لندن میں تئیس ستمبر دوہزار سترہ اتوار کے روز سید عشرت حسین کے گھر پر شام میں سالانہ مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا جسمیں زیادہ تر نوجوانوں نے شرکت کی۔ یہ سالانہ مجلس سید عشرت حیسن کے دونوں بیٹوں کی رسم سقائی کے موقع پر منعقد ہوتی ہے
اس سال اس مجلس عزا سے شاعر،ادیب اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے خطاب کیا اور مرثیہ نو تصنیف پیش کیا۔

مجلس عزا میں سہیل چوہان سمیت دیگر مختلف سوز خوانوں نے سوز،سلام اورنوحہ پڑھا جس کے بعد صفدر ھمدانی نے سوگواران حسین سے خطاب کرتے ہوئے علم حاصل کرنے اور ذکر حسین کو بزنس اور تجارت سے باہر نکالنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ گھروں کی مجالس کو کم تر نہ سمجھا جائے کہ علی کی شید دل بیٹی سیدہ زینب نے ان مجالس کی ابتدا ایک کمرے سے ہی کی تھی
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برس سے منبر کو ذاتی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جارہا ہےاور اس منبر سے اسوہ اہلبیت اور علوم اہلبیت کا ذکر بہت کم ہورہا ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زر دیا کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کی آمیزش سے مجالس پڑھنے کی کوشش کریں۔
اسکے بعد انہوں نے انقلاب کے عنوان سے نوتصنیف مرثیہ در شہادت حضرت عون و محمد پڑھا

مجلس کے اختتام پر نوحہ و ماتم ہوا اور جس کے بعد نیاز امام حسین تقسیم کی گئی۔
عالمی اخبار ملٹی میڈیا













