کسی کے گھر جانے کے آداب۔۔۔ شمس جیلانی

0
1408

ہمارے یہاں یہ عام بات ہے کہ ہر ایک یہ کہتا ہے کہ مذہب کا بندے کی ذاتی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ اس کی وجہ لوگوں کی ناواقفیت ہے کہ اسلام دین ہے صرف مذہب نہیں ہے۔باقی جو دنیا میں مذاہب رائج ہیں وہ صرف اور صرف مذاہب ہیں؟ ان دونوں میں فرق یہ ہے کے جو مذاہب ہیں وہ عبادات تک محدود ہیں ان کا بندے کی دنیاوی مصروفیات سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ جو چاہیں کریں اور جس طرح چاہیں وہ جئیں آذاد ہیں۔جبکہ اسلام دین ہونے کی وجہ سے بندے کی پوری طرز زندگی اورطریقہ حیات پرنفاذ چاہتا ہے۔لہذاہرمسلمان کو کوشش کرتے رہنا ہے کہ جہاں بھی رہے کوشش کرتا رہے کہ جہاں تک ہوسکے وہ اسلا می قوانیں پرعمل کرنے کی کوشش کرے،جہاں نہیں کرسکے وہاں مجبوری ہے۔اور جب تک وہ مجبوری رہے گی اس وقت تک مومن اس سے مستثنیٰ ہے؟ جیسے ہی وہ مجبوری دور ہوگی استثنیٰ ختم ہوجا ئے گا۔جیسے کہ اگر پانی میسر نہ ہو تو تیمم کرنا کافی ہے۔یا جب تک حلال کھانا میسر نہ ہوتو جان بچانے کے لئے حرام بھی کھایا جاسکتا ہے؟لیکن اتنا جس سے کے جان بچے؟یہ رازصرف بندے اور اللہ کے درمیان ہے کہ مجبوری کب آئی اور کب رفع ہوئی کوئی تیسرا نہیں جانتا؟۔ ایک بات یاد رکھیں کہ جولوگ غیر ملکوں میں رہ رہے وہاں وہ مجبور ہیں کہ پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہوسکیں گے؟ وہاں کے مقامی قوانین کو ہر حال میں تر جیح دینا پڑے گی؟ آپ جس ملک کو بھی ہجرت کریں اس کے قوانین کا جائزہ لیکر اچھی طرح سوچ لیں؟ پھر وہاں جا ئیں؟اب آپکو میں یہ بتانا چاہونگا۔آپ جو کام اللہ کی مرضی کے مطابق کریں گے اس کا ثواب ہوگا وہ آپ کے کھاتے میں لکھا جائے؟جو اس کے سوا ہوگا اس کا کوئی ثواب نہیں ہوگا؟ اس کا دارمدار اس پر ہے کہ آپ کی نیت کیا تھی اللہ کو خوش کرنا تھا یا بندوں کو؟ کیونکہ اسلام نے زندگی کا کوئی شبہ ہدایت کے بغیر نہیں چھوڑا جس کے لئے ہدایت نہ دی ہو اس میں معمولی باتوں سے لیکر طرز حکومت صلح اور جنگ سب شامل ہیں وہ یا تو قرآن میں ہے یا حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ میں ہے جس کے لیئے سورہ الاحزاب کی آیت 21 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے نبی ﷺکا اسوہ حسنہ تمہارے لئے نمونہ ہے۔اوراسی نوعیت کی بہت سی آیتیں ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت فرمایا ہے۔ اس تمہید کے بعد میں سورہ نور کی آیت نمبر27سے29تک کااردو ترجمہ، تفسیراور تبصرہ پیش کرنے جارہا ہوں جس میں کسی کے گھر جانے کے آداب ہیں اگر آپ کسی یہاں جاتے ہوئے اس کا خیال رکھیں تو ثواب کے مستحق ہونگے؟ نہیں کریں گے تواپنا نقصان کریں گے اس لیئے کہ ثواب سے محروم رہیں گے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اوروں کے گھروں میں مت جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لیلو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام کرویہ ہی تمہارے بہتری ہے تاکہ نصیحت حاصل کرو۔اگروہاں تمہیں کوئی بھی نہ ملے تو بھی پروانگی (اجازت) ملے بغیر اندر نہ جاؤ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تولوٹ جاؤ۔یہ ہی بات زیادہ ستھرائی والی ہے جو کچھ تم کرہے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔ ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا اسباب ہو تو جانے میں کوئی گناہ نہیں ہے تم جو کچھ ظاہر کر رتے ہواور جو چھپاتے ہوسب اللہ جانتا ہے۔ اس پر عمل فر ماکر حضورﷺ نے دکھایاوہ میں آگے پیش کرتا ہو؟
ایک مرتبہ حضوررﷺانصار ؓکے سردار حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے اور تین مرتبہ سلام کہا! حضرت عبادہ ؓ نے تینوں دفعہ جواب تو دیا مگر اتنی آہستہ آواز میں جو حضورﷺتک نہیں پہنچ رہی تھی۔تیسری آواز دینے کے بعد جب حضوﷺ جواب سے محروم رہے تو واپس ہونے لگے۔ تب حضرت سعد ؓ دوڑتے ہوئے پہنچے اور عرض کیا حضورﷺ تشریف لے چلیں میں نے جان بوجھ کر اپنی آواز اتنی دھیمی رکھی جو آپ تک نہیں پہنچ رہی تھی۔میں یہ چاہ رہاتھا آپ سے زیادہ سے زیادہ سلام کی شکل میں دعالوں؟ جس میں کامیاب رہا۔حضوﷺ نے اس کا بالکل برا نہیں ماناان کے ہمراہ خوشی خوشی تشریف لے گئے اور انہوں نے انﷺ سامنے کشمش لاکر پیش کی جو حضور ﷺ نے تناول فرمائی جب چلے تو فرمایا خوش ہوجاؤ سعد(رض) تمہارے کشمش سے نیک لوگوں نے روزہ کھولا اور آسمان پر فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں۔ یہ تھا وہ عملی سبق جو حضورﷺ نے انہیں پڑھایا کہ سلام تین دفعہ کرو، اگر اجازت نہ ملے تو واپس چلے جا ؤ۔اس دوران صاحبِ خانہِ پیچھے دوڑا آئے تو بھی برا مت مانواسکے ساتھ خوشی خوشی چلے جاؤ ورنہ لوٹ جاؤ۔ (جسے آج کے دورمیں محذب دنیا نے اپنایا ہوا جیسے کہ تین گھنٹیوں کے بعدٹیلیفون بند کردو وغیرہ)اسی سلسلہ میں ایک دوسری روایت بھی ملتی ہے کہ جب حضورﷺ سلام کر رہے تھے اس وقت ان کے صاحب زادے حضر ت قیسؓ بھی موجود تھے انہوں نے حضرت سعدؓ کہا بھی کہ حضورﷺ سلام کر رہے ہیں آپ جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں! تو حضرت سعد ؓ نے ان سے کہاتم چپ رہو ابھی حضور ﷺ دوبارہ سلام کریں گے (میں چاہتا ہو ں سلام کی شکل میں ان سے بار بار دعا سنوں)؟ اور آگے یہ بھی ہے کے حضورﷺ نے یہاں آکر غسل فرمایاحضرت سعدؓ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی چادر پیش کی جو حضورﷺ نےزیب ِ تن کرلی پھر ہاتھ اٹھاکر حضرت سعد(رض) کے لیئے دعا فرما ئی اے اللہ!سعد بن عبادہ ؓ کی آل پر درود اور رحمت نازل فرماپھر حضورﷺ نے وہیں کھانا تناول فرمایا۔اور جب واپس جانے کا ارادہ فرمایا تو وہ گدھے پرپالان کس کر لے آئے اور حضورﷺ کو پیش کیااور اپنے صاحبزادے قیسؓ سے کہا کہ تم حضورﷺ ساتھ ساتھ جا ؤ،مگرجب حضورﷺ نے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ سوارہو جاؤ تو انہوں نے کہا مجھ سے ایسا نہیں ہوسکتاتو حضورﷺ فرمایا پھر تم واپس چلے جاؤ۔حضرت قیس نے واپس جانا منظور کرلیا اور واپس چلے گئے۔ آخری آیت کاحکم یہ ہے کہ کوئی ایسا مکان جو ویران پڑا ہو یا سرائے کے طور پر استعمال ہوتا ہو یا گودام کے طور پر استعمال ہوتا ہو اس کے اندر جانے کے لئیے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو تھی ان آیات کی تفسیر۔اس کے علاوہ حضورﷺ نے کچھ اور بھی ہدایت سلسلہ میں دوسری جگہ دیں ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی گھر کے دروازے کے سامنے مت کھڑے ہوکرسلام کرو۔ ایک طرف کھڑے ہوکرسلام کرو۔ جواب نہ آئے تو جھانکو مت مت چپ چاپ واپس چلے جاؤ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اپنے پورے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY