وارثان جنت الفردوس؟۔۔۔ شمس جیلانی

0
1230

یہ سورہ مومنون کی ابتدائی گیارہ آیتیں ہیں جن میں وارثان جنت الفردوس کی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی ہے؟ جس کی ابتداپہلی آیت سے ہوتی ہے۔کہ ً یقیناً ایمانداروں نے نجات پالی ً جن کو نجات کی خوشخبری دی جارہی ان کے خواص کیا ہونا چاہیئے وہ آگے بیان ہورہے ہیں ان کا اردو ترجمہ اور تفسیر ہم پیش کررہے جو ہم نے تفسیر ِ ابن ِکثیر سے لی ہے “جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں ً“یعنی جب وہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو پوری طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہوں ایسا نہیں کہ بظاہر تو نماز پڑھ رہے ہیں مگر دماغ دوسری طرف ہے۔ یا لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز بڑھ رہیں؟ چونکہ اس میں غیر اللہ کا عنصر شامل ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسی نماز قبولیت کا درجہ نہیں پاتی ہیں سب ضائع ہورہی ہے نہ یہاں اس کے اثرات بندے پر مرتب ہورہے ہیں جو نماز پیدا کرتی ہے یعنی متقی بنانا۔نہ ہی روز قیامت ایسے لوگوں کو وہاں کوئی اس کا فائدہ ہو گا بلکہ ان کے اعمالنامے سادے کے سادے ملیں گے؟
دوسری صفت یہاں بیان ہورہی ہے کہ “ جو لغو بات سے منہ موڑ لیتے ہیں ً“ اس کو سمجھنے کے لئے سورہ والعصرکا ترجمہ اور تفسیر پڑھ لیجئے۔ جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ وقت کی قسم کھاکر فرمارہا ہے کہ وہ خسارے میں ہے جس نے ان کاموں کے سوا اور کاموں میں اپنا وقت خرچ کیاوہ کام کیا ہیں؟ کہ اول تو وہ ایمان لاکر پورا پورا اسلام میں داخل ہوجائے یعنی نیک کام کرے برائیوں سے دور رہے؟ پھر نیک کام کی دوسروں کو تلقین کرے اور اپنے اندر صبر یعنی قوت ِ برداشت پیدا کرے۔ان کاموں کے علاوہ جہاں کہیں بھی وقت ضائع کریگا جیسے کہ کھیل کود ناچ گانے لوگوں غیبت عیب جوئی وغیرہ وہ خسارے میں رہے گا۔
تیسرے وہ لوگ ہیں“ جو زکات ادا کرنے والے ہیں“یعنی کہ رزق ِحلال کماتے ہیں اور اپنی گاڑھی کمائی سے خود بھی کھاتے ہیں بیوی بچوں ماں باپ وغیرہ پر بھی خرچ کرتے ہیں اورجو کہ ایک حدیث کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ پھرسال کے بعد جو بچت ہوتی اسلام کی مقررکردہ شرع پر ضرورت مندوں پر خرچ کر تے ہیں۔ نہ لوگو ں کو جتاتے اور دکھاتے پھرتے ہیں نہ فوٹو سیشن کراتے ہیں جوکہ آجکل فیشن بن چکا ہے؟ ایک حدیث کے مطابق یہاں تک ہے کہ اگر وہ سیدھے ہاتھ سے دیں تو الٹے ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہو تی ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے اگر اس کے برعکس کریں گے تو حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا؟ً
چوتھے وہ ہیں جوکہ“ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ صرف ان کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتے ہیں جو ان کی بیویاں یا لونڈیاں ہیں یقیناً یہ قابلِ ملامت نہیں ہیں ان کے سوا جواور کچھ ڈھونڈیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “ یہاں وہ آیت سامنے آجاتی ہے جس میں حکم ہے کہ مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور خواتین اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ورنہ آنکھوں کے زنا کے مرتکب ہونگے؟اگر اتفاقاً کسی پرنظر پڑ جا ئے تو فوراً دوسری طرف کرلیں گھوریں نہیں ورنہ زنا بالعین کے مرتکب ہونگے؟
پانچویں “اپنی امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں“ وہ نہیں! جن کے پاس امانتیں رکھیں اور وہ کھا جا ئیں یا وعدہ کریں تو پھر جا ئیں یہ ایک حدیث میں منافقت میں آتا ہے؟ چھٹی صفت یہ ہے کہ ً اپنی نمازوں کی نگہبانی کرنے والے ً یعنی با قاعدگی سے پانچوں وقت کی نمازیں پڑھنے والے ان کو قضا نہ ہونے دینے والے۔اگر کوئی نماز قضا ہو بھی جا ئے تو وقت ملتے ہی پہلے اس کو ادا کریں پھر اسکے بعد کی نماز ادا کریں اس میں کسالی نہ برتیں بشمول نماز ہر نیک کام میں جلدی کریں؟ اس لیئے کہ شیطان ہر قدم پر آپ کی تاک میں لگا رہتا ہے وہ طرح طرح کے وسوسہ دل میں لائے گا اس کو ہر گز بہکانے کا موقع نہ دیں؟ یہ نہیں کہ نمازپڑھی پڑھی نہ پڑھی ہم نے بہت سی محافل میں یہ دیکھا ہے کہ نماز کو موخر کردیا جا تا ہے کہ محفل عروج پر ہے خراب ہوجا ئیگی ؟بجا ئے نماز موخر کرنے کہ بہتر یہ ہے کہ محافل ایسے وقت پر رکھئیے جو نماز کا ۔ وقت نہ ہو۔ہم نے تو بہت سے اللہ والوں کی محافل میں یہ بھی دیکھا ہے کہ نماز کو موخر کردیا جا تا ہے کہ محفل عروج پر ہے خراب ہوجا ئیگی بجا ئے ادا کرنے کہ؟ بہتر یہ ہے کہ محافل ایسے وقت پر رکھے جائیں جو نماز کا وقت نہ ہو۔ یہاں حضور ﷺ کی ایک حدیث موجود ہے کہ مسلمان اور کافر میں فرق یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا کافر نہیں پڑھتا اورحدیث یہ بھی ہے قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال ہوگا دوسرے ہم نے خواتین کو دیکھا ہے کہ وہ کھانا لگانے کے وقت بالکل پروا نہیں کرتی ہیں اور عین نماز کے وقت کھانا لگاناشروع کردیتی ہیں؟ ایسے موقعوں پربہت سے لوگ عذر پیش کرتے دیکھے اور سنے گئے ہیں کہ اگر نماز کاوقت ہو تو بھی کھانا پہلے کھانا چاہیئے؟ جبکہ ان کو میزبانوں کو منع کرنا چا ہیئے کہ نماز کاوقت ہے ابھی کھانا لگانا شروع نہ کریں؟ جو ان تمام شرائط پر پورے اتر تے ہیں ان کے لئے یہ آیت ہے کہ۔“ہی وارث ہیں۔جو فردوس کے وارث ہونگے جس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ تھی اس سورت کی ابتدا اور آیت نمبر 115 سے ڈانٹ پھٹکارشرو ع ہوتی ہے ان لوگوں کو جو نا عاقبت اندیش تھے عاقبت پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ جو یقین رکھتے تھے ان کا بھی مذاق اڑاتے تھے وہ اس دن دہائی دیں گے کہ اللہ تو رحیم ہے تو کریم ہمیں معاف کر ہم ہی ظالم تھے اللہ سبحانہ تعالیٰ بات سننے سے انکار فرمادے گا آیت نمبر117 یہ ہے کہ کافروں کیلیئے جہنم سے نجات نہیں ہے اور آخری آیت 118 میں حضورﷺ کو ہدایت ہے کہ آپ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب تو بخشش اور رحم کراور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے والا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کے برے انجام سے بچائے (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY