جیو اور جینے دو ۔ طاہرہ مسعود

0
1226

آج کا زمانہ بھی عجیب مرنجانِ مرنج ہے۔ ہر طرح کی ترقی کے ساتھ ساتھ تنزل بھی ہو رہا ہے۔ انسان شاید نقطہء آغاز یعنی معدوم ہونے کی طرف گھوم رہا ہے۔ تنزل ا سطرح سے کہ فی زمانہ اخلاقی گراوٹ اور ماحول کی آلودگی کے باعث روحانی ا ور جسمانی قیامتیں دونوں ہی متوقع ہیں۔

شروع میں جب انسان نے تہذیب سے ناتا جوڑ ا تو اس نے لکھنا پڑھنا سیکھا اور رائج کیا۔ کتابیں وجود میں آئیں۔ ہوتے ہوتے دنیا واِذالصُحُفُ نُشِرت کا مصداق بن گئی ۔ یہ بڑی بڑی جنّاتی سائز کی لائبریری اور کتب خانے بنائے گئے۔ لیکن آج۔۔۔۔ کتاب پہ انحطاط ہے۔ اپنی تمام تر ضرورت کے باوجود یہ اپنی اہمیت کھو رہی ہےاب تصاویر کی طرح کتابوں کی بھی ہارڈ کاپی کا ملنا کم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح کتابیں پڑھنے کا رواج کم تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ کیونکہ کتاب کو سکرین نگلتی جارہی ہے۔ ٹیلی ویژن سے بڑھ کر اب کمپیوٹر لیپ ٹاپ اور ٹچ سکرین فونز کو جاتا ہے۔ فون کی صورت میں دنیا مٹھی میں آچکی ہے۔ فون جامِ جہان نما بن گیا ہے۔۔ اب اکثر کتابیں انٹرنیٹ پر بھی مل جاتی ہیں۔ آئی پوڈ آئی پیڈ وغیرہ پر پڑھی جا سکی ہیں۔ اسی طرح ڈرامے، سٹ کامز اور فلموں نے شاید ناولوں کی جگہ لے لی ہے۔ شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ یہ معجزہ ہے کہ ابھی کتاب موجود ہے اور لوگ ا س کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ ایک اچھا طبقہ کتاب پڑھتا ہے۔

آج ہماری نئی نسل مغربی اکابرین اور مفکرین سے متاثر ہے کینوکہ انہوں نے زندگی میں جتنی لطیف جدتیں اور نئی نئی ایجادات کی ہین سب انہی کی بدولت ہیں۔ ہمارے اکابرین نے صرف احساسِ برتری جگا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم سُست ہو گئے ہیں ۔ جبکہ ہمارے اسلاف کی اعلیٰ اقدار کو ہم اگر عصرِ حاجر کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو ائندہ آنےو ا؛ی نسلوں کے مجودوں کے جد امجد بن سکتے ہیں۔ ہمیں کسی نہ کسی طرح نئی نسل کو بھی کتاب کی طرف لانا اور ان کے ذہن سے احساسِ کم تری کا رنگ اتار کر اپنی اعلیٰ اقدارسے روشناس کروانے کا عزم اور اعادہ کرنا ہو گا جو کہ فی زمانہ جہاد سے کم نہیں۔ ہمیں یہ کام کسی قسم کی عقائد کی تفریق یا علاقائی تفریق یالسانی تفریق کے محض ا نسانیت کے نام پہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل اور نوجوانوں ہم عصروں کو عدم برداشت کی عادت کو بدلنا ہو گا۔ افہام وتفہیم کی ترغیب دینا ہوگی۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرےکی دل سےعزت کرناسکھانا ہو گا۔
ہمارے ماضی کے کچھ بڑے ا ور نامور ادیبوں نے بڑی نیک نیّتی سے مسلمانوں میں یکجہتی کی روح اور جذبہ پھونک کر ان کو یکجا کرنا چاہا ۔ مسلمانوں کو یکجا کرنے کے لیے انہوں انقلابی ناول اور کتابیں لکھیں ۔ انہوں نے ان کو کچھ ا س طرح اکٹھا کیا کہ باطل پر چھا جاؤ۔ انکا قلع قمع کر دو۔ تم خیرامت ہو۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ مسلمان اللہ کےاس احسان پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ۔ اور اپنی نقل و حرکت اور حرکات پر بھی نظر رکھتے انہوں نے خود کو اللہ کا چنیدہ اور دودھ کا دھلا سمجھ لیا ۔ باقی دنیا ان کے لیے کافراور قریب قریب حشرات الارض تھی۔ اس طرح اندر ہی اندر تفاخر تکبر میں بدل گیا۔ باطل سے نفرت کرتے کرتے ہم لوگ اپنوں سے بھی نفرت کرنے لگے۔پھر ہو ایہ کہ باطل سے تو کم ہی بر سرپیکار ہوئے ۔ ہم لوگ اپنوں سے دست و گریبان ہوتے چلے گئے۔ اس میں مشاہیر کاقصور نہیں۔ شاید ان کو اندازہ نہ تھا کہ اس سے قوم کیا نتیجہ اخذ کرے گی۔

مومن لڑے ہردم

جیسے نغموں پہ ہم جھومتے رہے۔ یہ سوچے بناکہ یہ تو اپنے نفس کی ؒرائیکا عندیہ ہے۔ نہ کہ گلی محلوں میں سر پھٹول کا۔ماضی کے بزرگ لکھنے والے ادیب اپنی جگہ ٹھیک تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو متحد کرنا چاہاتھا۔کیونکہ مسلمان اپنی سادگی  اور امن پسندی کی وجہ سے پس رہے تھے۔ پھر ان میں قدامت پسندی کا رجحان بھی تھا۔ جس کی وجہ سے نئے علوم کی نئی جہتوں سے اجتناب کو مذہب کے حکم کا درجہ دے کر ریسرچ اور حصولِ علم کی طرف توجہ نہیں دی گئی تھی۔

تاریخِ انسانی میں طاقتور قومیں کمزور قوموں کو بزرو شمشیر فتح کرتی تھیں۔ اور اکثر جنگ وجدال ہوتے رہتے۔ قومیں قوموں کا شکار ہو جاتی تھیں ۔ جس کو پیش نظر رکھ کر ہمارے کچھ علماء نے چاہا کہ مسلمان قوم کو بھی جنگجو بنادیں اور ایسی شجاعت کی روح ان میں پھونک دیں کہ آئندہ ان کو کوئی محکوم نہ کرسکے۔ مگر اب کے باطل نے کائیاں پلٹنی کھائی اور حرب کی جگہ ا س نے طرب سے وار کیا اور جنگ جیت گیا۔ مغربی اقوام نے سکرین میڈیا کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو اپنے سحر میں لے لیا ہے۔ اب دشمن دلوں کے ذریعے دماغوں تک پہنچ رہا ہے۔ہماری نئی نسل کی آنکھٰن بدل رہی ہں نظریں پلٹ رہی ہیں۔

آج دنیا کی کوئی قوم اس رو سے نہیں بچ رہی۔ کوئی بھی قوم اپنی خالص اقدار کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اور نہ ہی کسی کے پاس خالص ہدایات ہیں۔سوائے مسلمانوں کے۔ لیکن مسلمان اس تعلیم کی غلط تفہیمات کر کے اپنے ہی گردگنجل ڈال کر بیٹھے ہیں۔ اٹھتے ہیں تو پھر منہ کے ہی بل گرجاتے ہیں۔

کسی مغربی مفکر کا قول ہے کہ کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اس کے جوانوں کو رنگین مزاج بنادو۔ تو بعینیہٖ یہی انہوں نے کیا ۔ نئی نسل تو ان کی بھی محفوظ نہیں لیکن ان کے ادارے ابھی تک ترقی کے خطوط پر قدم مار رہے ہیں۔ بڑے بڑے فنڈز صحیح جگہ ایمانداری سے لگائے جاتے ہیں۔

دوسری طرف ہم نے حرب ہی سیکھی تھی اس لیے وہی کر سکے۔ کوئی اور نہ ملا تو اپنوں کے گلے ہی کاٹنے لگے۔ آج ہر مسلمان ایک دوہری تہری زندگی جی رہا ہے۔ ایک مذہبی اور وعظ کے زیر اثر دوسری ماحول سے متاثر اور تیسری میڈیائی زندگی۔ انسان چوں چوں کا مربہ بن رہا ہے ۔ ا سکا حل اعتدال، ایمانداری محنت ا ور برداشت میں ہے۔

دل کے پھپھولے پھوٹ رہے تھے۔ سو لکھ ڈالا۔آپ کی بصارتوں کی نذر۔

جیو اور جینے دو ۔ رہے نام اللہ کا

طاہرہ مسعود

SHARE

LEAVE A REPLY