قسط 99
دین اسلام
قیام کے لحاظ سے محمدی ہے
اور بقا کے اعتبار سے حسینی ہے
یہ سچ روز روشن جیسا ہے
کہ
نام حسین علیہ السلام
ہر دور میں حق و نجات کا نور، اسلام کا پیامبر ہے
امام حسین علیہ اسلام کی حقانیت کی
اس سے بڑي
اور دلیل کیا ہوگی
کہ
صاحب تاج ومعراج ، وبراق ،شافع روز محشر نے فرمایا
کہ
اگر حسین نہ ہوتا تو
میرا نسب نہ ہوتا اور اگر میں نہ ہوتا تو حسین کا نسب نہ ہوتا
حسین مجھہ سے
اور میں حسین سے ہوں
امام حسین علیہ السلام نے
زندگی و حیات، موت و شہادت، دنیا و آخرت
عزت و شرافت، ذلت و عظمت، آزادی و اسیری
شکست و فتح، طاقت و قدرت، سعادت و سیادت
اور حق و باطل کے مفاہیم کو حقیقی معانی عطا کئے
اور اپنے
عمل و کردار سے
ان کو تاریخ میں ہمیشہ کیلئے ثبت کر دیا
امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین حالات میں بھی
یہ بتایا
کہ
زندگی اور حیات میں کیا فرق ہے ؟
یہ عملا سمجھایا
کہ
سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کیسے کی جائے
فرمایا
کہ
“ظلم اور ظالموں کے ساتھ زندگی ننگ و عار ہے”
یعنی
زندگی کا حقیقی مفہوم عزت و شرافت کے ساتھ آزاد رہنا ہے
امام حسین علیہ السلام
اس ظاہری زندگی کو موت سے تعبیر کرتے ہیں
جو
ظلم کی حمایت اور ظالموں کے خلاف قیام سے عاری ہو
امام حسین علیہ السلام عزت و منزلت کو
ظاہری اقتدار اور دنیوی طاقت میں محدود نہیں سمجھتے
بلکہ
آزادی و حریت کو عزت و منزلت سمجھتے ہیں
آپ عالی مقام کے ہاں
شکست و فتح کا تصور بھی یکسر مختلف ہے
آپ انسانوں کے لشکروں اور فوجی ساز و سامان کے ذریعے
فتح حاصل کرنے کو
کامیابی نہیں سمجھتے
بلکہ
آپ قلب و ذہن کو شکست دے کر
اور ان میں موجود
باطل نظریات کو ختم کر کے
ضمیر اور وجدان کی بیداری کو فتح اور کامیابی سمجھتے ہیں
آپ عالی مقام کے ہاں
آزادی اور اسیری کا مطلب
انسانی بدن کی آزادی یا اسکا قید و بند میں ہونا نہیں ہے
بلکہ
آپ قلب و نظر کی آزادی
اور
حریت فکر کو حقیقی آزادی قرار دیتے ہیں
جبکہ
ظاہری طور پر آزاد ہونے کے باوجود
فکری اور نظریاتی طور پر خودمختار نہ ہونے کو اسیری سے تعبیر کرتے ہیں
آپ عالی مقام ع نے
کربلا کے میدان میں
فتح و شکست اور عزت و شرافت کے جو معیار مقرر کئے ہیں
اور اس کے
جو حقیقی مظاہر سامنے لائے ہیں
اس سے
باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے
کہ
امام حسین علیہ السلام نے
کربلا میں یزید اور یزیدیت کو ایسی شکست فاش دی
کہ
سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود
آج بھی کوئی
اس ظاہری فاتح لشکر کے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں
جبکہ
دوسری جانب
آج بھی ہر باضمیر انسان
“یا لیتنا کنا معکم فنفوز فوزاً عظیماً” کا نعرہ بلند کر رہا ہے
اور
اس ظاہری شکست خوردہ لشکر میں شامل ہو کر
عظیم کامیابی پر فائز ہونے کیلئے بے چین ہے
کربلا کے لق و دق صحرا میں
حسینی لشکر کے تمام افراد کی شہادت
اور
اہل خانہ کی اسیری
آج بھی کیوں نمونہ عمل بنی ہوئی ہے؟
تاریخ میں ایسی ہزاروں
بلکہ
لاکھوں جنگیں ہوں گی
جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے
جبکہ کربلا میں
صرف 72 افراد کی شہادت ہوئی
ان 72 افراد کی شہادت میں
ایسا کونسا عمل پوشیدہ ہے
کہ
تاریخ کا
ہر باضمیر انسان
ان بابرکت ہستیوں کے ساتھ شامل ہونے کو
اپنے لئے باعث فضیلت سمجھتا ہے
جاری ہے













