ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 46

1
2354

چھ جون کی صبح‌ ہو چکی تھی ۔۔ پھر چھ بھی بج گئے ۔۔ایمیلیا کے ساتھ میں نے ناشتہ کیا ۔۔ دوا کھائی اور صوفے پر بیٹھی موبائل دیکھ رہی تھی کہ میری دوست فریحہ کامیسج آیا ہوا تھا کہ وہ مجھ سے ہوسپٹل جاتے ہوئے صرف چند منٹوں کے لئے ملنا چاہتی ہے ۔۔

فریحہ میری بہت پیاری دوست تھی ۔ ہم دونوں ایک ہی ہوسپٹل میں کام کرتے تھے ۔ وہ ایجوکیشن کے شعبے میں‌تھی اور میں وارڈ‌میں‌ ہوتی تھی ۔ چار سال قبل اسے فور گریڈ‌ کا بریسٹ‌کینسر ہوا تھا ۔ اور اس نے سب سے پہلے مجھے بتایا تھا ۔۔ مجھ یاد ہے کہ میں رو رہی تھی وہ ہنس رہی تھی ۔۔اور کہہ رہی تھی یار ہم بڑے لوگ ہیں ہمیں چھوٹی موٹی بیماری سے کیا لینا دینا ۔۔ اس نے کینسر کے دو سال بہت بہت ازیت میں‌گزارے تھے ۔۔ دو دفعہ آپریشن ، کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی ۔۔ اس کی تکلیف مجھے ازیت دیتی تھی لیکن کینسر کا سفر تنہا ہی کرنا پڑتا ہے ۔ ۔۔ کوئی کتنی تسلی بن سکتا ہے ۔۔ کتنی دیر ساتھ بیٹھ سکتا ہے ۔۔ جو اگر کوئی بیٹھ بھی جائے تو آپ خود کسی کو اپنی کتنی تکلیف بتا سکتے ہیں ۔۔ اس ازیت کا ادراک بھی مشکل تھا ۔

انسان جیسے بھربھری مٹی کی طرح‌ ڈھے جاتا ہے ۔۔ فریحہ اس سفر سے گزر چکی تھی جس پر میں‌چل رہی تھی ۔۔ مجھے معلوم ہے اس کے اپنے زخم ہرے بھرے ہوگئے ہونگے ۔۔ کیسی کہہ دیتی کہ نہ آؤ‌ ۔۔ میں‌نے اسے لکھ دیاکہ میں ساڑھے دس بجے گھر سے ہوسپٹل کے لئے نکل جاؤنگی ۔۔ وہ اس سے پہلے کسی وقت بھی آجائے ۔۔۔ لیکن فریحہ ساڑھے سات بجے ہی آگئی ۔

ایمیلیا کا ناشتےکے بعد سونے کا وقت ہو چلا تھا۔۔منیب اور جیسیکا اسے لے کر گرینی فلیٹ‌ جا چکے تھے ۔۔ فریحہ اور میں برآمدے میں‌ رکھے جھولے پر ہی بیٹھ گئے ۔۔ فریحہ کہہ رہی تھی ۔۔ نگہت کینسر کا سفر بہت مشکل ہے ۔۔ حوصلہ رکھنا ہے ۔۔ جہاں گرنا ہے وہاں سے اٹھنا بھی ہے ۔۔ میں‌تمہیں یہ کہنے آئی ہوں میں اس سفر پر تمہارے ساتھ ہوں‌ ۔۔ خود کو کبھی اکیلا مت سمجھنا ۔۔ میں تمہارے گھر کےسارے کام کرونگی لیکن تم نے صرف آرام کرنا ہے ۔۔ کھانا بھی میں ہی بنا دونگی ۔۔ تم نے بس اپنی صحت کی طرف ساری توجہ رکھنی ہے ۔۔جیسا جیسا ڈاکٹر کہیں‌ بس ویسا ویسا کرتی جانا ۔۔ سب اچھا ہوگا ۔۔ پھر ہم کینسر کی سالگرہ منایا کریں گے ۔۔ مجھے دیکھو ڈاکٹر نے پانچ سال کا کہا تھا ۔۔ چار گزر گئے ہیں ۔۔تمہارے سامنے ہوں ۔۔ بلکل ٹھیک ٹھاک پہلے جیسی ۔۔ بھاگتی دوڑتی فریحہ ۔۔ ہم دونوں‌ہنس رہے تھے ۔۔

فریحہ کہہ رہی تھی ۔۔ نگہت کینسر کا سفر بہت مشکل ہے

اور یہ بھی کہنے آئی تھی کہ کینسر کا امتحان کسی جہاد سے کم نہیں ہے ۔۔ تم کفن باندھے آپریشن تھیٹر جاؤگی ۔۔ اور پھر کیا ہوگا کسی کو خبر نہیں ۔۔ تم جانتی ہوں اس وقت تم اللہ پاک کے سب سے قریب ہو ۔۔ تم بیمار ہو اسکی شفقت اور نظر سب سے زیادہ تم پر ہے ۔۔۔ تمہاری کوئی بات وہ رد کر ہی نہیں ‌سکتا ۔۔ میں تم سے درخواست کرنے آئی ہوں کہ میری صحت اور زندگی کے لئے دعا کرنا ۔۔ میرے گھر والوں کے لئے ۔۔سب کو صحت سلامتی عطا ہو ۔۔ فریحہ کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔
بالکل کرونگی دعا ۔۔ اور دھیان سے کرونگی ۔۔تم اچھی ہو جاوگی ۔۔
یار ابھی ہم نے بہت ساری خوشیاں دیکھنی ہیں ۔۔ میری بات پر فریحہ نے کچھ نہیں کہا ۔۔
مجھے گلے لگا کر خدا حافظ‌کہہ کرچلی گئی ۔۔ میں جھولے پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ میری سوچ کے پر لمبی پرواز کے لئے کھل رہے تھے ۔۔

میں جہاد پر جا رہی تھی یا اپنی ڈیوٹی پر جا رہی تھی ۔۔۔ سب ایک جیسا ہی تو تھا ۔

امی جی (محترمہ رقیہ بیگم جو ابا جی سے عقد کے بعد رقیہ نسیم کہلایئں) نے اپنے زندگی کے آخری سات سال بہت تکلیف میں گزارے ۔ جوڑوں کے درد نے پہلے ان کا چلنا پھرنا مشکل کیا پھر انہیں بستر پر لا بٹھایا۔ انہوں نے ابا جی سے ایک دوبار گلہ کیا تھا ۔۔کہا تھا “ ساری دنیا کو ٹھیک کرتے ہیں میرا علاج نہیں کرتے “ ۔ ابا جی مسکرا دیتے اور فرماتے یہی آپ کا علاج ہے ۔ جسے سن کر امی جی تو بہل گیئں لیکن مجھے اچھا نہ لگا۔ میرے اندر کا میڈیکل سایئنسدان ،

Spritual Scinctist

سے الجھ جاتا۔ میرا جی کرتا میں اپنی ماں کو ٹانگیں نہیں پنکھ لگا دوں اور وہ جہاں چاہے چل کر نہیں اڑ کر پہنچ جایا کریں ۔ لیکن کچھ بھی ایسا نہ ہو پایا ۔

ابا جی رح اکثر فرمایا کرتے کہ “ انہیں بہت کچھ معلوم ہوتا ہے لیکن انہیں رد عمل کی اجازت نہیں اور یہی ان کی عبادت ہے “ ۔ اللہ پاک کی کائینات کے رازوں پر اس وقت تک خاموشی رہتی ہے جب تک اللہ پاک خود آشکار نہ کرنا چاہے ۔۔ہائے ایسی خاموشی ہم کم علموں‌ کی آزمائش ہی تو ہے ۔ میڈیکل سائیسندان بھی تو یہی کرتے ہیں ۔۔ خاموشی ، غورو فکر اور وقت آنے پر ایجادات کا اعلان کرتے ہیں ۔۔

بیماری اور دوا کا رشتہ ۔۔۔ بیماری اور دعا کا رشتہ ۔ ابا جی نے کتنی خاموشی سے مجھے یہ بات سمجھائی تھی ۔

لیکن میرے دل کا درد اور سوا ہو گیا جب امی جی 30 نومبر 2014 کو اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گیئں ۔ ابا جی رح ان دنوں کراچی میں تھے اور عارضہ قلب میں ہوسپٹل میں زیر علاج تھے ۔ ہم سب بہن بھائی اس جدائی کو سہہ نہ پا رہے تھے ۔۔۔ ابا جی جیسے ہی روبہ صحت ہوئے لندن تشریف لائے ۔۔ ہم سب ایک مظبوط قلعے میں آگئے تھے ۔ ڈھارس نے جیسے ابا جی کا سراپا اوڑھ لیا تھا ۔ گویا ہم سب نے پھر سے جینا سیکھ لیا تھا ۔

ایک دن ہم سب بیٹھے امی جی کی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔رات ہو چلی تھی سب اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ۔۔۔ میں انہی کے پاس بیٹھی رہی کہ میرا کمرہ ان کے ساتھ والا ہی تھا۔ میں نے بہت دکھ سے کہا “ امی جی نے بہت تکلیف اٹھائی “ ۔۔۔ ابا جی نے بڑی حیرت سے مجھے دیکھا جیسے انہیں مجھ سے اس بات کی توقع نہ ہو ۔ پھر فرمایا
“ بیٹی انہوں نے تکلیف نہیں اٹھائی بلکہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کی اور چلی گیئں “ ۔
ڈیوٹی ۔۔ بیماری ۔۔ میرے چہرے پر الجھن در آئی تھی ۔۔ جبھی تو ابا جی مسکرا دیئے تھے ۔
بیٹی ہم سب دنیا میں اپنی ڈیوٹی کرنے آتے ہیں ۔ کچھ لوگ بہک جاتے ہیں دنیا کی بھول بھلیوں میں کھو کر اپنی راہیں کھوٹی کر لیتے ہیں ۔
او۔۔۔ کچھ ایمانداری سے پوری کر کے چلے جاتے ہیں ۔
کوئی بھی بیماری ہو وہ جسم اور روح کی بہت بڑی آزمائش ہے ۔۔۔ کڑی ڈیوٹی ہے ۔
علاج کے ساتھ ساتھ اللہ پاک پر یہ یقین رکھنا کہ شفا دینے والا وہ ہے ۔۔زندگی میں برکت دینے والا بھی وہی ہے اور جب کچھ بھی نہ دے تب بھی وہ ہے اور اس کی رضا ہے ۔ ۔۔ڈیوٹی ہے ۔۔۔ بس تمہاری ماں اپنی ڈیوٹی ایمانداری کے ساتھ کر کے چلی گیئں ۔

مجھے یاد آیا ۔۔۔ سات سال کے شروع میں ایک دو بار جو امی جی نےابا جی رح سے شکوہ کیا تھا اس کے بعد ہم نے کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں سنی تھی ۔۔۔ پر ان کو یقین تھا کہ ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہی ٹھیک ہے ۔
ہم اپنی ماں کے اس یقین کو نہیں سمجھ سکے تھے لیکن ابا جی رح جان چکے تھے ۔۔۔
اور بھلا ۔۔۔۔ کیسے نہ جانتے وہ

Spritual Scinctist

جو تھے ۔

اب میری باری تھی ۔۔ میرے سامنے ڈیوٹی ۔۔ بیماری ۔۔ ایک نیا باب کھلا رکھا تھا ۔۔ اور مجھے سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترنا تھا۔۔۔ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کرنی تھی ۔

ساڑھے دس بج چکے تھے ۔۔ گاڑیاں‌آگے پیچھے جانے کے لیئے تیار کھڑی تھیں ۔۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. اللہ پاک تمہارا سفر آسان فرمائے اور استقامت دے۔ اس کی رحمت ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے اور ہم سب کی دلی دعائیں ۔ تم غازی بن کر اعتمادی ی سلامت رہو گی انشاءاللہ

LEAVE A REPLY