سکتا تھااور احمد رضا ْ قصوری اس کی نقل برونِ ملک بھجوا سکتا تھا۔ کیا بھٹو سے پہلے اور بھٹو کے بعد یہ عجوبہ ممکن تھا اور ہے؟۔ بھٹو کے ناقد کبھی اس امر پر بھی غور کریں۔ آجکل قصوری صاحب لوگوں کو ایک اور فکری مغالطے میں الجھا رہے ہیں کہ بھٹو کو پھانسی تو چار ججوں نے دی تھی لیکن ان کی نظرِثانی کی اپیل ساتوں ججوں نے مسترد کر دی تھی اس لئے سزا پر عمل درآمد ہؤا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں ساتوں جج پھانسی پر رضامند ہو گئے تھے ، اصل مین جن تین ججوں نے بھٹو کو بے گناہ قراردیا تھا ان کا موقف یہ تھا کہ ہم اس نقطہ پر متفق ہیں کہ بھٹو بے گناہ ہے اس لئے اس موقف پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔ نظر ثانی کی اپیل تو ان چار ججوں کے سامنے تھی جن کا حال یہ تھا کہ؛
بعد میں بڑے سکوں سے سنے دلائل بھی
اس منصف نے پہلے سزا سنا دی تھی
جو ایک بار طے کرچکے تھے کہ اسے مارنا ہے وہ بھلا کیا نظرثانی کرتے۔ یہ بات تو اپیل کرنے والوں کے سوچنے کی تھی کہ کن کے سامنے اپیل کرکے بھٹو کو رسوا کرنے جارہے ہو۔ بہر حال بتیس سال بعد بھی حضرتِ قصوری قوم کی رہنمایٔ غکط سمت میں کرنے کی بجائے یہ اعتراف کر لیتے کہ بنیادی طور پر وہ ایک غصیلے آدمی ہیں اور اپنی صلاحیت سے زیادہ شہرت اور مقام و مرتبے کے آرزومند رہے ہیں اسلئے وہ ایف آیٔ آر والی حرکت کر بیٹھے اور بعد میں اسٹیبلیشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ اس ضمن میں ایک پست قامت آپ جیسے طویل قامت سے بازی لے گیا۔آدمی کے بارے میں استاد ذوقؔ کہتے ہیں :پست ہمت یہ نہ ہووے پست قامت ہو تو ہو۔












